

محمود احمد, October16,2026
ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اکتوبر 2026ء
سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے انہیں مشورہ دیا ہے کہ سعودی ہوائی اڈوں پر حملوں کے خطرات اور ممکنہ سفری رکاوٹوں کے پیشِ نظر سفر کے متبادل ذرائع پر بھی غور کریں۔ سفارت خانے کے مطابق سعودی عرب آنے یا یہاں سے روانہ ہونے والے امریکی شہری حالات کے مطابق ذاتی گاڑی، ٹرین یا بس استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔
سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے انتباہ میں کہا گیا ہے کہ ہوائی اڈوں پر حملوں، فضائی حدود کی بندش اور پروازوں کی منسوخی کے باعث مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سفر کا منصوبہ بناتے وقت سکیورٹی صورتِ حال اور ٹرانسپورٹ کی دستیابی کو مدنظر رکھیں۔
الرٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ فضائی سفر کے متبادل ذرائع استعمال کرنے کا فیصلہ حالات، دستیاب سفری سہولتوں اور متعلقہ حکام کی ہدایات کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے۔ ممکنہ پروازوں کی منسوخی یا ہوائی اڈوں تک رسائی متاثر ہونے کی صورت میں مسافروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی روانگی، آمد اور زمینی سفر کے انتظامات کے بارے میں بروقت معلومات حاصل کریں۔
سعودی سول ڈیفنس کی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید
امریکی سفارت خانے نے سعودی عرب میں موجود امریکی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سعودی سول ڈیفنس کی جانب سے موبائل فون پیغام رسانی کے نظام کے ذریعے بھیجے جانے والے قومی انتباہی پیغامات کو سنجیدگی سے لیں اور ان میں دی گئی ہدایات پر عمل کریں۔
ایسے پیغامات کسی ممکنہ خطرے، سکیورٹی صورتِ حال میں تبدیلی یا شہریوں کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر سے متعلق معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ پیغامات موصول ہونے پر ان کی ہدایات غور سے پڑھیں اور متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی اقدامات کو ترجیح دیں۔
سفارت خانے نے اس بات پر بھی توجہ دلائی ہے کہ ہوائی اڈوں پر حملوں کے خدشات کے علاوہ فضائی حدود کی عارضی بندش اور پروازوں کے نظام میں خلل سفری منصوبوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں مسافروں کو ایئر لائنز اور متعلقہ حکام سے اپنی پرواز کی صورتِ حال کی تصدیق کرتے رہنا چاہیے۔ صرف پہلے سے طے شدہ ٹکٹ یا سفر کے شیڈول پر انحصار کرنے کے بجائے تازہ ہدایات سے باخبر رہنا بھی اہم ہے۔
حملوں کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے سے گریز کی ہدایت
سکیورٹی الرٹ میں امریکی شہریوں کو ڈرون اور میزائل حملوں کے واقعات، متاثرہ مقامات اور ان کے اثرات کی تصاویر لینے، ویڈیوز بنانے یا ایسی فوٹیج سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے بھی گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
سفارت خانے کے مطابق بعض امریکی شہریوں کو ان ضوابط کی خلاف ورزی کے باعث گرفتار کیا جا چکا ہے جن کے تحت سرکاری عمارتوں، ہوائی اڈوں اور حملوں سے متاثرہ مقامات کی تصاویر بنانا شامل ہے۔ اس تنبیہ کا مقصد شہریوں کو ایسے اقدامات سے بچانا ہے جو مقامی قوانین کی خلاف ورزی کا سبب بن سکتے ہیں یا حساس مقامات کی سکیورٹی سے متعلق خدشات پیدا کر سکتے ہیں۔
سفارت خانے نے خبردار کیا ہے کہ کسی واقعے کی ویڈیو بنانا یا اسے آن لائن شیئر کرنا محض ذاتی سرگرمی نہیں سمجھا جا سکتا، خصوصاً جب معاملہ میزائل حملوں، ڈرون سرگرمیوں، ہوائی اڈوں یا سرکاری تنصیبات سے متعلق ہو۔ اس لیے امریکی شہریوں کو چاہیے کہ وہ حساس مقامات پر فوٹوگرافی اور ویڈیو ریکارڈنگ سے متعلق مقامی قوانین اور پابندیوں کی پابندی کریں۔
مسافروں کے لیے احتیاطی تدابیر
سعودی عرب میں موجود یا وہاں سفر کرنے کا ارادہ رکھنے والے امریکی شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ روانگی سے پہلے اپنی ایئر لائن سے پرواز کی تصدیق کریں اور ممکنہ تاخیر، منسوخی یا سفری پابندیوں کے بارے میں تازہ معلومات حاصل کریں۔ اگر زمینی سفر کا متبادل اختیار کیا جائے تو اس کی دستیابی، راستے کی صورتِ حال اور متعلقہ حفاظتی ہدایات کی تصدیق بھی ضروری ہے۔
شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنے موبائل فون فعال رکھیں، ہنگامی پیغامات پر نظر رکھیں اور کسی بھی خطرے کی صورت میں مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔ اسی طرح غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے اور حساس مقامات کی تصاویر شیئر کرنے سے گریز کرنا بھی اہم ہے۔
امریکی سفارت خانے کے اس انتباہ میں بنیادی توجہ شہریوں کی حفاظت، سفری منصوبہ بندی اور مقامی ضوابط کی پابندی پر مرکوز ہے۔ تاہم الرٹ میں ہر ہوائی اڈے یا ہر زمینی راستے کی صورتِ حال یکساں قرار نہیں دی گئی، اس لیے مسافروں کو اپنے مخصوص سفر کے بارے میں الگ سے معلومات حاصل کرنی چاہییں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یہ انتباہ امریکی سفارت خانے کی جانب سے امریکی شہریوں کے لیے جاری کردہ حفاظتی مشوروں سے متعلق ہے۔ ذاتی گاڑی، ٹرین یا بس کا استعمال ہر صورت میں محفوظ یا دستیاب ہونے کی ضمانت نہیں؛ سفر سے پہلے مقامی حکام اور متعلقہ ٹرانسپورٹ فراہم کرنے والوں کی تازہ ہدایات کی تصدیق ضروری ہے۔ تصاویر اور ویڈیوز سے متعلق پابندیوں کی خلاف ورزی قانونی کارروائی کا سبب بن سکتی ہے۔
ماخذ: سعودی عرب میں امریکی سفارت خانہ، سعودی سول ڈیفنس