پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے موقع پر ازبکستان کے وزیرِ خارجہ بختیار سعیدوف سے ایک اہم ملاقات کی ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ سے جاری باضابطہ بیان کے مطابق اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان قائم قریبی، دوستانہ اور مسلسل بڑھتی ہوئی سٹریٹجک شراکت داری کا دہرایا اور تمام شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کا اعادہ کیا۔
ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے تمام تر شعبوں، خاص طور پر تجارتی، معاشی، علاقائی روابط اور سیکیورٹی تعاون کو مزید فعال اور مضبوط بنانے کے مختلف عملی طریقوں اور اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
عرب جمہوریہ شام کے وزیرِ خارجہ اسد حسن الشیبانی ایک اہم سرکاری دورے پر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق شام کے وزیرِ خارجہ یہ دورہ پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی خصوصیات اور دعوت پر کر رہے ہیں۔ اسلام آباد کے نور خان ایئرپورٹ پر آمد پر معزز شامی مہمان کا پرُتپاک استقبال وزارتِ خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری برائے مشرقِ وسطیٰ اور اعلیٰ سفارتی حکام نے کیا۔
اس اہم دورے کے دوران شامی وزیرِ خارجہ کی اپنے پاکستانی ہم منصب سینیٹر اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان اور شام کے درمیان دوطرفہ سفارتی، معاشی اور تجارتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر گفتگو کی جائے گی۔ اس کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال، علاقائی امن و امان، اور بین الاقوامی فورمز پر باہمی تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سال 2027ء میں پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی ہے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق اجلاس کے دوران چیئرمین کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے نائب وزیرِ اعظم کو دارالحکومت میں جاری مختلف بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) اور ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اسحاق ڈار نے جاری تیاریوں کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو تمام تر انتظامات اور ترقیاتی کاموں کو مقررہ وقت پر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان عالمی سطح کے اس اہم اجلاس کی کامیاب اور اعلیٰ ترین معیار پر میزبانی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سربراہی اجلاس کی کارروائی کو منظم، ہموار اور کامياب بنانے کے لیے تمام وزارتی و انتظامی اداروں کے درمیان مسلسل اور قریبی رابطہ ناگزیر ہے۔ اس اہم اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ، سیکرٹری داخلہ احمد رضا سرور، چیئرمین سی ڈی اے، نیشنل کوآرڈینیٹر ایس سی او اور دیگر متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کو مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے جمعہ کے روز ٹیلی فون کر کے پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کے موقع پر خصوصی مبارکباد پیش کی ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مصری وزیرِ خارجہ نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت، حکومت اور تمام عوام کے لیے مسلسل امن، پائیدار ترقی اور خوشحالی کی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور مصر کے درمیان دہائیوں پر محیط قریبی، تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے، اعلیٰ سطحی تبادلوں کو برقرار رکھنے اور ادارہ جاتی روابط کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
علاوہ ازیں، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ نے علاقائی و بین الاقوامی اہم امور پر بھی مفصل تبادلہ خیال کیا اور مستقبل میں بھی باہمی اور عالمی فورمز پر قریبی رابطہ و مشاورت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کی آئندہ سفارتی سرگرمیوں، اعلیٰ سطح کے متوقع دوروں اور خطے و بین الاقوامی سطح پر ہونے والی اہم پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اجلاس کے دوران بالخصوص ناروے کے وزیر خارجہ کے اسلام آباد کے آنے والے اہم دورے کی تیاریوں اور انتظامات کا جامع جائزہ لیا گیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہدایت کی کہ آنے والی تمام سفارتی سرگرمیوں اور مذاکرات سے ملک کے لیے مثبت اور ٹھوس نتائج کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ شعبے موثر رابطہ کاری اور بھرپور تیاری کریں۔
اجلاس میں سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سمیت وزارتِ خارجہ کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور پاکستان کی عالمی و علاقائی سفارتی حکمتِ عملی سے متعلق نائب وزیراعظم کو بریفنگ دی۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الصباح کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں علاقائی صورتحال، مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی تازہ ترین پیش رفت اور دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق گفتگو کے دوران کویتی وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الصباح نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کے انعقاد پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو خصوصی مبارکباد پیش کی اور اس پیش رفت کو علاقائی سلامتی کے لیے اہم قرار دیا۔
ٹیلیفونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور کویت کے مابین تاریخی و برادرانہ دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے متعدد امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ ترجمان نے بتایا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری سمیت اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے پر مکمل اتفاق کیا۔
مزید برآں، دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی ابھرتی ہوئی صورتحال اور درپیش چیلنجز پر باہم مشاورت اور قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
نائب وزیراعظم اور وفاقی وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے جنوب مشرقی ایشیائی اقوام کی تنظیم کے 59 ویں یومِ تاسیس کے موقع پر پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے آسیان کے تمام رکن ممالک کی قیادت اور عوام کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ پیغام کے مطابق نائب وزیراعظم نے آسیان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر کاؤ کِم ہورن کو بھی ان کی متحرک قیادت اور خطے میں پائیدار خوشحالی و استقامت کے وژن کو فروغ دینے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ اسحاق ڈار نے اپنے پیغام میں کہا کہ ‘آسیان ڈے’ اتحاد، یکجہتی اور باہمی تعاون کے اس پائیدار جذبے کی عکاسی کرتا ہے جس نے جنوب مشرقی ایشیا کے تمام ممالک کو ایک مضبوط رشتے میں جوڑ رکھا ہے۔
سینیٹر اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان آسیان کے رکن ممالک کے ساتھ اپنی دیرینہ دوستی، سفارتی تعلقات اور اسٹریٹجک شراکت داری کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسیان علاقائی انضمام، معاشی ترقی، سماجی ہم آہنگی اور سفارتی روابط کی ایک مثالی اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ مثال بن کر ابھری ہے۔
نائب وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان اور آسیان کے تعلقات باہمی احترام، عدم مداخلت اور تعمیری روابط کے بنیادی اصولوں پر قائم ہیں۔ پاکستان نے آسیان کے زیرِ اہتمام ہونے والے تمام اہم مذاکراتی فریم ورکس اور ‘آسیان ریجنل فورم’ میں ہمیشہ متحرک کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان آسیان کے ساتھ تجارت، بلاواسطہ سرمایہ کاری، تعلیم، ثقافت، ٹیکنالوجی اور عوامی سطح پر روابط کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔ موجودہ عالمی ناگفتہ بہ حالات اور درپیش چیلنجز کے دور میں آسیان کا امن و بات چیت کا راستہ ہی واحد مؤثر حل ہے اور پاکستان خطے کی جامع ترقی و استحکام کے لیے آسیان کے قریبی اتحادی کے طور پر کام جاری رکھے گا۔
پاکستان نے بھارت کے 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے سات برس مکمل ہونے کے موقع پر دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ان تمام سیاہ اقدامات کا بنیادی مقصد بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل کرنا اور خطے کی ڈیموگرافی کو مسخ کرنا تھا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے یومِ استحصال کے موقع پر جاری کردہ باضابطہ بیان میں اس عزم کا بھرپور اعادہ کیا گیا ہے کہ پاکستان جموں و کشمیر کے غیور عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جاری ان کی منصفانہ اور تاریخی جدوجہد کی ہر سطح پر بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ بیان میں مقبوضہ وادی کے عوام کی غیر معمولی جرات، استقامت، ثابت قدمی اور طویل ریاستی جبر کے خلاف غیر متزلزل عزم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید واضح کیا کہ پاکستان، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے عین مطابق کشمیری عوام کے پیدائشی حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے اپنی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا، اور جب تک کشمیریوں کو ان کا جائز حق نہیں مل جاتا، پاکستان عالمی فورمز پر ان کا مؤثر اور توانا ترجمان بنا رہے گا۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اردن کے نائب وزیراعظم اور وزیر برائے امورِ تارکینِ وطن ایمن الصفدی کی خصوصی دعوت پر آج رات اردن کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ 5 اگست کو یروشلم (القدس) سے متعلق منعقد ہونے والے اہم وزارتی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں عرب لیگ کے رکن ممالک اور پاکستان سمیت مختلف اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ شرکت کر رہے ہیں۔ اس ہنگامی وزارتی اجلاس کا بنیادی مقصد مقبوضہ یروشلم کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال، اسرائیلی مظالم اور درپیش چیلنجز پر امتِ مسلمہ کا ایک مشترکہ، مضبوط اور متفقہ مؤقف مرتب کرنا ہے۔
دورے کے دوران اجلاس میں شریک تمام وزرائے خارجہ اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم بن الحسین سے بھی مشترکہ ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار مختلف برادر اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں فلسطین کی تازہ ترین صورتحال، مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والے بحران اور باہمی دلچسپی کے دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید کہا کہ یروشلم سے متعلق اس وزارتی اجلاس میں پاکستان کی شرکت مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی تاریخی و اصولی حمایت کا آئنہ دار ہے۔ پاکستان 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے اپنے غیر متزلزل عزم پر قائم ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