Latest news

تہران کے تاریخی سعدآباد اجلاس کے بعد ماسکو کا تحرک: صدر ولادیمیر پوتن کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امیرِ قطر سے اہم ملاقاتیں طے

Spread the love

محمود احمد, October26,2026

ماسکو (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اکتوبر 2026ء

روس کے صدارتی محل کریملن سے جاری بیان کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن منگل 27 اکتوبر کو ماسکو میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

کریملن کے بیان میں ملاقاتوں کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم دستیاب معلومات میں ان مذاکرات کے مکمل ایجنڈے اور متوقع نتائج کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ ایران اور قطر کے رہنماؤں کے ساتھ روسی صدر کی ملاقاتیں خطے کی صورتِ حال، دوطرفہ تعلقات اور سفارتی رابطوں کے تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

تہران اجلاس کے بعد نئی سفارتی سرگرمیاں

پیر 26 اکتوبر کو ایران کے دارالحکومت تہران میں ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں خطے میں کشیدگی روکنے، سفارتی رابطوں کو فروغ دینے اور کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے پر بات چیت کی گئی۔

تہران کے سعدآباد کمپلیکس میں ہونے والے اجلاس میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی شریک ہوئے۔ پاکستان کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے شرکت کی، جبکہ سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکی کی قومی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم قالن بھی اجلاس میں موجود تھے۔

سعودی عرب نے اس سے قبل کہا تھا کہ ان مذاکرات کا مقصد کشیدگی میں اضافے کو روکنا اور کسی معاہدے تک پہنچنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اجلاس کے اختتام پر ایرانی صدر نے بھی اختلافات کے بجائے مشترکہ نکات اور مفادات پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

روس کا ممکنہ سفارتی کردار

ماسکو میں روسی صدر کی ایرانی قیادت سے ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتِ حال عالمی سفارت کاری کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔

روس اور ایران کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور دفاعی روابط موجود ہیں، جبکہ قطر بھی خطے کے مختلف تنازعات میں سفارتی رابطوں اور ثالثی کی کوششوں میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ایسے میں پوتن کی ایرانی صدر اور قطری امیر سے ملاقاتیں علاقائی حالات پر تبادلۂ خیال کا موقع فراہم کر سکتی ہیں۔

تاہم کریملن کے بیان سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ماسکو میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران کسی مخصوص امن معاہدے، جنگ بندی یا مشترکہ اقدام پر اتفاق ہو چکا ہے۔ اس حوالے سے حتمی صورتِ حال ملاقاتوں کے بعد جاری ہونے والے سرکاری بیانات سے واضح ہوگی۔

خطے میں امن کی کوششیں

تہران میں چار ممالک کے اعلیٰ حکام کی مشاورت اور اس کے اگلے روز ماسکو میں روسی صدر کی ملاقاتیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خطے کی کشیدگی پر مختلف ممالک کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں۔ ان کوششوں کی کامیابی کا انحصار متعلقہ فریقوں کے مؤقف، مذاکرات میں پیش رفت اور عملی اقدامات پر ہوگا۔

فی الحال توجہ اس بات پر ہے کہ آیا یہ ملاقاتیں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کی بحالی یا کسی مشترکہ سفارتی لائحۂ عمل کی تیاری میں مدد دیتی ہیں یا نہیں۔ کسی بھی اہم پیش رفت کی تصدیق متعلقہ حکومتوں کے باضابطہ اعلانات کے بعد ہی ممکن ہوگی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: کریملن نے ولادیمیر پوتن کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے 27 اکتوبر کو ملاقاتوں کی تصدیق کی ہے۔ ان ملاقاتوں کے مکمل ایجنڈے اور ممکنہ نتائج کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

ماخذ: کریملن، ایرانی حکام کے بیانات، سعودی عرب کا سرکاری بیان