Latest news

مریم نواز کی زیرِ صدارت اجلاس، آٹے کا 20 کلو تھیلا بند کرکے 10 کلو پیک متعارف کرانے کا فیصلہ

Spread the love

منصور احمد,October23,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اکتوبر 2026ء

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت خصوصی اجلاس میں صوبے بھر میں عوام کو معیاری اشیائے خورونوش مناسب نرخوں پر فراہم کرنے، آٹے اور گندم کی اسمگلنگ روکنے اور گندم کی کاشت کے مقررہ اہداف مکمل کرنے کے لیے اہم ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اجلاس میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی فروخت بند کرکے صرف 10 کلو پیک متعارف کرانے، رمضان المبارک میں کیلا، سیب اور کھجور کنٹرول نرخوں پر دستیاب بنانے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی مؤثر نگرانی کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں خوراک کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے، منڈی مارٹ کے قیام، آف سیزن پھلوں اور سبزیوں کو محفوظ کرنے کے لیے ڈی ہائیڈریشن منصوبے اور مارکیٹوں سے نکلنے والے فضلے کو کارآمد وسائل میں تبدیل کرنے جیسے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ کھلے دودھ کی معیاری فروخت یقینی بنانے اور ملاوٹ کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

آٹے کے 10 کلو پیک کی فراہمی کا فیصلہ

اجلاس کا اہم فیصلہ صوبے بھر میں آٹے کے 20 کلو تھیلے کی فروخت بند کرکے 10 کلو پیک متعارف کرانا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو اپنی ضرورت اور استطاعت کے مطابق آٹا خریدنے کی سہولت فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔ چھوٹے پیک کی دستیابی سے ان گھرانوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے جو ایک وقت میں زیادہ مقدار خریدنے کے بجائے محدود مقدار میں اشیائے ضروریہ خریدتے ہیں۔

تاہم اس فیصلے کے عملی اثرات کا انحصار 10 کلو پیک کی قیمت، بازاروں میں دستیابی، آٹے کے معیار اور سپلائی کے تسلسل پر ہوگا۔ اگر چھوٹے پیک مناسب نرخوں پر دستیاب ہوں تو کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے خریداری میں سہولت پیدا ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ضروری ہوگا کہ پیکنگ اور تقسیم کے اضافی اخراجات صارفین پر غیر ضروری بوجھ نہ بنیں۔

وزیراعلیٰ نے آٹے اور گندم کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بھی اقدامات کی ہدایت کی۔ گندم کی غیر قانونی نقل و حرکت سے مقامی منڈیوں میں رسد متاثر ہونے اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا خدشہ رہتا ہے۔ اس لیے ذخیرہ اندوزی، غیر قانونی ترسیل اور سپلائی چین میں بے ضابطگیوں کی نگرانی کو اہم قرار دیا گیا۔

گندم کی کاشت کے اہداف اور غذائی تحفظ

اجلاس میں گندم کی کاشت کے مقررہ اہداف مکمل کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ گندم پاکستان کی بنیادی غذائی فصلوں میں شامل ہے اور اس کی پیداوار آٹے کی دستیابی، قیمتوں اور غذائی تحفظ سے براہِ راست تعلق رکھتی ہے۔ کاشت کے اہداف پورے کرنے کے لیے کسانوں کو مناسب زرعی رہنمائی، معیاری بیج، پانی اور دیگر ضروری وسائل کی دستیابی اہم ہوتی ہے۔

حکومت کے لیے فصل کی پیداوار اور منڈی میں رسد کے درمیان توازن برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر پیداوار میں کمی ہو یا گندم کی نقل و حرکت میں رکاوٹ پیدا ہو تو آٹے کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے کاشت کے اہداف کے ساتھ ذخائر، ترسیل اور مارکیٹ کی طلب پر مسلسل نظر رکھنا بھی اہم ہوگا۔

رمضان میں پھل کنٹرول نرخوں پر فراہم کرنے کا منصوبہ

اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران کیلا، سیب اور کھجور مناسب اور کنٹرول نرخوں پر فراہم کرنے کے لیے اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔ رمضان میں ان اشیائے خورونوش کی طلب بڑھنے کے باعث قیمتوں میں اضافے کا خدشہ رہتا ہے، جس سے صارفین خصوصاً محدود آمدنی والے خاندان متاثر ہو سکتے ہیں۔

