Latest news

سرحد پار دہشت گردی میں 70 فیصد افغان شہری ملوث: طلال چوہدری کا الزام، خیبر پختونخوا حکومت پر بھی تنقید

Spread the love

منصور احمد,September 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 ستمبر 2026ء

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں سرحد پار سے ہونے والی شدت پسند کارروائیوں کے 70 فیصد واقعات میں افغان شہری ملوث پائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان متعدد بین الاقوامی اور دوطرفہ فورمز پر افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کا معاملہ اٹھاتا رہا ہے، تاہم ان کے بقول سرحد پار سے شدت پسند سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے اپنے تحفظات افغان طالبان حکومت تک پہنچانے کے لیے مذاکرات، براہ راست رابطوں، ڈوزیئرز اور دوست ممالک کے ذریعے سفارتی کوششوں سمیت مختلف ذرائع استعمال کیے ہیں۔

وزیر مملکت کے مطابق پاکستان کا مؤقف ہے کہ شدت پسند گروہ پاکستان میں کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرتے ہیں۔ افغانستان میں طالبان حکومت ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے اور پاکستان سے سرحدی سلامتی کے معاملات پر بات چیت پر زور دیتی رہی ہے۔

خیبر پختونخوا میں سکیورٹی وسائل پر سوالات

طلال چوہدری نے خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کو درکار وسائل اور سہولیات کی فراہمی پر صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کو مؤثر بنانے کے لیے بجٹ، تربیت، گاڑیوں اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کا محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اب تک پورے صوبے میں مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز کو مناسب وسائل، تربیت اور سہولیات کے بغیر مؤثر انداز میں شدت پسندی کا مقابلہ کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

وزیر مملکت نے الزام عائد کیا کہ صوبے میں پولیس کو مطلوبہ گاڑیاں فراہم نہیں کی گئیں، سیف سٹی منصوبے قائم نہیں کیے گئے اور فرانزک لیبارٹریوں کے قیام کے حوالے سے بھی ضروری اقدامات نہیں کیے گئے۔

انہوں نے پنجاب کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں تحصیل کی سطح تک سیف سٹی منصوبے فعال ہو چکے ہیں اور سکیورٹی فورسز کو وسائل، قیادت اور اختیارات کی فراہمی نے شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں میں کردار ادا کیا ہے۔

طلال چوہدری نے یہ الزام بھی لگایا کہ خیبر پختونخوا میں نئے پولیس ایکٹ کے تحت پولیس کے اختیارات واپس لینے کی کوشش کی گئی، حالانکہ ان کے بقول شدت پسندی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے پولیس کو ضروری اختیارات دینا بھی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

غیر رجسٹرڈ گاڑیوں اور فنڈز کا معاملہ

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں غیر رجسٹرڈ گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں شدت پسند کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی رجسٹریشن صوبائی حکومت کے اختیار میں ہونے کے باوجود اس معاملے پر مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔

عطا اللہ تارڑ نے مزید الزام عائد کیا کہ شدت پسندی کی روک تھام کے لیے مختص وسائل اور فنڈز صوبائی حکومت نے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیے۔

دونوں وفاقی رہنماؤں نے سکیورٹی اداروں کو وسائل اور سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاہم پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے الزامات اور اعدادوشمار کی آزادانہ تصدیق کے لیے تفصیلی شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

سرحد پار شدت پسندی میں افغان شہریوں کے 70 فیصد ملوث ہونے کا عدد طلال چوہدری سے منسوب دعویٰ ہے؛ دستیاب متن میں اس کی بنیاد بننے والے اعدادوشمار یا تحقیق کی تفصیل موجود نہیں۔ افغانستان کی طالبان حکومت پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین استعمال ہونے کے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کا مؤقف اور وفاقی وزرا کے الزامات کی آزادانہ تصدیق اس خبر کی تیاری میں دستیاب نہیں تھی۔

ماخذ: صارف کی فراہم کردہ پریس کانفرنس کی تفصیلات؛ طلال چوہدری اور عطا اللہ تارڑ سے منسوب بیانات۔