

محمود احمد, October15,2026
ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اکتوبر 2026ء
سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کے حوثیوں نے اکتوبر کے دوران اب تک سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 20 حملے کیے ہیں۔ اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق 7 اور 11 اکتوبر کو ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر 17 افراد ہلاک اور 333 زخمی ہوئے۔
ترکی المالکی نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ریاض ایئرپورٹ پر حملوں اور حوثیوں کے خلاف اتحاد کی فوجی کارروائیوں سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔ ان کے مطابق اکتوبر میں ایئرپورٹ کو متعدد مرتبہ نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم دستیاب بیان میں تمام 20 مبینہ حملوں کی الگ الگ تفصیلات اور ان سے ہونے والے نقصانات کی مکمل وضاحت نہیں کی گئی۔
یہ اعدادوشمار سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان کی جانب سے بیان کیے گئے ہیں۔ حملوں کی نوعیت، ہتھیاروں کی تفصیلات اور جانی نقصان کے حوالے سے آزاد ذرائع سے تصدیق کی معلومات فراہم کردہ رپورٹ میں شامل نہیں ہیں۔
مسقط میں مذاکرات کی کوششیں
دوسری جانب سعودی وزارتِ خارجہ میں نائب وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈاکٹر راید کریملی نے کہا ہے کہ ریاض نے حالیہ ہفتوں کے دوران کشیدگی کم کرنے کے لیے عمان کے دارالحکومت مسقط میں حوثیوں کے ساتھ ملاقات کی درخواست کی تھی، لیکن ان کے بقول حوثیوں نے یہ دعوت مسترد کر دی۔
ڈاکٹر راید کریملی نے ایک ویڈیو بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ حوثیوں کے ساتھ آخری رابطہ چند ہفتے قبل ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ گروہ کے ساتھ براہِ راست رابطے کے ذرائع اب بھی کھلے ہوئے ہیں۔
ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب ایک طرف حوثیوں کے حملوں کے خلاف سکیورٹی اقدامات جاری رکھنے کا مؤقف رکھتا ہے، جبکہ دوسری جانب کشیدگی میں کمی کے لیے رابطوں کا راستہ بھی بند نہیں کیا گیا۔
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی
یمن میں جاری تنازع کے دوران سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کرتا ہے، جبکہ حوثی گروہ ملک کے دارالحکومت صنعا سمیت کئی علاقوں پر قابض ہے۔ اس تنازع کے اثرات یمن کی سرحدوں سے آگے بھی محسوس کیے جاتے رہے ہیں، خصوصاً سعودی عرب کی سلامتی اور خطے میں بحری و فضائی نقل و حرکت کے حوالے سے۔
ریاض ایئرپورٹ پر مبینہ حملوں اور مسقط میں ملاقات کی کوششوں سے متعلق تازہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب فوجی کارروائیوں کے ساتھ سفارتی رابطوں کی اہمیت بھی برقرار ہے۔ آئندہ صورت حال کا انحصار فریقین کے اقدامات، حملوں سے متعلق دعوؤں کی تصدیق اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والی کوششوں پر ہوگا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: ریاض ایئرپورٹ پر 20 حملوں اور 17 ہلاکتوں سمیت 333 افراد کے زخمی ہونے کے اعدادوشمار سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان سے منسوب ہیں۔ اسی طرح مسقط میں ملاقات مسترد کیے جانے کا دعویٰ سعودی وزارتِ خارجہ کے عہدیدار نے کیا ہے؛ فراہم کردہ معلومات میں حوثیوں کا ان بیانات پر ردِعمل شامل نہیں۔
ماخذ: یمنی وزیرِ اطلاعات معمر الاریانی کا بیان، حوثی میڈیا رپورٹس اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی تفصیلات۔