Latest news

دہلی میں کانگریس کی طلبہ تنظیم کے احتجاج پر پولیس کارروائی، قومی صدر ونود جاکھڑ سمیت متعدد کارکن زیرِ حراست

Spread the love

محمود احمد, October16,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اکتوبر 2026ء

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کرنے والے نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کے قومی صدر ونود جاکھڑ، کانگریس سیوا دل سے وابستہ بی وی سری نواس اور انڈین یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چِب سمیت متعدد کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ احتجاج کرنے والے کارکنوں کا مطالبہ تھا کہ تنظیم کی خواتین کارکنوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور تشدد کے واقعے پر مقدمہ درج کیا جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق، مظاہرین میں سے بعض کارکنوں کو جمعرات کی رات دیر گئے جبکہ دیگر کو جمعے کی صبح سویرے حراست میں لیا گیا۔ احتجاج پولیس اسٹیشن کے باہر کیا جا رہا تھا، جہاں کارکنوں نے مبینہ واقعے کی تحقیقات اور ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے پر دھرنا دیا ہوا تھا۔ حراست میں لیے گئے افراد میں طلبہ تنظیم اور کانگریس سے وابستہ نوجوان رہنما بھی شامل ہیں۔

این ایس یو آئی کا کہنا ہے کہ اس کی خواتین کارکنوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے باوجود پولیس نے تاحال ایف آئی آر درج نہیں کی، حالانکہ تنظیم کے رہنماؤں کی جانب سے سینئر پولیس حکام کو شکایت پیش کی جا چکی ہے۔ تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ دہلی پولیس کی ایک خاتون افسر نے خواتین کارکنوں کے ساتھ بدسلوکی کی اور تشدد کیا۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی اور دہلی پولیس کا مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔

این ایس یو آئی کا ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ

این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے کہا کہ تنظیم کے رہنماؤں نے بدھ کے روز ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس سے بھی ملاقات کی تھی، لیکن ان کے بقول اس کے باوجود شکایت پر کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

جاکھڑ کے بیان کے مطابق، تنظیم کا احتجاج اسی مطالبے کے تحت جاری تھا کہ خواتین کارکنوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے معاملے کو باضابطہ طور پر درج کیا جائے اور اس کی قانونی تحقیقات کی جائیں۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ شکایت موصول ہونے کے بعد متعلقہ حکام کو اس کا جائزہ لے کر قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے۔

این ایس یو آئی نے پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج نہ کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارکنوں کی حراست سے انصاف کے حصول کی کوشش ختم نہیں ہوگی۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر مقدمہ درج نہ کیا گیا تو احتجاجی تحریک کو مزید تیز کیا جا سکتا ہے۔

تنظیم کے مطابق، اس کی جدوجہد کا مقصد مبینہ واقعے کی تحقیقات، خواتین کارکنوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کی وضاحت اور ذمہ داری کا تعین کرانا ہے۔ احتجاجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شکایت پر کارروائی نہ ہونے کی صورت میں وہ اپنے مطالبات متعلقہ حکام تک پہنچانے کے لیے مزید اقدامات کریں گے۔

پولیس کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا

اس معاملے میں دہلی پولیس کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ پولیس کی وضاحت کے بغیر یہ طے کرنا ممکن نہیں کہ شکایت پر اب تک کیا کارروائی کی گئی، ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی وجوہات کیا ہیں یا حراست میں لیے گئے کارکنوں کے خلاف کیا قانونی بنیاد اختیار کی گئی۔

یہ معاملہ سیاسی اور طلبہ تنظیموں کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ پولیس کے احتساب اور خواتین کارکنوں کی حفاظت سے متعلق سوالات بھی اٹھاتا ہے۔ تاہم کسی بھی الزام کی حتمی حیثیت کا تعین متعلقہ شواہد، فریقین کے بیانات اور قانونی تحقیقات کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔

دہلی میں احتجاج کے دوران کارکنوں کو حراست میں لیے جانے کے واقعے کے بعد اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ پولیس شکایت پر کیا قدم اٹھاتی ہے اور آیا تنظیم کے مطالبے کے مطابق مقدمہ درج کیا جاتا ہے یا نہیں۔ اگر پولیس اپنا مؤقف جاری کرتی ہے تو اس سے واقعے کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: این ایس یو آئی نے خواتین کارکنوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور تشدد کے الزامات عائد کیے ہیں، لیکن دہلی پولیس کا جواب اور آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔ اسی طرح حراست میں لیے گئے کارکنوں کی قانونی حیثیت اور ان کے خلاف ممکنہ کارروائی سے متعلق مکمل تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔ اس خبر میں الزامات کو تنظیم کے مؤقف کے طور پر بیان کیا گیا ہے، ثابت شدہ حقائق کے طور پر نہیں۔

ماخذ: نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا، ونود جاکھڑ کا بیان، پریس ٹرسٹ آف انڈیا (PTI)