Latest news

مذاکرات کے لیے تیار ہیں، بانی پی ٹی آئی کی رہائی پر بات نہیں ہوگی، امیر مقام

Spread the love

کاشف عباسی , September 28,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 28 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم ان کے بقول بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے معاملے پر بات نہیں ہوگی کیونکہ انہیں عدالتوں نے سزا سنائی ہے اور رہائی کا فیصلہ بھی عدالتی طریقہ کار کے تحت ہی ممکن ہے۔

پیر کو پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ مذاکرات کے لیے ایک طے شدہ طریقہ کار موجود ہے اور سیاسی بات چیت کو صرف ایک قیدی کی رہائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم متعدد مرتبہ مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں، تاہم کسی بھی معاملے پر پیش رفت کے لیے آئینی اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

وفاقی وزیر نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی جماعت پر تنقید کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ صوبے میں کرپشن اور عوامی مسائل پر توجہ نہ دینے کے باعث حکومتی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔ یہ الزامات امیر مقام کے سیاسی بیان کا حصہ ہیں؛ ان کی آزادانہ تصدیق اس خبر کے لیے دستیاب معلومات سے نہیں ہو سکی۔

امیر مقام نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو دہشت گردی، امن و امان اور عوامی فلاح و بہبود جیسے اہم مسائل کا سامنا ہے، اس لیے صوبائی حکومت کو سیاسی سرگرمیوں کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی صورت حال پر بھی تنقید کی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے منتخب نمائندوں سے کارکردگی کے بارے میں سوال کریں۔

پی ٹی آئی کی جانب سے مارچ اور احتجاج کے حوالے سے وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ جماعت نے بڑی تعداد میں لوگوں کو نکالنے کا اعلان کیا تھا، لیکن مقررہ وقت پر مارچ مؤخر کر دیا گیا۔ ان کے مطابق احتجاجی سرگرمیوں سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان دعوؤں اور مارچ کے حوالے سے پی ٹی آئی کا مؤقف اس فراہم کردہ بیان میں شامل نہیں ہے۔

انہوں نے پی ٹی آئی پر دہشت گردی کے واقعات اور مبینہ طور پر شدت پسندوں کی آبادکاری کے معاملے میں سہولت کاری کے الزامات بھی عائد کیے۔ امیر مقام نے کہا کہ صوبے میں سکیورٹی اہلکار اور عام شہری دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے رہے ہیں اور حکومت کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔

گورنر راج کے امکان سے متعلق سوال پر امیر مقام نے کہا کہ آئین اور قانون میں اس کی گنجائش موجود ہے اور ان کے بقول قانونی تقاضے بھی پورے ہیں، تاہم فی الحال اس معاملے پر کوئی بات نہیں ہوئی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کی پریس کانفرنس میں دیے گئے بیان پر مبنی ہے۔ پی ٹی آئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی حکومت کے بارے میں کرپشن، ناکامی اور عوامی حمایت سے متعلق بیانات امیر مقام کے الزامات اور سیاسی دعوے ہیں، آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق نہیں۔ گورنر راج کے بارے میں بھی انہوں نے کسی حتمی فیصلے یا اعلان کی تصدیق نہیں کی۔

ماخذ: ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) — صارف کی فراہم کردہ خب