

محمود احمد, October23,2026
واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اکتوبر 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران اس مقصد کے لیے مبینہ جعلی حملوں، بارودی سرنگوں اور دیگر واقعات سے متعلق دعوے کر رہا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کے حوالے سے کشیدگی برقرار ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ ایران چاہتا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام مختلف واقعات اور حملوں سے متعلق ایسے دعوے کر رہے ہیں جن کا مقصد تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہو سکتا ہے۔
تاہم امریکی صدر نے اپنے بیان میں ان مبینہ واقعات کے بارے میں ایسی تفصیلات فراہم نہیں کیں جن کی بنیاد پر ان کے الزامات کی آزادانہ تصدیق کی جا سکے۔ ایران کی جانب سے ان تازہ الزامات پر ردعمل کی تفصیلات بھی فراہم کردہ معلومات میں شامل نہیں ہیں۔
آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل سے متعلق ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے اس وقت ایران سے متعلق تنازع شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیل گزر رہا ہے۔ اس بیان میں انہوں نے تیل کی ترسیل کے حجم، متعلقہ مدت یا اعداد و شمار کا کوئی تفصیلی حوالہ نہیں دیا۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ خلیج فارس کے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے عالمی منڈیوں تک پہنچنے والی توانائی مصنوعات کی بڑی مقدار اسی خطے سے گزرتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا جہازوں کو لاحق خطرات کی اطلاعات عالمی منڈی میں غیر یقینی کیفیت پیدا کر سکتی ہیں۔
تیل کی قیمتیں صرف سیاسی بیانات سے نہیں بلکہ عالمی طلب، پیداوار، ذخائر، ترسیل کے اخراجات اور مستقبل میں سپلائی متاثر ہونے کے خدشات سے بھی متاثر ہوتی ہیں۔ اگر تاجروں کو خدشہ ہو کہ کسی اہم بحری راستے سے تیل کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے تو قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، چاہے فوری طور پر ترسیل میں نمایاں کمی سامنے نہ آئی ہو۔
پاسدارانِ انقلاب کی امریکی فوج کو دھمکی
ٹرمپ کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی فوج آبنائے ہرمز میں جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھتی ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈے بھی نشانے پر آ سکتے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کی ویب سائٹ ’سپاہ نیوز‘ پر شائع ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ امریکی فوج کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر وہ اپنی موجودہ پالیسی پر عمل جاری رکھتی ہے تو تنازع خطے میں موجود امریکی اڈوں تک پھیل سکتا ہے۔
یہ دھمکی آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت اور فوجی موجودگی کے معاملے پر بڑھتے ہوئے اختلافات کی نشاندہی کرتی ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے کی سرگرمیاں، ایران کے مؤقف اور خطے میں دیگر فوجی اقدامات صورتِ حال کو مزید حساس بنا سکتے ہیں۔
تاہم پاسدارانِ انقلاب کے بیان کو ممکنہ کارروائی کے بارے میں دھمکی کے طور پر دیکھنا چاہیے؛ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ امریکی اڈوں پر حملہ کرنے کا کوئی حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔ ایسے معاملات میں اصل صورتِ حال کا اندازہ متعلقہ فریقوں کے باضابطہ بیانات اور عملی اقدامات سے لگایا جا سکتا ہے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات اور ایران پالیسی
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات صدر کی مدتِ صدارت کے دوران منعقد ہوتے ہیں اور ان کے ذریعے کانگریس کے ایوانِ نمائندگان کی تمام نشستوں اور سینیٹ کی متعدد نشستوں کے لیے انتخاب ہوتا ہے۔ ان انتخابات کے نتائج امریکی داخلی سیاست، قانون سازی اور انتظامیہ کی سیاسی پوزیشن پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ انتخابات سے پہلے تیل کی قیمتوں میں اضافہ چاہتا ہے، تاہم ان کے بیان سے اس دعوے کی تائید میں کوئی آزادانہ طور پر تصدیق شدہ ثبوت سامنے نہیں آتا۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ ایران کے اقدامات اور امریکی انتخابی ماحول کے درمیان کوئی براہِ راست تعلق موجود ہے یا نہیں۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ امریکی صارفین کے لیے ایندھن کے اخراجات بڑھا سکتا ہے اور مہنگائی کے بارے میں خدشات پیدا کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے توانائی کی قیمتیں امریکی سیاست میں اہم موضوع سمجھی جاتی ہیں۔ لیکن عالمی منڈی میں نرخوں کی تبدیلی کے کئی عوامل ہوتے ہیں، اس لیے کسی ایک ملک کو قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار قرار دینے کے لیے ٹھوس شواہد درکار ہوتے ہیں۔
عالمی توانائی کی منڈی کی توجہ خطے پر مرکوز
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل کے تاجروں، جہاز رانی کی کمپنیوں اور توانائی کی منڈیوں کی توجہ آبنائے ہرمز کی صورتِ حال پر مرکوز ہے۔ اگر تجارتی جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو بیمہ، مال برداری اور ترسیل کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر تیل کی سپلائی معمول کے مطابق جاری رہے اور کشیدگی میں کمی آئے تو قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کا امکان بھی موجود رہتا ہے۔
آئندہ دنوں میں مارکیٹ کے ردعمل کا انحصار تیل کی حقیقی ترسیل، بحری راستوں کی سلامتی، ایران اور امریکہ کے بیانات اور خطے میں فوجی سرگرمیوں پر ہوگا۔ فی الحال ٹرمپ کے الزامات اور پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی نے ایک بار پھر توانائی کی عالمی منڈی اور مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کو سیاسی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
ایران کی جانب سے امریکی انتخابات سے پہلے تیل کی قیمتیں بڑھانے کی کوشش کا الزام ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان ہے؛ فراہم کردہ معلومات میں اس کی آزادانہ تصدیق کے لیے شواہد موجود نہیں۔ اسی طرح امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے سے متعلق بیان پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی ہے، نہ کہ کسی حملے کی تصدیق۔
ماخذ: ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان، ٹروتھ سوشل، پاسدارانِ انقلاب کی ویب سائٹ سپاہ نیوز