Latest news

ایران سے درآمدات تاحال بند، پاکستان نے برآمدات کے لیے سرحد عارضی طور پر کھول دی، ایل پی جی بحران کا خدشہ

Spread the love

منصور احمد,October21,2026

گوادر (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اکتوبر 2026ء

پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت جزوی طور پر بحال ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم ایران سے پاکستان آنے والی درآمدی اشیا کی آمدورفت تاحال بند ہے۔ بلوچستان کے سرحدی اضلاع کیچ اور چاغی کے دو سرکاری اہلکاروں اور مقامی تاجروں کے مطابق پاکستانی حکام نے سرحد کو عارضی طور پر صرف برآمدات کے لیے کھولا ہے، جبکہ درآمدات کی بحالی کے بارے میں ابھی کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔

سرحدی تجارت کی صورتِ حال ایسے وقت میں اہم ہو گئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی گزرگاہوں کی بندش کے باعث بڑی تعداد میں مال بردار گاڑیاں سرحد کے دونوں جانب پھنسی ہوئی ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ درآمدات کی بندش سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور ایران سے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی ترسیل رکنے کے باعث پاکستان میں اس ایندھن کی دستیابی اور قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

کیچ اور چاغی کے دو سینئر سرکاری اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سرحد کو برآمدات کے لیے عارضی طور پر کھولا گیا ہے، لیکن ایران سے درآمدات کی اجازت تاحال نہیں دی گئی۔ اس معاملے پر ابھی تک کوئی باضابطہ سرکاری نوٹیفکیشن یا اعلامیہ بھی جاری نہیں ہوا، جس کے باعث سرحدی تجارت کی مکمل بحالی کے بارے میں صورتِ حال واضح نہیں ہے۔

گبد ریمدان بارڈر پر برآمدات کی اجازت

گوادر کے گبد ریمدان بارڈر پر پاکستانی تاجروں کی تنظیم کے چیئرمین عبدالغفور ہوت کے مطابق منگل کے روز ایک سینئر فوجی افسر نے گوادر کا دورہ کیا، جہاں تاجروں سے ملاقات میں سرحد کی بندش سے پیدا ہونے والی مشکلات اور دیگر امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

عبدالغفور ہوت نے بتایا کہ منگل کی دوپہر کے بعد پاکستانی حکام نے گبد ریمدان بارڈر کو برآمدات کے لیے کھول دیا، جس کے بعد بعض مال بردار گاڑیوں کو آگے جانے کی اجازت دی گئی۔ تاہم ان کے مطابق ایران سے پاکستان آنے والی درآمدی گاڑیوں کی آمدورفت اب بھی بند ہے۔

تاجر رہنما نے مطالبہ کیا کہ سرحد کو درآمدات کے لیے بھی کھولا جائے تاکہ دونوں جانب کاروباری سرگرمیاں معمول پر آ سکیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ ایک یا دو روز میں درآمدات کی بحالی کے حوالے سے بھی پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم یہ ان کی توقع ہے اور اس بارے میں کسی حتمی سرکاری فیصلے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

دوسری جانب گوادر کی ضلعی انتظامیہ سے سرحد کی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں رابطے کی کوشش کی گئی، لیکن حکام کی جانب سے کال موصول نہیں کی گئی۔ اس وجہ سے درآمدات کی بحالی کے شیڈول اور سرحد کھولنے کی شرائط کے بارے میں سرکاری وضاحت سامنے نہیں آ سکی۔

ایران کا مؤقف: سرحدی تبادلے جاری ہیں

ایران کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان علی زینی وند نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ سرحدی تبادلے جاری ہیں اور ان میں مکمل تعطل نہیں آیا۔ ایرانی وزارتِ داخلہ کے بیان کے مطابق بعض ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی تجارت میں مختلف نوعیت کی رکاوٹیں پیدا ہوتی رہتی ہیں، جن میں کچھ قدرتی یا تکنیکی وجوہات کی بنا پر بھی سامنے آ سکتی ہیں۔

علی زینی وند نے یہ بھی کہا کہ بعض رکاوٹیں امریکہ کی جانب سے ہمسایہ ممالک پر دباؤ کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ ایرانی حکام کا مؤقف ہے، جبکہ فراہم کردہ معلومات میں اس دعوے کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔

پاکستان کے ساتھ سرحدی تجارت پر بات کرتے ہوئے ایرانی ترجمان نے کہا کہ پاکستانی حکومت نے بعض تکنیکی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق مسائل، خصوصاً مالیاتی نظام سے جڑے چیلنجز، کی نشاندہی کی ہے جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق امید ہے کہ یہ مسائل جلد دور ہو جائیں گے اور دوطرفہ تبادلے مکمل طور پر بحال ہو سکیں گے۔

ایرانی وزارتِ داخلہ کے اس بیان اور پاکستانی تاجروں و سرکاری اہلکاروں کی جانب سے درآمدات بند ہونے کی اطلاعات میں فرق موجود ہے۔ اس صورتِ حال میں سرحدی تجارت کی عملی حالت، بالخصوص درآمدی گاڑیوں کی نقل و حرکت، کے بارے میں دونوں جانب سے واضح اور باضابطہ معلومات اہم ہیں۔

