یومِ استحصالِ کشمیر: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا سلامتی کونسل کی صدر کو خط، 5 اگست 2019ء کے اقدامات واپس لینے کا مطالبہ

Spread the love

محمود احمد, August 06,2026

اقوامِ متحدہ / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 اگست 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 5 اگست 2019ء کو بھارت کی جانب سے کیے گئے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کی ساتویں برسی کے موقع پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر اور ڈنمارک کی مستقل مندوب عزت مآب کرسٹینا مارکس لاسن کو ایک اہم اور تفصیلی خط ارسال کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یہ خط رسمی طور پر سلامتی کونسل کی صدر کے حوالے کیا۔ خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارت کے 5 اگست 2019ء کے اقدامات سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جن کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو ختم کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔

نائب وزیراعظم نے خط میں سلامتی کونسل کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ وادی کی آبادیاتی (ڈیموگرافک)، سیاسی اور ثقافتی شناخت کو مسخ کرنے کی منظم سازش کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈومیسائل قوانین اور اراضی کی ملکیت کے ضوابط بدل کر تقریباً 34 لاکھ غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔

خط میں مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی زبوں حالی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، جس میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، من مانی گرفتاریوں اور پبلک سیفٹی ایکٹ ، آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون جیسے کاالے قوانین کے نفاذ کا حوالہ دیا گیا۔ علاوہ ازیں، شبیر احمد شاہ، یاسین ملک اور آسیہ اندرابی سمیت ممتاز حریت قیادت کی قید اور 16 سیاسی تنظیموں پر عائد پابندیوں کو اجاگر کیا گیا۔

مذہبی آزادی کی پامالی کا ذکر کرتے ہوئے خط میں جامع مسجد سری نگر میں نماز پر پابندی، دینی مدارس کی بندش، کمیونٹی کے 215 اسکولوں کی سرکاری تحویل اور وقف (ترمیمی) قانون کے منفی اثرات کا بھی احاطہ کیا گیا۔

نائب وزیراعظم نے متنبہ کیا کہ مقبوضہ وادی میں 7 سے 9 لاکھ بھارتی فوجیوں کی موجودگی، بھارتی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات اور سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی سے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

پاکستان نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت پر 5 اگست 2019ء کے اقدامات کی واپسی، ڈیموگرافی کی تبدیلی کی روک تھام اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مذاکراتی عمل شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔ ساتھ ہی اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مساعیٔ جمیلہ کو بروئے کار لاتے ہوئے تنازع کشمیر کے پائیدار حل میں اپنا مرکزی کردار ادا کریں۔