Latest news

ٹرمپ کی پیش گوئی، ایران جنگ جلد ختم اور تیل کی قیمتیں گرنے کا امکان

Spread the love

محمود احمد, September 27,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 27 ستمبر 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیش گوئی کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد تیل کی رسد میں بہتری آئے گی، تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق مذاکرات پر تاحال اتفاق نہیں ہو سکا۔

وائٹ ہاؤس سے روانگی کے وقت صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جیسے ہی ایران ہتھیار ڈالے گا اور جنگ ختم ہو گی، تیل کی قیمتیں نیچے آنا شروع ہو جائیں گی۔ امریکی صدر نے جنگ کے جلد خاتمے کی توقع ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی توانائی منڈیوں کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

آبنائے ہرمز کھولنے کی ایرانی تجویز مسترد

امریکی صدر نے ایک روز قبل ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق پیشکش مسترد کر دی تھی۔ ٹرمپ نے ایرانی تجویز کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران شدید دباؤ کا شکار ہے اور اسی وجہ سے فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ ہوا ہے۔

ایران نے امریکہ کے سامنے ایک تجویز پیش کی ہے جس کے تحت تہران سات مخصوص شرائط پوری ہونے کی صورت میں سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 25 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ضروری شرائط پوری ہونے پر آبنائے ہرمز میں سات دن کے اندر معمول کی بحری آمدورفت بحال کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق اب فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔

فضائی حملوں کی بحالی سے متعلق رپورٹ

دوسری جانب وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف فضائی حملے دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر غور کر رہی ہے۔

تاہم اس حوالے سے امریکی حکومت کی جانب سے کسی حتمی فیصلے یا باضابطہ اعلان کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ رپورٹ میں بیان کردہ امکان کو امریکی حکام سے منسوب کیا گیا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تہران خطے کی صورتحال سے آگاہ ہے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ضروری شرائط پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔ اس راستے میں رکاوٹوں یا کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل، عالمی منڈیوں اور توانائی کی قیمتوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

امریکی صدر کی جانب سے جنگ کے جلد خاتمے اور تیل کی قیمتوں میں کمی کی پیش گوئی ایک بیان ہے، حتمی نتیجہ نہیں۔ ایران کی سات روزہ تجویز بھی مخصوص شرائط سے مشروط ہے اور امریکہ کی جانب سے اسے قبول کرنے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ تیل کی قیمتوں میں حقیقی تبدیلی کا انحصار جنگ، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور عالمی منڈی میں رسد و طلب پر ہوگا۔

ماخذ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صحافیوں سے بیانات؛ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا اقوام متحدہ میں بیان، رپورٹ کردہ بذریعہ رائٹرز؛ وال اسٹریٹ جرنل کی امریکی حکام سے منسوب رپورٹ۔