Latest news

شہباز شریف کی ایرانی صدر سے ملاقات، علاقائی کشیدگی اور سفارتی کوششوں پر گفتگو

Spread the love

روزینہ اسماعیل, September 24,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 24 ستمبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور جاری تنازع کے تناظر میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی ملاقات میں موجود تھے۔

وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی اور دیرینہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں ممالک کے تعلقات تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط سے جڑے ہوئے ہیں اور فریقین نے ان تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

ملاقات کے دوران خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے جاری تنازع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے تحمل، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعظم نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والی مفاہمت پر عملدرآمد جاری رکھنے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے مخلصانہ اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس سے قبل نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے بھی کہا تھا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس حوالے سے امید نہیں چھوڑی۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایران کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے اسلام آباد کے کردار کو سراہا۔ ایرانی صدر نے پاکستان اور ایران کے دیرینہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان روابط مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہبی وابستگیوں کی بنیاد پر قائم ہیں۔

صدر پزشکیان نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ایران کی خواہش کا بھی اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے موجودہ چیلنجز سے نمٹنے اور باہمی تعاون کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے باقاعدہ مشاورت اور قریبی رابطہ برقرار رکھنے کی اہمیت پر اتفاق کیا۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان، قطر اور دیگر فریق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف سطحوں پر کوششیں کر رہے ہیں۔ تازہ سفارتی سرگرمیوں میں پاکستان کی جانب سے تہران کے ساتھ رابطے بھی شامل ہیں۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے علاقائی امن، سلامتی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مل کر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
وزیراعظم آفس کے اعلامیے کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ علاقائی صورتحال اور سفارتی کوششیں بھی زیر بحث آئیں۔ پاکستان کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے لیے کردار ادا کرنے کا مؤقف وزیراعظم کے حالیہ بیانات میں بھی سامنے آیا ہے، تاہم آئندہ سفارتی پیش رفت اور کسی حتمی معاہدے کے بارے میں فی الحال پیشگی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

ماخذ: میڈیا ونگ وزیراعظم آفس (PM Office)، نیویارک ڈیسک / نیوز اینڈ نیوز۔