

محمود احمد, October18,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اکتوبر 2026ء
پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے الگ الگ ٹیلیفونک گفتگو کی ہے، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتِ حال، علاقائی سلامتی، سفارتی رابطوں اور باہمی تعاون کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے مطابق ان رابطوں میں علاقائی مسائل کے حل کے لیے مسلسل مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا گیا، جبکہ مصری وزیرِ خارجہ کے ساتھ گفتگو میں سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت بھی کی گئی۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسحاق ڈار اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خطے کی تازہ صورتِ حال اور بغداد میں جاری اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس پر گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رابطے برقرار رکھنے اور سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
پاکستانی وزیرِ خارجہ نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پیچیدہ مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق متعلقہ ممالک کے درمیان مسلسل رابطے غلط فہمیوں کو کم کرنے اور مسائل کے حل کے لیے مشترکہ راستے تلاش کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ سے علاقائی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال
اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کے درمیان گفتگو میں بغداد میں جاری او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کو بھی اہمیت حاصل رہی۔ او آئی سی مسلم ممالک کے درمیان سیاسی، سفارتی اور دیگر شعبوں میں تعاون کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے، جہاں رکن ممالک مشترکہ مسائل پر اپنے مؤقف کا تبادلہ کرتے ہیں۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ تاہم بیان میں گفتگو کے دوران زیرِ بحث آنے والے تمام معاملات، کسی ممکنہ مشترکہ اقدام یا کسی نئے معاہدے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
علاقائی صورتِ حال میں تبدیلیوں کے پیشِ نظر پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے اہمیت رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مسلسل مکالمہ سرحدی معاملات، علاقائی سلامتی اور وسیع تر سفارتی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس رابطے میں سفارت کاری پر زور دیے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق خطے کے مسائل پر رابطہ جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔
مصر کے وزیرِ خارجہ سے گفتگو، سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ
پاکستان کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے بھی ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ دفترِ خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کی۔
گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور مصر سعودی عرب کی سلامتی کو خطے کے استحکام سے جڑا ہوا اہم معاملہ سمجھتے ہیں۔
سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان کشیدگی نے خطے میں سکیورٹی خدشات کو بڑھایا ہے۔ سعودی عرب پر حملوں کی مذمت اور اس کی سلامتی کے لیے حمایت کا اعادہ اس علاقائی تناظر میں سامنے آیا ہے۔ تاہم دفترِ خارجہ کے بیان میں اس گفتگو کے نتیجے میں کسی مخصوص مشترکہ دفاعی اقدام یا عملی منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
آر-4 فریم ورک کے تحت تعاون بڑھانے پر زور
اسحاق ڈار اور بدر عبدالعاطی نے پاکستان، مصر، ترکی اور سعودی عرب پر مشتمل آر-4 فریم ورک کے تحت تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی امور پر رابطہ و تعاون بڑھانے کے لیے اس فریم ورک کے آئندہ اجلاس کا جلد انعقاد کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
آر-4 فریم ورک کے ذریعے چاروں ممالک کے درمیان علاقائی معاملات پر مشاورت اور تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے آئندہ اجلاس کے بارے میں تبادلۂ خیال سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور مصر اس پلیٹ فارم کو سفارتی رابطوں اور علاقائی امور پر مشترکہ مشاورت کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔
تاہم آئندہ اجلاس کی حتمی تاریخ، مقام اور ایجنڈے سے متعلق تفصیلات دفترِ خارجہ کے بیان میں نہیں دی گئیں۔ ان امور کے بارے میں مزید معلومات متعلقہ ممالک کے آئندہ اعلانات سے سامنے آ سکتی ہیں۔
سفارت کاری اور علاقائی رابطوں کی اہمیت
پاکستانی وزیرِ خارجہ کی دونوں گفتگوؤں میں ایک مشترکہ پہلو علاقائی چیلنجز کے حل کے لیے رابطے اور سفارت کاری کی اہمیت تھا۔ ایران کے ساتھ گفتگو میں خطے کی صورتِ حال اور او آئی سی اجلاس پر تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ مصر کے ساتھ رابطے میں سعودی عرب کی سلامتی اور آر-4 فریم ورک کے تحت تعاون پر توجہ دی گئی۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث علاقائی ممالک کے درمیان مشاورت اور سفارتی رابطوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ایسے رابطے ممالک کو اپنے مؤقف بیان کرنے، مشترکہ خدشات پر گفتگو کرنے اور مسائل کے حل کے لیے ممکنہ راستے تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کے ساتھ رابطوں کا تسلسل اس کی علاقائی سفارت کاری کا حصہ ہے۔ تاہم ان گفتگوؤں کے عملی نتائج کا اندازہ آئندہ سفارتی اقدامات، آر-4 اجلاس سے متعلق پیش رفت اور خطے کی صورتِ حال میں ہونے والی تبدیلیوں کی بنیاد پر ہی لگایا جا سکے گا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: دفترِ خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے ایرانی اور مصری وزرائے خارجہ سے الگ الگ گفتگو کی۔ ایران کے ساتھ رابطے میں علاقائی صورتِ حال، او آئی سی اجلاس اور سفارت کاری پر بات ہوئی، جبکہ مصر کے ساتھ گفتگو میں سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت اور آر-4 تعاون زیرِ بحث آیا۔ دستیاب بیان میں کسی نئے معاہدے، مشترکہ فوجی اقدام یا آئندہ اجلاس کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ماخذ: پاکستان کا دفترِ خارجہ، اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کے درمیان گفتگو سے متعلق بیان، اسحاق ڈار اور بدر عبدالعاطی کے درمیان گفتگو سے متعلق بیان