Latest news

پاکستان کا افغان طالبان کے الزامات مسترد کرنے کا اعلان، دہشت گرد حملوں کے جواب میں دفاع کا حق استعمال کرنے پر زور

Spread the love

منصور احمد,October26,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اکتوبر 2026ء

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے افغانستان میں پاکستانی کارروائیوں کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے سے متعلق الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشت گرد حملوں کے جواب میں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس کے خطرے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور افغان طالبان حکومت پر لازم ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ نے پیر 26 اکتوبر کو جاری بیان میں کہا کہ گمراہ کن معلومات اور الزامات افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس سے متعلق خدشات کو ختم نہیں کر سکتے۔ بیان کے مطابق پاکستان کی کارروائیوں کو اس کی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ ملک کو مسلسل دہشت گرد حملوں کا سامنا ہے۔

یہ ردِعمل افغان طالبان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی کے حالیہ بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ 2022 کے بعد افغانستان پر پاکستان کے حملوں کے نتیجے میں 1,119 افغان شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

افغان طالبان کے شہری ہلاکتوں سے متعلق الزامات

عبدالقہار بلخی نے امریکی ٹی وی چینل سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے کیے گئے حملوں میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ ان کے مطابق متاثرین میں کابل کے ایک بحالی مرکز پر حملے سے متاثر ہونے والے افراد بھی شامل ہیں۔

بلخی نے پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ الزامات عائد کرنے کے بجائے افغانستان کے ساتھ حقیقی سفارت کاری کے ذریعے اپنے سکیورٹی مسائل حل کرے۔ افغان طالبان حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو اپنے مسائل کے حل کے لیے ایسے اقدامات کرنے چاہییں جن سے افغان شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔

تاہم پاکستانی دفترِ خارجہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان حکومت پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی روک تھام کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے توجہ نہیں ہٹا سکتی۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ شدت پسند گروہ افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہیں۔

افغان شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے سے متعلق بیان کردہ اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں، جبکہ دونوں حکومتوں کے مؤقف میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔

پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے اعداد و شمار

پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق صرف رواں سال پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں 3,500 سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے ہزاروں شہری ماضی میں بھی شدت پسند حملوں کا نشانہ بنے ہیں اور ملک کو دہشت گردی کے خلاف طویل عرصے سے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔

دفترِ خارجہ نے دعویٰ کیا کہ بعض حملوں کی منصوبہ بندی، مالی معاونت اور کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کی گئی۔ بیان میں افغان طالبان حکومت پر ان گروہوں کو پناہ دینے اور ان کی سرگرمیوں میں معاونت کا الزام بھی عائد کیا گیا۔

پاکستان نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ذمہ دار ریاست اپنے شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو مسلسل نشانہ بنائے جانے پر خاموش نہیں رہ سکتی۔ دفترِ خارجہ کے مطابق دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور پاکستان اپنی آبادی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔

ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سے متعلق خدشات

پاکستانی دفترِ خارجہ نے اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں، بشمول مانیٹرنگ ٹیم، کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میں افغان طالبان حکومت کے زیرِ انتظام افغانستان میں متعدد دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیوں سے متعلق خدشات کا ذکر کیا جاتا رہا ہے۔

بیان میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سمیت تنظیموں کا حوالہ دیا گیا۔ پاکستان کا الزام ہے کہ افغان سرزمین سے سرگرم گروہ پاکستان کے اندر حملوں کے لیے وہاں موجود سہولتوں اور نیٹ ورکس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکومت کو ان گروہوں کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔ دوسری جانب افغان طالبان ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں اور پاکستان پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ اپنے داخلی سکیورٹی مسائل کا ذمہ دار افغانستان کو ٹھہراتا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان ان الزامات اور جوابی مؤقف کے باعث سرحدی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کے معاملات مسلسل کشیدگی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

پاکستان نے کارروائیوں کو حقِ دفاع قرار دیا

دفترِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی کارروائیاں اپنے دفاع کے حق کے تحت ناگزیر حالات میں اور آخری حل کے طور پر کی گئیں۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق ان کارروائیوں کا ہدف افغانستان میں موجود شدت پسند اور ان کے رسدی مراکز تھے۔

پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ تاہم بیان میں حالیہ کارروائیوں کے مخصوص مقامات، ان میں استعمال کیے گئے ذرائع یا ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

بین الاقوامی قانون کے تحت ریاستوں کے حقِ دفاع اور مسلح کارروائیوں میں شہریوں کے تحفظ سے متعلق الگ الگ تقاضے موجود ہیں۔ کسی کارروائی کی قانونی حیثیت کا تعین اس کے حالات، ضرورت، تناسب اور شہریوں کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان سمیت متعلقہ حقائق کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

عالمی برادری سے افغان طالبان کو جواب دہ بنانے کا مطالبہ

پاکستانی دفترِ خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور دیگر وعدوں پر عمل درآمد میں ناکامی کے معاملے پر افغان طالبان حکومت کو جواب دہ ٹھہرائے۔

بیان کے مطابق پاکستان دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے اور اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان سے سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس کی روک تھام کے لیے مؤثر تعاون ضروری ہے، کیونکہ اس مسئلے کے اثرات دونوں ممالک اور وسیع تر خطے کی سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔

موجودہ صورتِ حال میں پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان بنیادی اختلاف یہ ہے کہ اسلام آباد افغانستان میں شدت پسند گروہوں کی موجودگی کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے، جبکہ کابل پاکستانی کارروائیوں اور شہری ہلاکتوں سے متعلق الزامات اٹھاتا ہے۔ کشیدگی کم کرنے کے لیے سرحدی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور الزامات کی قابلِ اعتماد جانچ اہم معاملات رہیں گے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: اس خبر میں پاکستانی دفترِ خارجہ اور افغان طالبان کے ترجمان کے مؤقف الگ الگ منسوب کیے گئے ہیں۔ شہری ہلاکتوں، دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور کارروائیوں کے نتائج سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں؛ اس لیے انہیں متعلقہ فریقوں کے بیانات کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔

ماخذ: پاکستان کا دفترِ خارجہ، افغان طالبان وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی کا بیان، اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس سے متعلق پاکستانی دفترِ خارجہ کا حوالہ