

کاشف عباسی ,October16,2026
مشرقِ وسطیٰ (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اکتوبر 2026ء
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس سمندری علاقوں میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی اطلاعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی (یو کے ایم ٹی او) کو موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق 5 سے 11 اکتوبر کے درمیان 12 جہازوں پر حملوں کی اطلاع دی گئی۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے بعد کسی ایک ہفتے کے دوران رپورٹ ہونے والے حملوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔
اس سے پہلے والے ہفتے میں 10 جہازوں نے حملوں یا سکیورٹی واقعات کی اطلاع دی تھی۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ اتوار کو ایک ہی روز میں چھ جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئیں، جو رپورٹ ہونے والے واقعات میں ایک غیر معمولی اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ 12 اکتوبر کے بعد سے مزید چار حملوں کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں، جس سے خطے میں تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات کی شدت ظاہر ہوتی ہے۔
یو کے ایم ٹی او کی رپورٹس میں درج واقعات کی بنیاد پر حملوں کی زمانی ترتیب تیار کی گئی ہے۔ تاہم ان اعداد و شمار کو ایک تخمینہ سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ بعض رپورٹس میں حملے کی اصل تاریخ درج ہے، جبکہ بعض میں واقعے کی اطلاع موصول ہونے کی تاریخ استعمال کی گئی ہے۔ اس فرق کے باعث مختلف ادوار کے واقعات کا براہِ راست موازنہ کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔
آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کی بحالی سست
تجارتی جہازوں پر حملوں میں اضافے کے ساتھ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں گزشتہ ماہ دیکھی جانے والی بحالی کی رفتار بھی سست پڑ گئی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ خلیج فارس کے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔
جہازوں کو حملوں کا خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں شپنگ کمپنیاں اپنے راستوں، روانگی کے اوقات اور حفاظتی انتظامات پر نظرثانی کر سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں سامان کی ترسیل میں تاخیر، بیمہ اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ اور توانائی کی عالمی فراہمی میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں سست روی کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتیں رسد، طلب، جغرافیائی سیاسی حالات اور مستقبل میں سپلائی کے امکانات سے متاثر ہوتی ہیں۔ اگر اس راستے پر جہاز رانی طویل عرصے تک متاثر رہتی ہے تو اس کے اثرات تیل کی قیمتوں اور توانائی درآمد کرنے والے ممالک کی معیشتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
ایران کی حکمتِ عملی اور امریکی بحری نگرانی
ماہرین کے مطابق ایران آبنائے ہرمز پر زیادہ کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کے تحت تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ان کے تجزیے کے مطابق حملوں میں اضافہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والی جہاز رانی پر دباؤ بڑھانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ تاہم ہر واقعے کی ذمہ داری اور اس کے محرکات کا تعین متعلقہ شواہد اور سرکاری تحقیقات کی بنیاد پر کیا جانا ضروری ہے۔
دوسری جانب امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے سے گزرنے والے ان ٹینکروں کی تعداد بڑھا دی ہے جنہیں امریکی افواج ایرانی حملوں کے خطرے سے بچاتے ہوئے اپنی نگرانی میں گزرنے میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت جاری رکھنا اور اہم بحری راستے میں مزید رکاوٹوں کے خطرے کو کم کرنا بتایا گیا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جہازوں پر حملوں کی اطلاعات آبنائے ہرمز سے نسبتاً دور سمندری علاقوں سے بھی سامنے آ رہی ہیں۔ اس صورتِ حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطرات صرف ایک محدود مقام تک نہیں رہ سکتے، جس کے باعث جہاز رانی کی کمپنیوں اور بحری سکیورٹی اداروں کو وسیع تر علاقے میں نگرانی اور حفاظتی اقدامات پر توجہ دینا پڑ رہی ہے۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ، جسے سینٹ کام کہا جاتا ہے، نے کہا ہے کہ حملوں کے باوجود آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری آمدورفت جاری ہے۔ کمانڈ کے مطابق امریکی افواج اور علاقائی شراکت داروں کے مربوط حفاظتی انتظامات کے تحت جہازوں کی نقل و حرکت برقرار ہے۔ اس بیان میں بحری راستے کو فعال رکھنے اور تجارتی سرگرمیوں کے تسلسل کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان
مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتِ حال کے باعث تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کا رجحان بھی دیکھا گیا ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق جمعہ کو برینٹ خام تیل کی قیمت 105.42 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پر جہاز رانی کے خطرات، رسد میں ممکنہ رکاوٹوں اور خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کے خدشات اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ تیل کی قیمتوں میں تبدیلی کی کئی وجوہات ہوتی ہیں، تاہم آبنائے ہرمز میں بڑھتے ہوئے خطرات عالمی توانائی منڈی کے لیے اہم تشویش ہیں۔ درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک میں قیمتوں کا دباؤ ایندھن، بجلی، ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی لاگت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
موجودہ صورتِ حال میں اہم سوال یہ ہے کہ آیا تجارتی جہازوں پر حملوں کی تعداد میں اضافہ جاری رہتا ہے یا حفاظتی اقدامات اور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں واقعات میں کمی آتی ہے۔ آنے والے دنوں میں جہاز رانی کی صورتِ حال، تیل کی ترسیل کے اعداد و شمار اور عالمی منڈی میں قیمتوں کی سمت خطے کے معاشی اور سکیورٹی حالات کے اہم اشارے ہوں گے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یو کے ایم ٹی او کی رپورٹس میں بیان کردہ تعداد موصول ہونے والی اطلاعات پر مبنی ہے؛ ہر واقعے کی نوعیت، تاریخ اور ذمہ داری کی الگ تصدیق ضروری ہے۔ برینٹ خام تیل کی 105.42 ڈالر فی بیرل قیمت فراہم کردہ رپورٹ میں جمعے کے نرخ کے طور پر بیان کی گئی ہے، اسے مستقل یا موجودہ لمحے کی قیمت نہیں سمجھنا چاہیے۔ آبنائے ہرمز کی صورتِ حال میں تبدیلی عالمی توانائی کی تجارت اور بحری سلامتی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماخذ: برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی (UKMTO)، امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM)، روئٹرز