Latest news

ایران کی امریکہ کو سخت وارننگ: نیا حملہ ہوا تو جنگ کا دائرہ وسیع ہو جائے گا

Spread the love

محمود احمد, October31,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اکتوبر 2026ء

ایران کی فوج نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے ایک بار پھر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی تو جنگ کا دائرہ موجودہ محاذوں سے آگے وسیع ہو سکتا ہے اور اس کے خاتمے کا فیصلہ واشنگٹن کے اختیار میں نہیں رہے گا۔ ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ امریکی حملے کے پیشِ نظر اپنی دفاعی اور جنگی تیاریوں کو مسلسل بہتر بنا رہا ہے۔

ایرانی فوج کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابقہ طرزِ عمل اور سفارت کاری کے حوالے سے ان کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے ایران کسی بھی امریکی اقدام پر بھروسا نہیں کر رہا۔ ان کے مطابق ایرانی فوج دشمن کی ممکنہ کارروائیوں سے بے پروا رہتے ہوئے اپنی تیاریوں کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔

محمد اکرمینیا نے خبردار کیا کہ اگر امریکی صدر نے خطے میں دھمکیوں اور اسرائیل کو اکسانے کے ذریعے کوئی نئی مہم جوئی کی تو اس کے نتائج محدود نہیں رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں جنگ کی آگ ایک وسیع علاقے تک پھیل سکتی ہے اور یہ طے کرنا بھی آسان نہیں ہوگا کہ جنگ کب ختم ہوگی۔

ایرانی فوج کی جانب سے جنگی تیاریوں میں اضافے کا دعویٰ

ایرانی فوج کے ترجمان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی رابطوں کی بحالی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ایران کی جانب سے ممکنہ نئے امریکی حملے کے خلاف سخت ردِعمل کا انتباہ ظاہر کرتا ہے کہ تہران اپنی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں کے معاملے پر سخت مؤقف برقرار رکھے ہوئے ہے۔

ترجمان نے امریکی صدر کے سابقہ بیانات اور اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران سفارتی وعدوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی فوجی تیاریوں کو مضبوط بنا رہا ہے۔ ان کے بیان میں خاص طور پر اسرائیل کا ذکر بھی کیا گیا اور الزام عائد کیا گیا کہ امریکہ خطے میں اسرائیل کی حوصلہ افزائی کے ذریعے کشیدگی میں اضافہ کر سکتا ہے۔

ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ تاہم ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کی جانب سے ممکنہ حملے کی صورت میں کن مخصوص اہداف یا علاقوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

قطر میں امریکہ اور ایران کے مذاکرات کی کوشش

دوسری جانب امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے قطری ثالثوں کی کوششیں جاری ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ سفارتی سرگرمیاں ہفتے کے روز دوحہ میں بھی جاری رہیں گی، جہاں قطر دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

قطر ماضی میں بھی مشرقِ وسطیٰ کے مختلف تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں کی بحالی کے لیے اس کی کوششیں اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات میں تعطل پیدا ہونے سے خطے میں فوجی کشیدگی کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

سفارت کاری اور فوجی تصادم کے درمیان کشیدگی

موجودہ صورتحال میں امریکہ اور ایران کے سامنے دو مختلف راستے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک طرف ایرانی فوج ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں جنگ کے وسیع ہونے کی وارننگ دے رہی ہے، جبکہ دوسری طرف قطر کے ذریعے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اگر براہِ راست مذاکرات بحال ہوتے ہیں تو اس سے جنگ بندی یا کسی وسیع تر معاہدے کی راہ نکل سکتی ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد کے باعث سفارتی عمل کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

خطے میں کسی نئی فوجی کارروائی کے اثرات خلیجی ممالک، عالمی توانائی کی ترسیل، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسی لیے قطر سمیت دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

تاحال امریکہ اور ایران کی جانب سے دوحہ میں مذاکرات کی حتمی کامیابی یا کسی نئے معاہدے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ آنے والے دنوں میں قطری ثالثی کی کوششیں اس بات کا تعین کرنے میں اہم ہو سکتی ہیں کہ دونوں فریق کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرتے ہیں یا خطہ ایک نئے فوجی تصادم کی طرف بڑھتا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

ایرانی فوج کے ترجمان کی وارننگ ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں تہران کے سخت ردِعمل کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم یہ بیان کسی نئے امریکی حملے کی تصدیق نہیں ہے۔ دوحہ میں مذاکرات سے متعلق پیش رفت بھی سفارتی ذرائع کی رپورٹ پر مبنی ہے؛ کسی حتمی معاہدے یا مذاکرات کی کامیابی کا اعلان ابھی سامنے نہیں آیا۔

ماخذ: ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا کا بیان، امریکی ویب سائٹ ایگزیوس، قطری سفارتی ذرائع