

محمود احمد, October15,2026
ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اکتوبر 2026ء
سعودی عرب نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یمن کے حوثی گروہ کو اسلحہ، تربیت اور دیگر معاونت فراہم کرکے سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ سعودی وزارتِ خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق حوثیوں کی جانب سے حالیہ عرصے میں کشیدگی میں اضافہ تہران کی حمایت کا نتیجہ ہے، تاہم سعودی عرب نے ایران کے ساتھ براہِ راست رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
وزارتِ خارجہ میں نائب وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈاکٹر راید کریملی نے جمعرات کو صحافیوں کو ورچوئل بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حوثیوں کو اسلحہ، تربیت اور معاونت فراہم کر رہا ہے۔
ان کے مطابق سعودی حکام کا خیال ہے کہ تنازع کے موجودہ مرحلے میں حوثیوں کی جانب سے کشیدگی بڑھانے کے پیچھے ایران کی حوصلہ افزائی شامل ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ تہران کی جانب سے کسی ممکنہ حل کے لیے مؤثر پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی، اس کے باوجود ریاض ایرانی حکام سے براہِ راست رابطے میں ہے۔
ڈاکٹر کریملی نے کہا کہ فی الحال ایسے آثار نظر نہیں آتے کہ ایرانی حکام کسی حل تک پہنچنے کے لیے ضروری رعایتیں دینے کی پوزیشن میں ہوں۔ ایران کی جانب سے سعودی الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
سعودی عہدیدار نے حوثیوں پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ انہوں نے حالیہ کشیدگی کے آغاز پر عمان کے دارالحکومت مسقط میں ملاقات کی سعودی دعوت مسترد کر دی تھی۔ ان کے مطابق چند ہفتے قبل ہونے والا رابطہ دونوں فریقوں کے درمیان آخری رابطہ تھا۔
ریاض ایئرپورٹ پر حملوں اور فوجی کارروائیوں کے دعوے
دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے ایک پریس کانفرنس میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں مبینہ حملوں اور اتحاد کی جوابی کارروائیوں کی تفصیلات بیان کیں۔
المالکی کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب کے مختلف ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں میں 10 ڈرون، میزائل اور دیگر پرتابہ ہتھیار استعمال کیے گئے۔
اتحاد کے ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ اس کی افواج نے یمن کے پہاڑی علاقوں میں حوثیوں کے 127 گودام تباہ کر دیے ہیں۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں ان گوداموں کی تباہی، حملوں سے ہونے والے نقصانات اور ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سے متعلق تفصیلات شامل نہیں ہیں۔
سعودی عرب کے الزامات اور عسکری اتحاد کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یمن کا تنازع علاقائی سلامتی اور سعودی عرب و ایران کے تعلقات کے لیے اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان رابطوں کے باوجود حوثیوں کی کارروائیوں اور ایران کے مبینہ کردار پر اختلافات برقرار ہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: ایران کی جانب سے الزامات کا جواب سامنے آنے تک سعودی مؤقف کی آزادانہ جانچ ممکن نہیں۔ اسی طرح ریاض ایئرپورٹ پر حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور یمن میں 127 گوداموں کی تباہی سے متعلق اعدادوشمار سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے ترجمان کے دعوے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
ماخذ: سعودی وزارتِ خارجہ کے عہدیدار کا بیان، سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے ترجمان کا بیان، بی بی سی فارسی