
محمود احمد, September 18,2026
ٹوکیو (نیوز اینڈ نیوز) — 18 ستمبر 2026ء
بینک آف جاپان (Bank of Japan) نے عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور افراطِ زر کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر اپنی بنیادی پالیسی شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 1.25 فیصد کر دیا ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے کیا جانے والا یہ اقدام گزشتہ 31 سالوں کے دوران شرح سود کی بلند ترین سطح کو ظاہر کرتا ہے، جو طویل عرصے سے جاری منفی و انتہائی نرم مالیاتی پالیسی سے بتدریج واپسی کا واضح ثبوت ہے۔
مرکزی بینک کے دو روزہ پالیسی اجلاس کے اختتام پر شرح سود بڑھانے کی منظوری 7 کے مقابلے میں 2 ووٹوں کی کثرت سے دی گئی۔ بینک آف جاپان نے اپنے باضابطہ بیان میں واضح کیا ہے کہ اس فیصلے کا بنیادی مقصد جاپان میں مہنگائی کی شرح کو 2 فیصد کے مقررہ ہدف کے قریب مستحکم رکھنا اور عالمی مارکیٹ میں اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خطرات سے معیشت کو محفوظ بنانا ہے۔ گورنر کازوؤ اوئیدا نے پریس بریفنگ میں عندیہ دیا کہ اگر درآمدی لاگت اور بنیادی قیمتوں کا دباؤ برقرار رہا تو شرح سود میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔
جاپان میں یہ اہم پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی تنازع کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، جس نے دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کو سخت مالیاتی تدابیر اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس سے قبل 16 ستمبر کو امریکی فیڈرل ریزرو (Federal Reserve) نے بھی اپنی شرح سود 25 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 3.75 سے 4 فیصد کی حد میں مقرر کی تھی۔ جاپانی معیشت میں اگست کے دوران بنیادی افراطِ زر 1.7 فیصد جبکہ ایندھن اور غذا کو نکال کر اہم اشاریہ 1.9 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا، جس پر کمزور ین اور مہنگے ایندھن کی وجہ سے مسلسل دباؤ موجود ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر بینک آف جاپان کے سرکاری پالیسی اعلامیے، عالمی معاشی اشاریوں اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے۔
ماخذ: بین الاقوامی بزنس ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز ٹوکیو۔