
محمود احمد, September 18,2026
واشنگٹن/تہران/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 ستمبر 2026ء
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سنگین عسکری تنازع کے تناظر میں عالمی، علاقائی اور سفارتی محاذ پر پیش رفت شدید تر ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ معاہدے کا خواہا ں ہے، تاہم وہ فی الحال اس کے لیے تیار نہیں، جبکہ امریکہ صرف اپنی مقرر کردہ شرائط پر ہی کوئی معاہدہ طے کرے گا۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مکہ، مدینہ اور مسجد اقصیٰ جیسے مقدس مقامات کو سیاسی مفادات یا علاقائی کشیدگی بڑھانے کے لیے استعمال کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے تمام فریقین کو محتاط رہنے کی تاکید کی ہے۔
علاقائی دفاعی صف بندی کے تحت امریکی حکومت نے سعودی عرب کو 24.3 ارب ڈالر کی مالیت کے 48 جدید F-35A لائٹننگ ٹو جنگی طیاروں، انجنوں اور معاون خدمات کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے، جو فی الوقت امریکی کانگریس کے جائزے کی منتظر ہے۔ اس تزویراتی تناؤ کے باوجود واشنگٹن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے سخت سفری پابندیوں کے ساتھ ویزے جاری کر دیے ہیں۔ اسی اثنا میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس اور چین نے ایران پر عائد پابندیوں کے ماہرین کی مدت میں توسیع کی امریکی حمایت یافتہ قرارداد کو ویٹو کر دیا، جبکہ پاکستان نے اس رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
علاقائی سکیورٹی کے تناظر میں پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا (شمالی وزیرستان اور ہنگو) میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 10 عسکریت پسند مارے گئے، جبکہ آئی ای ڈی دھماکے میں 6 سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے۔ علاوہ ازیں، سعودی عرب کے طائف ایئربیس پر رات گئے ہونے والے حملوں میں ‘آپریشن انہرنٹ ریزولو’ کا حصہ اٹلی کا ایک یوروفائٹر ٹائفون جنگی طیارہ بھی متاثر ہوا، تاہم تمام اطالوی عسکری اہلکار بالکل محفوظ رہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر واشنگٹن، تہران اور اسلام آباد کے سرکاری بیانات، بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں اور عسکری ذرائع کی موصولہ رپورٹس کے مطابق تدوین کی گئی ہے۔
ماخذ: انٹرنیشنل اینڈ ڈیفنس ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز۔