

محمود احمد, October21,2026
سینٹ پیٹرزبرگ (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اکتوبر 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بدھ کے روز روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کریں گے۔ اس اہم ملاقات میں روس اور یوکرین کے درمیان کئی برس سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی تجاویز اور ممکنہ امن معاہدے کے امکانات پر بات چیت متوقع ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ، یوکرین اور یورپی ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں میں تیزی آئی ہے اور روس کی جانب سے امن تجاویز پر ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
وٹکوف کی روسی صدر سے ملاقات یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ہونے والی بات چیت کے ایک روز بعد ہو رہی ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے اوسلو میں ہونے والے مذاکرات کو مثبت اور تعمیری قرار دیا تھا۔ ان مذاکرات میں یوکرین کے مستقبل، جنگ روکنے کے ممکنہ طریقوں اور اگلے سفارتی اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یوکرین اور اس کے یورپی اتحادیوں کا کہنا ہے کہ اوسلو میں زیرِ بحث آنے والی تجاویز پر اب روس کے جواب کا انتظار ہے۔ تاہم ان تجاویز کی مکمل تفصیلات اور روس کی جانب سے انہیں قبول کرنے یا مسترد کرنے کے بارے میں تاحال کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔
اوسلو مذاکرات کے بعد روس کی جانب توجہ
اوسلو میں منگل کو ہونے والی بات چیت میں فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب بھی شریک تھے۔ انہوں نے کہا کہ امن کے حصول کے لیے پیش کی گئی تجاویز پر حقیقی پیش رفت ہوئی ہے، تاہم انہوں نے مذاکرات کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
اسٹب نے اس عمل میں صبر اور محتاط سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت کے باوجود جنگ کے خاتمے کے لیے مزید بات چیت اور متعلقہ فریقوں کے درمیان اتفاقِ رائے ضروری ہوگا۔
اوسلو میں ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس میں اسٹیو وٹکوف نے شرکت نہیں کی تھی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں حصہ لیا۔ بعد ازاں ایک امریکی عہدیدار نے مذاکرات کو انتہائی نتیجہ خیز اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ، یوکرین اور یورپی ممالک کے درمیان اگلے اقدامات کے حوالے سے عملی سطح پر نمایاں ہم آہنگی موجود ہے۔
اب وٹکوف کی صدر پوتن سے ملاقات کو اس سفارتی عمل کا اہم مرحلہ سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ روسی قیادت کا ردعمل ہی ان تجاویز پر مزید پیش رفت کی سمت واضح کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ دوبارہ شروع
مذاکرات سے قبل امریکہ اور یوکرین کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کا معاملہ بھی زیرِ بحث رہا ہے۔ یوکرین اس سے پہلے امریکہ پر انٹیلی جنس شیئرنگ روکنے کا الزام عائد کر چکا تھا، تاہم واشنگٹن نے اس الزام کو حیران کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔
منگل کو صدر زیلنسکی نے کہا کہ روسی میزائل حملوں سے متعلق امریکہ کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ اس پیش رفت کو یوکرین اور امریکہ کے درمیان دفاعی و سکیورٹی رابطوں کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔
انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ میزائل حملوں کے بارے میں پیشگی آگاہی، خطرات کا اندازہ لگانے اور دفاعی تیاریوں میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم اس بات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں کہ معلومات کے تبادلے کا دائرہ کیا ہے، کن اداروں کے درمیان رابطے بحال ہوئے ہیں یا اس تعاون کے لیے کیا شرائط طے کی گئی ہیں۔
امریکہ، یوکرین اور یورپ میں ہم آہنگی کی کوشش
اوسلو میں ہونے والے مذاکرات کے بعد امریکی عہدیدار کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن، کیف اور یورپی اتحادی امن تجاویز پر مشترکہ حکمتِ عملی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان رابطوں میں ممکنہ معاہدے کے نکات، جنگ روکنے کے انتظامات اور آئندہ سفارتی اقدامات جیسے معاملات اہم ہو سکتے ہیں۔
تاہم یورپی ممالک اور یوکرین کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر روس کی رضامندی ابھی واضح نہیں۔ کسی بھی امن معاہدے کے لیے متعلقہ فریقوں کے درمیان بنیادی شرائط پر اتفاق، ان پر عمل درآمد کا طریقۂ کار اور ممکنہ خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے انتظامات اہم ہوں گے۔
روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے ہونے والی کوششوں میں علاقائی سلامتی اور مستقبل کے دفاعی انتظامات بھی اہم موضوعات بن سکتے ہیں۔ تاہم موجودہ مذاکرات میں ان معاملات پر کسی حتمی فیصلے یا معاہدے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
پوتن اور وٹکوف کی ملاقات پر نظریں
سینٹ پیٹرزبرگ میں ہونے والی متوقع ملاقات میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ صدر پوتن اوسلو میں زیرِ بحث آنے والی تجاویز پر کیا ردعمل دیتے ہیں اور آیا روس مزید مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرتا ہے۔ امریکی خصوصی ایلچی کی یہ ملاقات سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کر سکتی ہے، لیکن اسے جنگ کے خاتمے کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔
جنگ کے خاتمے کے لیے صرف مذاکرات میں پیش رفت کافی نہیں ہوگی بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات، فریقوں کے درمیان اعتماد اور کسی بھی ممکنہ معاہدے پر عمل درآمد ضروری ہوگا۔ فی الحال امن تجاویز کی تفصیلات اور روس کے باضابطہ ردعمل کا انتظار ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: اسٹیو وٹکوف اور ولادیمیر پوتن کی ملاقات بدھ کے روز متوقع بتائی گئی ہے، جبکہ اوسلو مذاکرات کو امریکی عہدیدار اور فن لینڈ کے صدر نے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ تاہم کسی حتمی امن معاہدے، جنگ بندی یا روس کی جانب سے تجاویز قبول کرنے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ماخذ: امریکی حکام کے بیانات، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا بیان، فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب کا بیان