کنٹرول نرخوں کے مؤثر نفاذ کے لیے ضروری ہوگا کہ پھلوں کی سپلائی مناسب رہے، منڈیوں میں قیمتوں کی نگرانی کی جائے اور سرکاری نرخ ناموں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ صرف نرخ مقرر کرنا کافی نہیں؛ دکانوں پر اشیا کی دستیابی، معیار اور فروخت کی قیمت کی جانچ بھی ضروری ہے۔

اجلاس میں منڈی مارٹ کے قیام سے متعلق پیش رفت کا جائزہ بھی لیا گیا۔ اس طرح کے منصوبوں کا مقصد صارفین کو اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے منظم مارکیٹ فراہم کرنا اور قیمتوں میں شفافیت بہتر بنانا ہو سکتا ہے۔ تاہم منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس کے عملی انتظام، سپلائی کے نظام اور صارفین کو حاصل ہونے والی حقیقی سہولت پر ہوگا۔

آف سیزن پھلوں اور سبزیوں کو محفوظ کرنے کا منصوبہ

اجلاس میں آف سیزن پھلوں اور سبزیوں کے لیے ڈی ہائیڈریشن پراجیکٹ پر بھی غور کیا گیا۔ ڈی ہائیڈریشن کے عمل میں خوراک سے نمی کم کرکے اسے زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس طریقے سے بعض پھلوں اور سبزیوں کے ضیاع کو کم کیا جا سکتا ہے اور انہیں موسم گزرنے کے بعد بھی استعمال کے قابل رکھا جا سکتا ہے۔

اگر اس منصوبے کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے تو کسانوں اور کاروباری افراد کو اپنی پیداوار محفوظ رکھنے کے بہتر مواقع مل سکتے ہیں۔ اس سے فصل کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصان میں کمی اور خوراک کے ضیاع کو محدود کرنے میں مدد ملنے کا امکان ہے۔ منصوبے کے لیے مناسب ذخیرہ گاہوں، جدید مشینری، معیار کی جانچ اور محفوظ پیکنگ کا انتظام بھی ضروری ہوگا۔

اجلاس میں مارکیٹ ویسٹ، یعنی منڈیوں اور بازاروں سے نکلنے والے فضلے کو کارآمد وسائل میں تبدیل کرنے کے اقدامات پر بھی بات کی گئی۔ پھلوں، سبزیوں اور دیگر نامیاتی فضلے کو مناسب طریقے سے جمع کرکے کمپوسٹ یا دیگر مفید مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں، بشرطیکہ اس کے لیے صحت اور ماحول کے تحفظ کے تقاضے پورے کیے جائیں۔

کھلے دودھ کی فروخت اور معیار کی نگرانی

وزیراعلیٰ کی زیرِ صدارت اجلاس میں کھلے دودھ کے معیار کو بہتر بنانے اور صارفین کو محفوظ دودھ فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ کھلے دودھ کی فروخت میں معیار کی جانچ، صفائی، ذخیرہ کرنے کے مناسب طریقوں اور ملاوٹ کی روک تھام کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

اس مقصد کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے باقاعدہ معائنوں، نمونوں کی جانچ اور خلاف ورزیوں پر ضابطے کے مطابق کارروائی کی ضرورت ہوگی۔ صارفین کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ دودھ کی فروخت کے مقامات پر حفظانِ صحت کے اصولوں کی پابندی کی جائے اور معیار سے متعلق قواعد پر یکساں عمل درآمد ہو۔

اجلاس کے فیصلوں کا مجموعی مقصد خوراک کی دستیابی، قیمتوں کی نگرانی، پیداوار کے تحفظ اور صارفین کو معیاری اشیا فراہم کرنے کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔ ان اقدامات کے حقیقی نتائج کا اندازہ ان کے عملی نفاذ، بازاروں میں قیمتوں، اشیا کی دستیابی اور متعلقہ اداروں کی نگرانی کی کارکردگی سے لگایا جا سکے گا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

اجلاس میں آٹے کے 10 کلو پیک، رمضان میں بعض پھلوں کی کنٹرول نرخوں پر فراہمی، گندم کی اسمگلنگ کی روک تھام اور خوراک کے ضیاع میں کمی سے متعلق فیصلوں اور ہدایات کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان اقدامات کے عوام پر اثرات کا انحصار حتمی نرخوں، نفاذ کے طریقۂ کار اور بازاروں میں مسلسل نگرانی پر ہوگا۔

ماخذ: حکومتِ پنجاب، وزیراعلیٰ پنجاب کے زیرِ صدارت اجلاس کی تفصیلات