Latest news

اسٹیٹ بینک کا شرحِ سود میں نصف فیصد اضافہ، نئی شرح 12 فیصد مقرر

Spread the love

منصور احمد,October26,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اکتوبر 2026ء

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مہنگائی کے خدشات اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال کے پیشِ نظر شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس اضافے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان کے مرکزی بینک، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس یعنی 0.5 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پالیسی ریٹ 12 فیصد ہو گیا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق یہ فیصلہ پیر کو ہونے والے مانیٹری پالیسی اجلاس میں کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد مہنگائی کے ممکنہ دباؤ کو قابو میں رکھنا اور اسے مقررہ ہدف کے اندر برقرار رکھنے کی کوشش کرنا ہے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع اور مستقبل قریب میں اس کے حل کے حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال کے باعث توانائی کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں۔ اس صورتِ حال سے پاکستان میں مہنگائی کے منظرنامے کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں، جس کے پیشِ نظر مانیٹری پالیسی سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

مرکزی بینک کے مطابق ملک میں مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے مقررہ ہدف کے اندر رکھنے کے لیے قیمتوں کے دباؤ پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ شرحِ سود میں اضافہ اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کے ذریعے معیشت میں قرض لینے، خرچ کرنے اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔

شرحِ سود میں اضافے کی بنیادی وجہ

اسٹیٹ بینک نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کو اہم خطرہ قرار دیا ہے۔ عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان جیسے درآمدات پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی مہنگی درآمد سے کاروباری لاگت اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔

توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا اثر مختلف شعبوں تک پہنچ سکتا ہے۔ صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھنے، اشیائے ضروریہ کی ترسیل مہنگی ہونے اور کاروباری اخراجات میں اضافے سے صارفین کو بھی زیادہ قیمتیں ادا کرنا پڑ سکتی ہیں۔

مرکزی بینک نے انہی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے شرحِ سود میں اضافہ کیا ہے تاکہ مہنگائی کے دباؤ کو محدود رکھنے میں مدد مل سکے۔ تاہم شرحِ سود میں اضافے کے اثرات فوری طور پر سامنے آنا ضروری نہیں، کیونکہ مالیاتی پالیسی کے اقدامات معیشت میں مختلف ذرائع سے بتدریج اثر انداز ہوتے ہیں۔

عام شہریوں اور کاروبار پر ممکنہ اثرات

شرحِ سود میں اضافے سے بینکوں کے قرضوں کی لاگت بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں کاروباری اداروں کے لیے نئے قرض حاصل کرنا یا موجودہ قرضوں کی مالی اعانت مہنگی ہو سکتی ہے۔ اس صورتِ حال میں بعض کاروبار سرمایہ کاری، توسیع یا نئے منصوبوں سے متعلق فیصلوں پر نظرِ ثانی کر سکتے ہیں۔

گھریلو صارفین کے لیے بھی قرضوں کی لاگت اہم ہے۔ اگر بینک اپنی قرضوں کی شرحوں میں اضافہ کرتے ہیں تو متغیر شرح پر قرض لینے والے افراد کی اقساط یا مالی اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔ البتہ ہر قرض پر اثر یکساں نہیں ہوتا؛ اس کا انحصار قرض کی شرائط، شرحِ سود کی نوعیت اور بینک کی پالیسی پر ہوگا۔

دوسری جانب زیادہ شرحِ سود بچت کرنے والوں کے لیے بعض ڈپازٹ مصنوعات پر بہتر منافع کا امکان پیدا کر سکتی ہے، لیکن اصل فائدہ بینک کی پیش کردہ شرح، ٹیکس اور مہنگائی کی سطح پر منحصر ہوگا۔

مہنگائی کے ہدف کو برقرار رکھنے کی کوشش

اسٹیٹ بینک نے مہنگائی کا ہدف 5 سے 7 فیصد برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ مرکزی بینکوں کے لیے شرحِ سود ایک اہم مالیاتی آلہ ہے، جس کے ذریعے معیشت میں طلب، قرضوں کے حصول اور اخراجات پر اثر ڈالا جاتا ہے۔

شرحِ سود بڑھانے سے قرض لینا نسبتاً مہنگا ہو سکتا ہے، جس سے صارفین کے اخراجات اور کاروباری سرمایہ کاری کی رفتار پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں وقت کے ساتھ قیمتوں میں اضافے کی رفتار محدود کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم توانائی کی قیمتوں جیسے بیرونی عوامل پر شرحِ سود کا براہِ راست کنٹرول محدود ہوتا ہے۔

پاکستان میں مہنگائی کی آئندہ سمت عالمی توانائی کی قیمتوں، ملکی طلب، روپے کی قدر اور دیگر معاشی عوامل سے بھی متاثر ہوگی۔ اسی لیے آنے والے مہینوں میں مہنگائی کے اعداد و شمار اور عالمی صورتِ حال مانیٹری پالیسی کے آئندہ فیصلوں کے لیے اہم رہیں گے۔

آئندہ مالیاتی پالیسی پر نظر

شرحِ سود میں تازہ اضافے کے بعد کاروباری حلقوں، قرض لینے والوں اور سرمایہ کاروں کی توجہ اس بات پر رہے گی کہ مہنگائی میں کتنی کمی آتی ہے اور توانائی کی عالمی قیمتیں کس سمت جاتی ہیں۔ اگر بیرونی دباؤ برقرار رہتا ہے تو قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی کوششیں مزید اہم ہو سکتی ہیں، جبکہ معاشی سرگرمیوں پر پڑنے والے اثرات بھی پالیسی سازوں کے لیے اہم ہوں گے۔

اسٹیٹ بینک کے تازہ فیصلے کا بنیادی مقصد مہنگائی کے خطرات کو محدود رکھنا ہے، لیکن اس کے نتائج کا اندازہ آنے والے معاشی اعداد و شمار سے ہی لگایا جا سکے گا۔ شرحِ سود میں اضافہ بذاتِ خود اس بات کی ضمانت نہیں کہ مہنگائی فوراً کم ہو جائے گی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: اسٹیٹ بینک کے مطابق شرحِ سود میں اضافے کی وجہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اور توانائی کی قیمتوں سے پیدا ہونے والے مہنگائی کے خطرات ہیں۔ اس فیصلے کے اثرات قرضوں، بچت، کاروباری سرمایہ کاری اور قیمتوں پر مختلف انداز میں مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ آئندہ صورتِ حال عالمی توانائی کی قیمتوں اور ملکی معاشی اعداد و شمار سے بھی وابستہ ہوگی۔

ماخذ: اسٹیٹ بینک آف پاکستان، مانیٹری پالیسی اجلاس کا بیان