Latest news

پاکستان کا انسدادِ دہشت گردی میں انسانی حقوق کے احترام پر زور، ماورائے سرحد ہلاکتوں اور سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

Spread the love

محمود احمد, October22,2026

اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اکتوبر 2026ء

پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کے دوران بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے احترام کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو جبر، امتیازی سلوک یا کسی دوسرے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ پاکستانی مندوب نے ماورائے سرحد ہلاکتوں، دہشت گردی کی مالی معاونت اور سرحد پار سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر اقدامات کا مطالبہ بھی کیا۔

اقوامِ متحدہ میں دہشت گردی کے انسداد کے دوران انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے فروغ و تحفظ سے متعلق خصوصی نمائندے کے ساتھ انٹرایکٹو مکالمے میں پاکستان کا مؤقف کونسلر محمد جواد اجمل نے پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کی حمایت کرتا ہے، تاہم ان اقدامات کو بین الاقوامی قانون کے مطابق ہونا چاہیے اور ان کے دوران انسانی حقوق کے تحفظ کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔

پاکستانی مندوب کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں قانونی اصولوں کی پابندی ضروری ہے تاکہ سکیورٹی کے نام پر شہریوں کے حقوق متاثر نہ ہوں اور ریاستی اختیارات کا استعمال بین الاقوامی ذمہ داریوں سے متصادم نہ ہو۔

دہشت گردی کی تعریف اور حقِ خودارادیت میں فرق

محمد جواد اجمل نے زور دیا کہ دہشت گردی کی تعریف بین الاقوامی قانون سے مطابقت رکھنی چاہیے۔ ان کے مطابق غیر ملکی قبضے کے تحت زندگی گزارنے والی اقوام کے حقِ خودارادیت کے جائز استعمال اور دہشت گردی کے درمیان واضح فرق قائم کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کا حوالہ دیتے ہوئے غیر ملکی قبضے کی صورتِ حال میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق خدشات اجاگر کیے۔ ان کے بیان کے مطابق جبری بے دخلی، آبادکاروں کے تشدد، آبادی کے تناسب میں تبدیلی، من مانی حراست، تشدد اور غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک سے متعلق اطلاعات پر توجہ دی جانی چاہیے۔

یہ مؤقف پیش کرتے ہوئے پاکستان نے کہا کہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی نظام کو ایسے تمام معاملات کا جائزہ لینا چاہیے جہاں شہریوں کی بنیادی آزادیوں اور قانونی تحفظات سے متعلق خدشات سامنے آئیں۔

ابھرتے ہوئے انتہا پسند گروہوں اور پابندیوں کے نظام پر توجہ

پاکستانی مندوب نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی کے نظام کو پرتشدد قوم پرستانہ، انتہائی دائیں بازو کے اور اسلاموفوبیا پر مبنی گروہوں سمیت ابھرتے ہوئے خطرات سے بھی مؤثر انداز میں نمٹنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردوں کی فہرستوں میں نام شامل کرنے کے عمل میں مذہب یا بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوعہ کسی دوسری بنیاد پر امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔

محمد جواد اجمل نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پابندیوں کے نظام میں شفافیت اور منصفانہ قانونی کارروائی کے تحفظات مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے 1267 پابندیوں کے نظام کے تحت محتسب کے مینڈیٹ کو وسعت دینے اور اس کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ فہرست میں شامل کیے جانے والے افراد اور اداروں سے متعلق فیصلوں میں مناسب طریقۂ کار اور منصفانہ جائزے کو یقینی بنایا جا سکے۔

پاکستان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف عالمی اقدامات میں قانونی شفافیت اور جواب دہی برقرار رکھنا ضروری ہے، تاکہ پابندیوں کے نظام پر اعتماد قائم رہے اور اس کے فیصلوں میں غیر ضروری امتیاز کا امکان کم ہو۔

ماورائے سرحد ہلاکتوں اور دہشت گردی کی مالی معاونت پر تشویش

پاکستانی مندوب نے انسدادِ دہشت گردی کے نام پر کی جانے والی ماورائے سرحد ہلاکتوں کی مہمات پر تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں اور ریاستی سرپرستی میں تشدد سے متعلق سنگین سوالات پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے قانونی جواز اور واضح جواب دہی ضروری ہے۔

انہوں نے دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے ورچوئل اثاثوں اور کرپٹو کرنسیوں کی مؤثر نگرانی اور ضابطہ کاری پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید مالیاتی ذرائع کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون اور مالی لین دین کی نگرانی اہم ہے۔

اس کے ساتھ انہوں نے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سمیت دہشت گرد گروہوں کو اسلحہ، ہتھیاروں اور ڈرونز کی فراہمی میں ملوث جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف جواب دہی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان نے ایسے نیٹ ورکس کی مالی معاونت، اسلحے کی فراہمی اور سہولت کاری کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت اجاگر کی۔

افغانستان سے متعلق سلامتی کے خدشات

محمد جواد اجمل نے افغانستان سے جنم لینے والے علاقائی سلامتی کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان گزشتہ تین برسوں کے دوران 4,700 سے زائد جانوں کا نقصان اٹھا چکا ہے۔ انہوں نے دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنے، ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونین کو جواب دہ ٹھہرانے اور ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنانے والی سرگرمیوں کی روک تھام کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ اعداد و شمار پاکستانی مندوب کے بیان سے منسوب ہیں۔ اس حوالے سے دہشت گردی کے واقعات، ہلاکتوں کی نوعیت اور مختلف گروہوں کی سرگرمیوں کا مکمل جائزہ لینے کے لیے متعلقہ سرکاری اور بین الاقوامی ریکارڈ اہم ہوگا۔

مئی 2025 کے حملوں کا حوالہ

پاکستانی مندوب نے 6 اور 7 مئی 2025ء کی درمیانی شب پاکستان کی سرزمین پر بھارت کے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ شہری آبادیوں پر حملوں کے نتیجے میں 54 پاکستانی شہری شہید ہوئے، جن میں 15 بچے اور 13 خواتین شامل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید ہونے والوں میں شیرخوار بچے بھی شامل تھے۔

محمد جواد اجمل نے ان کارروائیوں کو پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کو شہریوں کے خلاف طاقت کے غیر قانونی استعمال کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ تفصیلات پاکستانی مندوب کے پیش کردہ مؤقف کے طور پر سامنے آئی ہیں؛ واقعے سے متعلق مختلف دعوؤں اور قانونی تشریحات کو سمجھنے کے لیے متعلقہ فریقوں کے بیانات اور دستیاب شواہد کا الگ الگ جائزہ ضروری ہے۔

آخر میں پاکستانی مندوب نے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے سے رپورٹ کی تیاری کے طریقۂ کار اور آئندہ مراحل کے بارے میں سوال کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان رپورٹنگ کے عمل، اس کے طریقۂ کار اور متعلقہ سفارشات کے بارے میں مزید وضاحت چاہتا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

پاکستان نے اقوامِ متحدہ میں انسدادِ دہشت گردی کے ساتھ انسانی حقوق، ریاستی خودمختاری، شفاف قانونی طریقۂ کار اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے معاملات کو یکجا کرتے ہوئے اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔ کشمیر، فلسطین، افغانستان اور مئی 2025ء کے حملوں سے متعلق دعوے پاکستانی مندوب کے بیان سے منسوب ہیں؛ ان کی قانونی اور واقعاتی حیثیت کا تعین متعلقہ شواہد اور بین الاقوامی قانون کے مطابق کیا جانا چاہیے۔

ماخذ: اقوامِ متحدہ، پاکستانی مندوب محمد جواد اجمل کا بیان