

کاشف عباسی , September 20,2026
لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 20 ستمبر 2026ء
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کو لاہور میں ‘تھری ایم پی او’ (3 MPO) کے تحت حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے ان کی حراست کی باقاعدہ تصدیق کی ہے، جبکہ خاندانی ذرائع کے مطابق انہیں لاہور جم خانہ کے باہر سے پولیس تحویل میں لیا گیا۔ خاندانی رکن قاسم زمان خان نے بتایا کہ پولیس نے علیمہ خان کو جم خانہ کے باہر سے حراست میں لیا جس کے بعد انہیں فوری طور پر کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے امن و امان کے ممکنہ خدشات اور انتظامی رپورٹس کی بنیاد پر پولیس کو حراست کے احکامات جاری کیے، تاہم تحریری حکم نامے کی تفصیلی وجوہات فوری طور پر عام نہیں کی گئیں۔ علیمہ خان کی حراست ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ اور پرامن احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس سے قبل پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ نے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر 13 سے 17 ستمبر تک صوبے بھر میں دفعہ 144 کے تحت اجتماعات پر پابندی عائد کی تھی، تاہم علیمہ خان کی موجودہ حراست تھری ایم پی او کے الگ قانونی اختیار کے تحت کی گئی ہے۔
27 ستمبر کے مجوزہ مارچ سے قبل علیمہ خان کی گرفتاری کے بعد ملک کی سیاسی فضا میں کشیدگی بڑھنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ علیمہ خان کی حراست کو عدالت میں چیلنج کیے جانے کے بعد اس کیس کی قانونی صورتحال مزید واضح ہوگی۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
علیمہ خان کی تھری ایم پی او کے تحت حراست اور کوٹ لکھپت جیل منتقلی کی تصدیق ڈپٹی کمشنر لاہور اور خاندانی ذرائع سے ہوتی ہے۔ 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ کی قانونی و سکیورٹی صورتحال عدالتوں اور انتظامیہ کے فیصلوں سے مشروط ہوگی۔
ماخذ: پولیٹیکل ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز لاہور / اسلام آباد۔