

محمود احمد, August 06,2026
نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 06 اگست 2026ء
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن نے نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل کے دفتر کے اشتراک سے چانسلری بلڈنگ میں یومِ استحصال کی ساتویں برسی کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب میں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے اراکین، سفارت کاروں، ماہرینِ تعلیم، طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔ مقررین نے جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کا عالمی مطالبہ دہرایا جن میں کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی ضمانت دی گئی ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی و یکطرفہ بھارتی اقدامات کو دہائیوں پر محیط جبر کو گہرا کرنے والا موڑ قرار دیا اور واضح کیا کہ تنازعے کی قانونی بنیاد اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت آج بھی برقرار ہے۔ سفیر عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے 8 اگست 2019ء کے بیان اور حالیہ موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز اٹھائی ہے اور یہ ملک کی ایک مقدس ذمہ داری ہے۔
افتتاحی کلمات میں پاکستان کے قونصل جنرل نیویارک عامر احمد اتوزئی نے کہا کہ تنازعے کا منصفانہ اور دیرپا حل سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے۔ ڈاکٹر غلام نبی فائی (سیکریٹری جنرل کشمیر آگاہی فورم) نے مقبوضہ وادی میں آبادیاتی تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ 47 لاکھ سے زائد غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کا اجرا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ انہوں نے مرحوم سید علی گیلانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر ماہرِ تعلیم شاہل کھوسو، کشمیری رہنما تاج خان اور سردار سوار خان نے بھی عالمی علمی اور پالیسی مباحث میں کشمیر کا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کرنے اور یکجہتی برقرار رکھنے پر زور دیا۔
تقریب کے دوران صدر، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ پاکستان کے یومِ استحصال کے موقع پر جاری کردہ خصوص پیغامات پڑھ کر سنائے گئے جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی نمائش کے لیے پیش کی گئی۔

