Latest news

امریکی نمائندے میتھیو وٹیکر کی ٹرمپ کے ایران کی پیشکش مسترد کرنے کے فیصلے کی حمایت

Spread the love

محمود احمد, September 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 ستمبر 2026ء

امریکہ کے نیٹو میں سفیر میتھیو وٹیکر نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو سات روز میں تجارتی جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنے کی پیشکش مسترد کرنے کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے پیش کیے گئے نامکمل اقدامات اور مجوزہ معاہدے واشنگٹن کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔

میتھیو وٹیکر نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے پروگرام ’دی بگ ویک اینڈ شو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کرکے درست فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی اور اقتصادی پابندیوں کے باعث ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی معیشت دباؤ کا شکار ہے، اس کی کرنسی کمزور اور مہنگائی بلند ہے۔ وٹیکر کا کہنا تھا کہ تہران عالمی سطح پر اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے ایسے اقدامات پیش کر رہا ہے جنہیں امریکہ مکمل معاہدہ نہیں سمجھتا۔

ایران کی پیشکش پر امریکی مؤقف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 26 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کی آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کی تجویز مسترد کر دی تھی۔ ٹرمپ کے مطابق ایران موجودہ صورتحال میں نقصان اٹھا رہا ہے اور اسی وجہ سے معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق تہران نے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے اپنی شرائط پیش کی ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکی مؤقف کا باضابطہ جواب ملنے کے بعد آئندہ کا فیصلہ کرے گا۔

ایران کی پیشکش میں سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے اور جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تجویز شامل تھی۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان شرائط اور آبنائے پر کنٹرول کے معاملے پر اختلافات برقرار ہیں۔

تیل اور گیس کی قیمتوں پر بھی گفتگو

میتھیو وٹیکر نے تیل اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر عوامی تشویش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب موجودہ جنگیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حق میں ختم ہوں گی تو عالمی منڈی میں تیل، گیس اور ڈیزل کی فراہمی میں اضافہ متوقع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ توانائی کی فراہمی میں بہتری جلد از جلد آنی چاہیے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی مخصوص تاریخ یا قیمتوں میں ممکنہ کمی کے اعداد و شمار نہیں دیے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم بحری راستہ ہے۔ اس کے ذریعے تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اس راستے پر جاری کشیدگی اور جہازرانی میں رکاوٹوں کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی اور قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

میتھیو وٹیکر کے بیانات امریکی حکومت کے مؤقف اور ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایران نے تاحال ثالثوں کے ذریعے امریکی باضابطہ جواب کا انتظار کرنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور مذاکرات کی بحالی سے متعلق کسی حتمی معاہدے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

ماخذ: فاکس نیوز، ترکیہ ٹوڈے، 27 ستمبر 2026