

محمود احمد, October16,2026
عدن (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اکتوبر 2026ء
یمن کے جنوبی شہر عدن میں واقع معاشیق صدارتی محل کمپلیکس پر میزائل حملے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور 16 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ یمنی وزیرِ صحت کے مطابق یہ حملہ جمعرات کے روز کیا گیا، جس کے بعد علاقے میں سکیورٹی کی صورتِ حال اور حکومتی تنصیبات کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔ یمنی حکام نے حملے کا الزام حوثی گروپ انصار اللہ پر عائد کیا ہے، تاہم واقعے کی مکمل تفصیلات اور حملے کے تمام پہلوؤں کی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔
معاشیق صدارتی محل عدن میں واقع ایک اہم حکومتی کمپلیکس ہے، جہاں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کا ہیڈ کوارٹر قائم ہے۔ اس مقام کو نشانہ بنائے جانے سے یمن میں جاری تنازع کے دوران سرکاری تنصیبات کی سکیورٹی اور سیاسی قیادت کے تحفظ کے حوالے سے نئے سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
یمنی وزارتِ اطلاعات کے مطابق حملے کے وقت وزیرِ اعظم شایع الزندانی اور حکومت کے دیگر ارکان محفوظ رہے۔ حکومتی بیان میں بتایا گیا کہ حملے کے باوجود وزیرِ اعظم اور کابینہ کے ارکان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ ایک حکومتی وزیر نے، جنہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، بتایا کہ الزندانی حملے کے وقت صدارتی محل میں موجود تھے، لیکن وہ محفوظ رہے۔
لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد صدارتی محل پر پہلا حملہ
یمنی حکام کے مطابق لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد معاشیق صدارتی محل کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا حملہ ہے۔ اس پیش رفت نے اس خدشے کو نمایاں کیا ہے کہ یمن میں جاری تصادم اب اہم حکومتی مراکز تک بھی پھیل سکتا ہے۔
صدارتی محل کمپلیکس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہاں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے مرکزی حکومتی امور انجام دیے جاتے ہیں۔ اس نوعیت کی تنصیبات پر حملے سے حکومتی سرگرمیوں، انتظامی امور اور سکیورٹی انتظامات پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، اگرچہ حکام کے مطابق وزیرِ اعظم اور دیگر حکومتی عہدیدار حملے میں محفوظ رہے۔
یمن میں طویل عرصے سے جاری تنازع نے ملک کے مختلف علاقوں میں سیاسی تقسیم اور سکیورٹی کے مسائل کو گہرا کیا ہے۔ مختلف فریقوں کے درمیان جھڑپوں اور حملوں کے باعث شہری آبادی اور سرکاری اداروں کو مسلسل خطرات کا سامنا رہا ہے۔ عدن میں صدارتی محل کو نشانہ بنانے کا واقعہ اسی وسیع تر کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق وزیرِ صحت نے کی
یمنی وزیرِ صحت کے بیان کے مطابق حملے میں پانچ افراد جان سے گئے جبکہ 16 افراد زخمی ہوئے۔ تاہم دستیاب معلومات میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی شناخت، ان کی سرکاری یا شہری حیثیت اور زخمیوں کی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
حملے کے بعد زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے اور واقعے سے متعلق مزید معلومات جمع کرنے کی ضرورت ہے۔ حکام کی جانب سے اگر متاثرین کی شناخت اور نقصان کی تفصیلات جاری کی جاتی ہیں تو واقعے کے انسانی اثرات کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے گا۔
یہ بھی واضح ہونا باقی ہے کہ میزائل کس مقام سے داغا گیا، صدارتی محل کے احاطے میں کن حصوں کو نقصان پہنچا اور حملے کے وقت وہاں موجود دیگر افراد پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے۔ ان تفصیلات کے سامنے آنے سے واقعے کی نوعیت اور اس کے سکیورٹی نتائج کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
علاقائی کشیدگی میں اضافے کا خدشہ
عدن میں صدارتی محل پر حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے تنازع کے مختلف فریقوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ اہم حکومتی کمپلیکس کو نشانہ بنانے کا واقعہ سیاسی اور سکیورٹی حالات پر اثر انداز ہو سکتا ہے، خصوصاً اگر اس کے بعد جوابی کارروائیوں یا مزید حملوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔
یمن میں پائیدار امن کے لیے طویل عرصے سے سیاسی مذاکرات اور تنازع کے حل کی کوششوں پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ ایسے حملے ان کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں اور فریقوں کے درمیان اعتماد کی بحالی میں رکاوٹ پیدا کر سکتے ہیں۔
تاحال دستیاب بیان میں حملے کے بعد حکومت کی جانب سے کسی ممکنہ جوابی کارروائی یا نئے سکیورٹی اقدامات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ آئندہ صورتِ حال کا انحصار حکومتی ردعمل، حملے کی تحقیقات اور یمن میں متحارب فریقوں کے اگلے اقدامات پر ہوگا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یمنی وزیرِ صحت کے مطابق حملے میں پانچ افراد ہلاک اور 16 زخمی ہوئے، جبکہ وزارتِ اطلاعات نے وزیرِ اعظم شایع الزندانی اور دیگر حکومتی ارکان کے محفوظ رہنے کی اطلاع دی ہے۔ حملے کا الزام حوثی گروپ پر عائد کیا گیا ہے، تاہم اس کی مکمل آزادانہ تصدیق اور ذمہ داری سے متعلق تمام تفصیلات دستیاب نہیں۔ واقعے کے بعد مزید سرکاری معلومات سامنے آنے پر صورتِ حال واضح ہو سکتی ہے۔
ماخذ: یمنی وزارتِ صحت، یمنی وزارتِ اطلاعات، یمنی حکومت کے ایک وزیر کا بیان