Latest news

بلوچستان: رخشاں ڈویژن کے کمشنر اسداللہ کاکڑ خاران سے اغوا

Spread the love

کاشف عباسی ,October16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اکتوبر 2026ء

بلوچستان کے رخشاں ڈویژن کے کمشنر کو جمعرات کو نامعلوم مسلح افراد نے ضلع خاران سے اغوا کر لیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق حالیہ دنوں میں صوبے میں اعلیٰ سرکاری شخصیات کو اغوا کرنے کا یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے، جس نے انتظامی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

بی بی سی کو ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کمشنر اسد اللہ کاکڑ کو کوئٹہ سے رخشاں ڈویژن کے ہیڈکوارٹر خاران جاتے ہوئے اغوا کیا گیا۔ اہلکار کے مطابق وہ ایک اجلاس میں شرکت کے لیے کوئٹہ آئے تھے اور اجلاس کے بعد جمعرات کو خاران کے لیے روانہ ہوئے۔ ان کی گاڑی میں ڈرائیور کے علاوہ ایک کلرک اور کیشیئر بھی سفر کر رہے تھے۔ جب گاڑی ضلع خاران کی حدود میں برشونکی کے علاقے میں پہنچی تو نامعلوم مسلح افراد نے اسے روک لیا، کلرک اور کیشیئر کو چھوڑ دیا جبکہ کمشنر اور ڈرائیور کو کسی نامعلوم مقام کی طرف لے گئے۔ اب تک کسی گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، اور حکومتِ بلوچستان کی جانب سے بھی کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔

اسی علاقے میں اس سے قبل 20 ستمبر کو خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر احمد سومرو کو بھی نامعلوم مسلح افراد نے تین دیگر افراد کے ہمراہ اغوا کیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر سمیت دو افراد کو 2 اکتوبر کو رہا کر دیا گیا، جبکہ گن مین اور ڈرائیور پہلے ہی چھوڑ دیے گئے تھے۔ اس کے بعد پنجگور کے ایڈیشنل سیشنز جج کو کوئٹہ سے پنجگور جاتے ہوئے ضلع سوراب کے علاقے سے اغوا کیا گیا۔ چند روز بعد انہیں اور ان کے ساتھ اغوا ہونے والے پولیس اہلکار کو بھی رہا کر دیا گیا۔ یوں ایک ماہ سے کم عرصے میں ایک کمشنر، ایک ڈپٹی کمشنر اور ایک جج اغوا ہو چکے ہیں۔

صوبے میں سرکاری افسران کے اغوا کا سلسلہ پرانا ہے۔ گزشتہ برس اگست میں زیارت کے اسسٹنٹ کمشنر محمد افضل اور ان کے بیٹے کو ہرنائی کے قریب اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ خاندان کے ساتھ تفریحی مقام سے واپس آ رہے تھے۔ اغوا کار ڈرائیور اور محافظ کو چھوڑ گئے اور سرکاری گاڑی کو آگ لگا دی۔ عرب نیوز کے مطابق بعد میں صوبائی حکام نے بتایا کہ اسسٹنٹ کمشنر کو قتل کر دیا گیا اور ان کی لاش دشوار گزار پہاڑی علاقے میں پھینک دی گئی، جبکہ ان کا بیٹا خود ہرنائی کے علاقے زردالو پہنچ گیا تھا اور اسے تحویل میں لے کر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ اس واقعے میں کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔

بلوچستان کئی دہائیوں سے علیحدگی پسند مسلح گروہوں کی شورش کا سامنا کر رہا ہے، اور رپورٹس کے مطابق ایسے گروہ اکثر سرکاری افسران اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں۔ بعض ماضی کے واقعات، جیسے تُمپ کے اسسٹنٹ کمشنر کے اغوا، کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی، تاہم موجودہ واقعے میں کسی گروہ کا نام سامنے نہیں آیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی چند روز قبل ہی بلوچستان اسمبلی میں کہہ چکے ہیں کہ ان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ سمجھتی ہے اور اس کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر ایک نامعلوم سینیئر سرکاری اہلکار کے بیان پر مبنی ہے؛ اغوا کاروں کی شناخت، مقصد اور کمشنر کی خیریت کے بارے میں سرکاری معلومات دستیاب نہیں۔ پس منظر کے واقعات متعلقہ میڈیا رپورٹس سے لیے گئے ہیں، اور ہر واقعے کے حالات الگ ہیں، اس لیے ان کا موجودہ واقعے سے براہِ راست تعلق ثابت نہیں۔

ماخذ: سینئر سرکاری اہلکار کا بیان.