آرمی چیف کے دورے کے بعد بھی صورتِ حال غیر واضح

پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران کے بعد سرحدی گزرگاہوں کی بحالی کے بارے میں بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ تاہم ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نے دعویٰ کیا تھا کہ منگل کی رات نو بجے تک سرحدی گزرگاہیں بند تھیں۔

فارس کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی کسٹمز حکام نے دونوں جانب مذاکرات کے باوجود گزرگاہیں دوبارہ کھولنے سے گریز کیا۔ اس دعوے کے برعکس پاکستانی تاجروں اور سرکاری اہلکاروں کی تازہ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ برآمدات کے لیے عارضی طور پر راستہ کھول دیا گیا ہے، جبکہ درآمدات بدستور بند ہیں۔

ان متضاد اطلاعات کے باعث یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ سرحد کی مکمل بحالی اور صرف برآمدات کی اجازت دو الگ صورتیں ہیں۔ موجودہ معلومات کے مطابق برآمدی گاڑیوں کو محدود اجازت ملنے کی اطلاعات ہیں، لیکن درآمدات کی مکمل بحالی کا سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا۔

ایل پی جی کی ترسیل متاثر، قیمتوں میں اضافے کا خدشہ

گوادر چیمبر آف کامرس کے سابق صدر شمس الحق کے مطابق سرحد کھلنے کے بعد بعض برآمدی گاڑیوں کو روانگی کی اجازت دی گئی، جن میں وسطی ایشیائی ریاستوں کی جانب جانے والی گاڑیاں بھی شامل تھیں۔ تاہم ایران سے درآمدات بند ہونے کے باعث ایل پی جی لے جانے والے متعدد ٹینکر ایرانی جانب پھنسے ہوئے ہیں۔

شمس الحق نے خبردار کیا کہ ہفتے کے روز سے ایل پی جی کی گاڑیوں کی آمد رکنے کے باعث پاکستان میں اس ایندھن کی رسد متاثر ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق کراچی، لاہور اور دیگر شہروں میں طلب اور رسد کے فرق کی وجہ سے ایل پی جی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ضلع چاغی کے سرحدی شہر تفتان سے تعلق رکھنے والے تاجر رہنما حاجی شوکت عیسیٰ زئی نے بتایا کہ ایران کی جانب پاکستان کے لیے ایل پی جی لے جانے والی تقریباً 1,500 گاڑیاں کھڑی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایل پی جی کی کھپت کا تقریباً 80 فیصد ایران سے وابستہ ہے، اس لیے اگر سرحدی تجارت طویل عرصے تک بند رہی تو ملک میں ایل پی جی کی قلت مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

یہ اعدادوشمار تاجروں کے فراہم کردہ اندازوں پر مبنی ہیں اور ان کی آزادانہ سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ تاہم اگر بڑی تعداد میں ٹینکرز کی آمد مسلسل رکی رہتی ہے تو اس سے مقامی منڈی میں رسد متاثر ہونے اور قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

درآمدات کی بحالی تاجروں کا اہم مطالبہ

پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت بلوچستان کے تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور متعدد کاروباری شعبوں کے لیے اہم ہے۔ سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے گاڑیوں کی نقل و حرکت، مال کی ترسیل اور کاروباری ادائیگیوں کا نظام متاثر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایندھن جیسی ضروری اشیا کی فراہمی میں تعطل عام صارفین تک بھی اثرات پہنچا سکتا ہے۔

تاجر برادری چاہتی ہے کہ سرحد کو درآمدات کے لیے بھی کھولا جائے اور تجارتی سرگرمیوں کو معمول پر لانے کے لیے واضح طریقۂ کار کا اعلان کیا جائے۔ فی الحال برآمدات کے لیے عارضی اجازت کی اطلاعات موجود ہیں، لیکن درآمدی گاڑیوں کی آمد کب بحال ہوگی، اس بارے میں حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: سرحد کو برآمدات کے لیے عارضی طور پر کھولنے اور درآمدات بند رہنے کی اطلاعات بلوچستان کے سرکاری اہلکاروں اور تاجروں کے بیانات پر مبنی ہیں۔ ایرانی وزارتِ داخلہ کا مؤقف ہے کہ پاکستان کے ساتھ سرحدی تبادلے جاری ہیں۔ درآمدات کی مکمل بحالی، ایل پی جی ٹینکروں کی تعداد اور قیمتوں میں اضافے سے متعلق اعدادوشمار کی آزادانہ سرکاری تصدیق ابھی ضروری ہے۔

ماخذ: بلوچستان کے سرکاری اہلکار، گبد ریمدان بارڈر کے تاجر رہنما عبدالغفور ہوت، گوادر چیمبر آف کامرس کے سابق صدر شمس الحق، حاجی شوکت عیسیٰ زئی، ایرانی وزارتِ داخلہ