Latest news

یمن میں حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان خونریز جھڑپیں: 24 گھنٹوں میں 60 سے زائد ہلاک، تعز اور لحج میں شدید لڑائی

Spread the love

محمود احمد, September 18,2026

صنعا (نیوز اینڈ نیوز) — 18 ستمبر 2026ء

یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان سالوں سے قائم نسبتاً پرسکون ماحول ایک بار پھر شدید جنگ اور خونریزی میں تبدیل ہو گیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تعز اور لحج سمیت مختلف محاذوں پر ہونے والی شدید زمینی جھڑپوں، میزائل اور ڈرون حملوں میں 60 سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بی بی سی عربی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں یمنی حکومت کے 23 عسکری اہلکاروں سمیت دونوں فریقین کے متعدد جنگجو شامل ہیں۔

2022ء کی جنگ بندی کے بعد یمن کے ساحلی علاقوں اور اہم محاذوں پر لڑائی کی شدت کافی حد تا کم رہی تھی، تاہم حالیہ ہفتوں میں حوثی فورسز نے بحیرۂ احمر کے قریب اپنی پیش قدمی تیز کر دی ہے۔ اس لڑائی کے اثرات یمن کی حدود سے باہر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب نے جمعرات کے روز حوثی ڈرون حملے کے نتیجے میں اپنی سرزمین پر ایک شہری کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق کی ہے، جو کہ جنگ بندی کے بعد سعودی عرب میں حوثیوں کے ہاتھوں پہلی شہری ہلاکت ہے۔ جواباً سعودی اور یمنی اتحاد نے حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر جوابی فضائی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

حوثیوں کی باب المندب آبنائے اور بحیرۂ احمر کے قریبی علاقوں میں عسکری پیش قدمی سے عالمی تجارتی اور توانائی کے بحری راستوں کی سلامتی شدید خطرے میں پڑ گئی ہے، جس پر چین نے بھی ایران سے حوثیوں کو قابو میں رکھنے کے لیے اپنا سفارتی اثر و رسوخ استعمال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین (UNHCR) کے مطابق اس تازہ تشدد کے باعث اب تک 1 لاکھ 12 ہزار سے زائد یمنی باشندے اندرونِ ملک بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد بحری راستوں سے جبوتی کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر بی بی سی عربی، رائٹرز، اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے اور یمنی عسکری ذرائع کی موصولہ رپورٹس کی روشنی میں تدوین کی گئی ہے۔

ماخذ: مڈل ایسٹ ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز صنعا/ریاض۔