Latest news

ایران پر حملہ ہوا تو ردعمل پہلے سے زیادہ تباہ کن ہوگا، محسن رضائی کی امریکہ اور اسرائیل کو وارننگ

Spread the love

محمود احمد, October18,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اکتوبر 2026ء

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو اس مرتبہ ملک کا ردعمل پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور تباہ کن ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے ایک نئی فوجی حکمتِ عملی اور آپریشنل منصوبہ تیار کر لیا ہے، جو ان کے بقول گزشتہ 12 روزہ اور 40 روزہ جنگوں کے مقابلے میں بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

محسن رضائی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں امریکی اور اسرائیلی حکام کی جانب سے مبینہ دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کا نیا آپریشنل منصوبہ ان روایتی اصولوں کے مطابق نہیں ہوگا جن سے اس کے مخالفین واقف ہیں۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران کسی ممکنہ نئی فوجی کارروائی کی صورت میں اپنے ردعمل کے طریقۂ کار میں تبدیلی لانے کا دعویٰ کر رہا ہے۔

تاہم ایرانی عہدیدار نے اپنی بیان کردہ نئی حکمتِ عملی کی عملی تفصیلات، اس میں شامل فوجی صلاحیتوں یا ممکنہ اہداف کے بارے میں واضح معلومات فراہم نہیں کیں۔ اس لیے ان کے بیان کو ایران کی جانب سے دی گئی سیاسی اور عسکری تنبیہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ کسی مخصوص کارروائی کی تصدیق کے طور پر۔

ایران کی جانب سے سخت ردعمل کی وارننگ

محسن رضائی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور خطے میں ممکنہ فوجی کارروائی کے حوالے سے قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کے تنازعات کے تناظر میں تہران کی قیادت مسلسل یہ مؤقف پیش کرتی رہی ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے تیار ہے۔

رضائی نے اپنے بیان میں گزشتہ جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نئی حکمتِ عملی ان سے بھی زیادہ تباہ کن ہو سکتی ہے۔ ان کے بیان میں استعمال کیے گئے الفاظ ایران کی جانب سے مخالفین کو خبردار کرنے کی کوشش کے طور پر سامنے آئے ہیں، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی کہ نئی حکمتِ عملی کس حد تک تیار ہے یا اس میں کون سے نئے فوجی طریقے شامل کیے گئے ہیں۔

فوجی حکمتِ عملی کے ماہرین کے لیے ایسے بیانات کا جائزہ لیتے وقت سیاسی پیغام اور حقیقی عملی صلاحیت کے درمیان فرق کرنا ضروری ہوتا ہے۔ کسی ملک کی جانب سے سخت ردعمل کی دھمکی اس کے ارادے کا اظہار تو ہو سکتی ہے، لیکن اس سے خود بخود یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کے پاس ہر بیان کردہ کارروائی کو عملی شکل دینے کی مکمل صلاحیت بھی موجود ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی برقرار

ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں اختلافات اور سکیورٹی خدشات ایک عرصے سے موجود ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ ایران کی کشیدگی بھی خطے کے سیاسی اور عسکری ماحول کو متاثر کرتی رہی ہے۔ حالیہ بیانات نے ممکنہ نئی کارروائیوں کے بارے میں خدشات کو مزید نمایاں کیا ہے، تاہم کسی نئے حملے کے آغاز یا اس کے وقت سے متعلق مصدقہ اعلان فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔

ایسی صورتِ حال میں سخت بیانات کے نتیجے میں سفارتی رابطوں کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ اگر فریقین کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ رابطے برقرار رہیں تو غلط فہمیوں کو کم کرنے اور ممکنہ تصادم کو روکنے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب، اگر دھمکیوں اور جوابی بیانات کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو خطے میں غیر یقینی صورتِ حال برقرار رہ سکتی ہے۔

ایران کی جانب سے اپنی دفاعی تیاریوں کا ذکر اس کے مخالفین کے لیے ایک پیغام بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ تہران کسی نئی کارروائی کی صورت میں جواب دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم اس پیغام کے عملی نتائج کا انحصار فریقین کے آئندہ اقدامات، فوجی تیاریوں اور سفارتی کوششوں پر ہوگا۔

عباس عراقچی کا امریکی پیشکش پر مؤقف

دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے امریکہ کی تازہ ترین پیشکش کا تاحال باضابطہ جواب نہیں دیا، تاہم اس پر غور جاری ہے۔ ان کا بیان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ فوجی کشیدگی سے متعلق سخت بیانات کے ساتھ سفارتی امکانات بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔

عراقچی کے بیان میں پیشکش کی تفصیلات، اس کے مندرجات یا جواب دینے کے لیے کسی حتمی مدت کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس لیے یہ واضح نہیں کہ امریکی پیشکش میں کن امور پر بات کی گئی ہے اور ایران کی جانب سے ممکنہ جواب کس نوعیت کا ہو سکتا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی ممکنہ سفارتی پیش رفت کے لیے دونوں جانب کے مؤقف اور مطالبات اہم ہوں گے۔ اگر مذاکرات یا رابطوں میں پیش رفت ہوتی ہے تو اس سے کشیدگی کم کرنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، تاہم اس مرحلے پر کسی معاہدے یا تنازع کے حل کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔

خطے کی صورتِ حال پر عالمی توجہ

ایران کی جانب سے سخت ردعمل کی وارننگ اور امریکی پیشکش پر غور جاری رہنے کی اطلاع ایک ساتھ سامنے آنے سے خطے کی صورتِ حال کے دو اہم پہلو نمایاں ہوتے ہیں: ایک طرف ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات ہیں، جبکہ دوسری طرف سفارتی رابطوں کے ذریعے اختلافات کم کرنے کا امکان بھی موجود ہے۔

خطے میں کسی نئی فوجی کارروائی کے اثرات صرف ایران، امریکہ اور اسرائیل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے علاقائی سلامتی، توانائی کی منڈیوں، تجارتی راستوں اور دیگر ممالک کے تعلقات پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے متعلقہ ممالک کی جانب سے دیے جانے والے بیانات اور عملی اقدامات پر عالمی سطح پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

فی الحال محسن رضائی نے ایران کی نئی حکمتِ عملی کو پہلے سے زیادہ تباہ کن قرار دیا ہے، جبکہ عباس عراقچی نے امریکی پیشکش پر غور جاری رہنے کی بات کی ہے۔ آنے والے دنوں میں سفارتی رابطوں اور فریقین کے عملی اقدامات سے یہ اندازہ لگایا جا سکے گا کہ صورتِ حال تصادم کی طرف بڑھتی ہے یا مذاکرات کے لیے مزید گنجائش پیدا ہوتی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: محسن رضائی کا بیان ایران کی جانب سے ممکنہ حملے کے جواب میں سخت ردعمل کی وارننگ ہے۔ نئی حکمتِ عملی کی تفصیلات اور اس کی عملی صلاحیت کے بارے میں آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔ دوسری جانب عباس عراقچی کے مطابق امریکی پیشکش پر غور جاری ہے، لیکن اس پیشکش کے مندرجات یا کسی ممکنہ معاہدے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ماخذ: محسن رضائی کا بیان، عباس عراقچی کا بیان، ایرانی حکام کے بیانات