Latest news

خیبر پختونخوا کی صورتحال پر حکومت اور اپوزیشن کی الگ الگ مشاورت

Spread the love

کاشف عباسی ,October13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 اکتوبر 2026ء

قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں سے قبل حکومت اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے خیبر پختونخوا کی صورتحال اور ملک کے سیاسی حالات پر الگ الگ مشاورتی ملاقاتیں کیں۔ اپوزیشن رہنماؤں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی وفد سے بات چیت کی۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور بالخصوص خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں شریک رہنماؤں نے صوبے کی سیاسی صورتِ حال اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق امور پر گفتگو کی۔ تاہم، دستیاب اعلامیے میں ملاقات کے دوران ہونے والے فیصلوں یا کسی مشترکہ حکمتِ عملی کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان مسلم لیگ (ق)، بلوچستان عوامی پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم لیگ (ضیا) کے پارلیمانی وفد نے ملاقات کی۔ وزیراعظم آفس کے مطابق وفد کو خیبر پختونخوا کی صورتحال اور صوبے میں امن و امان سے متعلق حکومتی اقدامات پر اعتماد میں لیا گیا۔

گورنر کی معاونت کے لیے ٹیکنوکریٹ ایڈوائزری کونسل

وزیراعظم آفس کے جاری کردہ بیان کے مطابق، خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، معیشت کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے گورنر کی معاونت کی غرض سے ایک غیر جانب دار ٹیکنوکریٹ ایڈوائزری کونسل قائم کی گئی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ وفاقی کابینہ نے باہمی مشاورت کے بعد آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت آئینی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، فراہم کردہ بیان میں کونسل کے ارکان، اختیارات، عملی طریقۂ کار اور اقدامات پر عمل درآمد کے شیڈول کی مکمل تفصیلات شامل نہیں ہیں۔

وزیراعظم آفس کے مطابق، ملاقات میں شریک اتحادی جماعتوں کے وفد نے موجودہ صورتحال میں وفاقی حکومت کی حمایت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو سراہا۔

خیبر پختونخوا کی صورتحال پر حکومت اور اپوزیشن کے الگ الگ اجلاس اس معاملے پر دونوں جانب سے جاری سیاسی مشاورت کی عکاسی کرتے ہیں۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار حکومتی اقدامات، متعلقہ آئینی طریقۂ کار اور سیاسی جماعتوں کے مؤقف پر ہوگا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

اس خبر میں حکومتی اقدامات اور اتحادی جماعتوں کے مؤقف کو وزیراعظم آفس کے بیان سے منسوب کیا گیا ہے، جبکہ اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات کی تفصیلات جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اعلامیے پر مبنی ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کا حوالہ حکومتی بیان میں دیا گیا ہے؛ ان کے تحت کیے جانے والے اقدامات کی قانونی حیثیت اور اطلاق کا تعین متعلقہ سرکاری دستاویزات اور آئینی طریقۂ کار کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔

ماخذ: جمعیت علمائے اسلام (ف) کا اعلامیہ، وزیراعظم آفس کا بیان۔