

منصور احمد,October03,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اکتوبر 2026ء
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ مجوزہ لانگ مارچ کو روکنے کی کوششیں اور سخت اقدامات کی باتیں جمہوری سیاسی عمل کے لیے مناسب نہیں۔ ان کے مطابق سیاسی اختلافات کے باوجود بات چیت کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے اور سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش جاری رہنی چاہیے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ باعثِ حیرت ہے کہ تحریک انصاف کے مجوزہ لانگ مارچ کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور بعض حلقوں کی جانب سے انتہائی اقدامات کی بات کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی معاملات میں اختلاف رائے کے باوجود جمہوری نظام میں بات چیت اور سیاسی مکالمے کا سلسلہ برقرار رہنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش سیاسی مسائل کا حل مذاکرات اور سیاسی مکالمے کے ذریعے تلاش کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی فریقین کو ایک دوسرے کا مؤقف سننے اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے کوشش جاری رکھنی چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے بعض وفاقی وزرا کے حالیہ بیانات پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اہم سیاسی معاملات پر مذاکرات جاری ہوں تو اس موقع پر ایسے بیانات سے گریز کیا جانا چاہیے جو ماحول کو کشیدہ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور تمام فریقین کو اس عمل کے دوران ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ سکے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ 2 اکتوبر سے شروع ہوا ہے۔ مذاکرات قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کی زیرِ نگرانی ان کے چیمبر میں ہو رہے ہیں، جبکہ بات چیت میں حکومت، پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سے وابستہ اپوزیشن نمائندے شریک ہیں۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق 4 اکتوبر کے مجوزہ احتجاجی مارچ کا معاملہ بھی مذاکرات کے اہم موضوعات میں شامل ہے۔
بیرسٹر گوہر نے امید ظاہر کی کہ جاری سیاسی رابطے اور مذاکرات ملک میں موجود سیاسی صورتحال کے حل کی جانب پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافات کے باوجود سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنا ضروری ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
بیرسٹر گوہر علی خان کا بیان سیاسی مذاکرات اور تحریک انصاف کے مجوزہ احتجاجی مارچ کے تناظر میں پارٹی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، تاہم ان مذاکرات کا حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ خبر میں مختلف سیاسی فریقین کے مؤقف کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔
ماخذ: بیرسٹر گوہر علی خان کا بیان، اے پی پی، دستیاب تازہ رپورٹس