

منصور احمد,October23,2026
لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اکتوبر 2026ء
سعودی عرب میں حوثیوں کے تازہ حملوں اور مشرقِ وسطیٰ سے توانائی کی فراہمی میں مزید خلل کے خدشات کے باعث جمعہ کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرمایہ کاروں کو تشویش ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی تیل کی پیداوار، ذخیرہ گاہوں اور بحری راستوں سے ترسیل کو متاثر کر سکتی ہے۔ سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی جانب سے ظہران میں اپنے ہیڈکوارٹر کو ممکنہ خطرے کے پیش نظر خالی کرنے کی اطلاع نے بھی صورتِ حال کی حساسیت کو نمایاں کیا ہے۔
عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کے مستقبل کے معاہدوں کی قیمت 0.5 فیصد اضافے کے بعد 113.75 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 0.7 فیصد بڑھ کر 100.13 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
اس سے ایک روز قبل، 22 اکتوبر کو، برینٹ خام تیل چار مئی کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر بند ہوا تھا۔ تازہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کی سپلائی سے متعلق خطرات عالمی منڈی میں قیمتوں پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
آرامکو کے ہیڈکوارٹر کی احتیاطی طور پر خالی کرانے کی اطلاع
سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے جمعرات کو ظہران میں واقع اپنے ہیڈکوارٹر کو ممکنہ خطرے کے پیش نظر خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا جب سعودی عرب اور یمن میں سرگرم حوثیوں کے درمیان لڑائی میں شدت آنے کی اطلاعات تھیں۔
آرامکو دنیا کے بڑے خام تیل برآمد کنندگان میں شامل ہے، اس لیے اس کی تنصیبات اور انتظامی مراکز کی سلامتی عالمی توانائی کی منڈی کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ اگر تیل کی پیداوار یا ترسیل سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچے تو اس کے اثرات عالمی سپلائی اور قیمتوں تک منتقل ہو سکتے ہیں۔
تاہم ہیڈکوارٹر کو احتیاطاً خالی کرانے کا فیصلہ بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہاں تیل کی پیداوار بند ہو گئی ہے یا کمپنی کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ اس کے حقیقی اثرات کا اندازہ پیداوار، ترسیل اور تنصیبات کی صورتِ حال سے متعلق مصدقہ معلومات کی بنیاد پر ہی لگایا جا سکتا ہے۔
خلیج فارس میں کشیدگی سے تیل کی سپلائی کے خدشات
مالیاتی ادارے آئی این جی کے تجزیہ کاروں نے جمعہ کو جاری کردہ ایک نوٹ میں کہا کہ تیل اور گیس کی منڈیاں خلیج فارس میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کے خدشات کے باعث شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان کے مطابق اگر حالات مزید خراب ہوئے تو تیل کی سپلائی پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا کہ کشیدگی میں مزید اضافے کا امکان مارکیٹ میں جغرافیائی سیاسی خطرات سے منسلک اضافی قیمت کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر فوری طور پر سپلائی میں بڑی رکاوٹ پیدا نہ بھی ہو، تب بھی ممکنہ حملوں اور ترسیل میں خلل کے خدشات قیمتوں کو بلند سطح پر رکھ سکتے ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں اس اضافے کا تعلق صرف موجودہ پیداوار سے نہیں بلکہ مستقبل میں سپلائی کے بارے میں توقعات سے بھی ہوتا ہے۔ جب خریداروں اور تاجروں کو یہ خدشہ ہو کہ کسی اہم پیداواری علاقے یا بحری راستے میں رکاوٹ آ سکتی ہے تو وہ متوقع خطرات کو قیمتوں میں شامل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
باب المندب کے قریب لڑائی اور بحری راستوں کی اہمیت
حوثیوں اور یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی قیادت والے اتحاد کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حوثیوں کی باب المندب کی جانب پیش قدمی کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
باب المندب بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان واقع ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔ اس راستے سے گزرنے والے تجارتی جہاز نہر سویز اور یورپ و ایشیا کے درمیان بحری تجارت کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہاں سکیورٹی کی صورتِ حال خراب ہونے سے جہازوں کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑ سکتے ہیں، جس سے سفر کا دورانیہ، ایندھن کی لاگت اور انشورنس اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
اگر جہاز رانی کی کمپنیوں کو خطرات زیادہ محسوس ہوں تو وہ بحری راستوں کے انتخاب پر نظرثانی کر سکتی ہیں۔ اس کا اثر نہ صرف خام تیل بلکہ دیگر تجارتی سامان کی ترسیل پر بھی پڑ سکتا ہے۔
سپلائی میں حقیقی خلل قیمتوں کا رخ طے کرے گا
ایکس ایس ڈاٹ کام کے تجزیہ کار لنہ ٹران کے مطابق اس وقت اہم عوامل میں سپلائی میں حقیقی خلل کی شدت اور معمول کی سرگرمیاں بحال کرنے میں لگنے والا وقت شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی عوامل طے کریں گے کہ مارکیٹ سپلائی کے خطرات کے عوض قیمتوں میں کتنا اضافی پریمیم شامل رکھتی ہے۔
لنہ ٹران کے مطابق اگر حملے جاری رہے اور تیل کی ترسیل میں تاخیر پیدا ہوئی تو بلند قیمتوں کو مزید مضبوط بنیاد مل سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر کشیدگی میں کمی آئے اور پیداوار و ترسیل معمول کے مطابق جاری رہے تو قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کا امکان بھی موجود ہوگا۔
لیبیا میں تیل کی پیداوار میں کمی
دوسری جانب لیبیا میں حمادہ اور تہارہ آئل فیلڈز سے زاویہ بندرگاہ تک جانے والی تیل پائپ لائن کا ایک والو بند کیے جانے کی اطلاع ہے، جس کے نتیجے میں دونوں آئل فیلڈز میں پیداوار کم ہو گئی ہے۔
لیبیا میں پیداوار میں کمی اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک ہی وقت میں عالمی منڈی کے لیے اضافی غیر یقینی صورتِ حال پیدا کر سکتی ہے۔ تاہم لیبیا کی پیداوار میں کمی کے حجم اور اس کے عالمی سپلائی پر مجموعی اثرات کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں، اس لیے اس کے اثرات کا حتمی اندازہ لگانے کے لیے مزید معلومات درکار ہوں گی۔
مجموعی طور پر تیل کی قیمتوں کا آئندہ رخ سعودی عرب اور یمن کے درمیان کشیدگی، بحری راستوں کی سلامتی، لیبیا میں پیداوار اور عالمی منڈی کو دستیاب سپلائی سے متعلق معلومات پر منحصر ہوگا۔ اگر خطرات برقرار رہے تو قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں، جبکہ کشیدگی میں کمی اور ترسیل کی بحالی سے مارکیٹ کو استحکام ملنے کا امکان ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور سپلائی کے ممکنہ خطرات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ آرامکو کے ہیڈکوارٹر کو خالی کرانے کی اطلاع تیل کی پیداوار بند ہونے کا ثبوت نہیں، جبکہ لیبیا میں پیداوار میں کمی کے عالمی اثرات کا تعین کرنے کے لیے مزید مصدقہ اعداد و شمار ضروری ہیں۔
ماخذ: روئٹرز، آئی این جی کے تجزیہ کار، ایکس ایس ڈاٹ کام