حکومت کے خلاف بلاجواز پروپیگنڈا بند کیا جائے، پی ٹی آئی غلط معلومات پھیلانے کے بجائے مذاکرات کرے: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری

منصور احمد, August 15,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اس کے خلاف مسلسل بلاجواز پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جو ملکی جمہوریت اور سیاسی ماحول کے لیے کسی طور مناسب نہیں۔

ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر زور دیا کہ وہ بے بنیاد اور غلط معلومات پھیلانے کی سیاست ترک کر کے قومی مفاد کے اہم امور پر حکومت کے ساتھ سنجیدہ اور معنی خیز مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ منفی طرزِ عمل اور محاذ آرائی سے موجودہ سیاسی ماحول مزید پیچیدہ ہوگا، جبکہ درپیش قومی چیلنجز کے حل کے لیے سنجیدہ بات چیت ہی واحد حل ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ جمہوری نظام کو غیر مستحکم کرنے یا مفلوج کرنے کی کوششوں سے کسی بھی فریق کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ملک کا وفاقی دارالحکومت ہے اور یہاں آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی کو بھی اپنی قانونی و سیاسی سرگرمیاں انجام دینے سے نہیں روکا جاتا۔ تاہم، سیاسی فائدے کے لیے معاشرے میں بے چینی، نفرت اور انارکی پھیلانا بلاشبہ ناقابلِ قبول اور ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔

فواد چوہدری کا داؤ: “موجودہ نظام بالکل ناکام ہو چکا، سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ میں عمران خان کے بغیر مذاکرات ممکن نہیں”

منصور احمد, August 02,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ حکومتی نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور حکومت عملی طور پر فارغ ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پائیدار سیاسی و معاشی استحکام کے لیے سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ڈائیلاگ کا آغاز ہونا ضروری ہے، تاہم تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے بغیر ایسا کوئی بھی مذاکراتی عمل ہرگز مکمل نہیں ہو سکتا۔

لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے حکومت کو آڑھے ہاتھوں لیا اور کہا کہ تین وفاقی وزراء خود وزیراعظم کی حیثیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیانیے اور عدم اعتماد کی تحریک کے وقت ہم نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ موجودہ سیٹ اپ ملک نہیں چلا سکتا۔

پنجاب کی ممکنہ تقسیم کے موضوع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اصلاحات صرف پنجاب تک محدود نہیں ہونی چاہئیں کیونکہ اصل مسائل دیگر صوبوں میں ہیں۔ پاکستان چند بلوچ اور سندھی وڈیروں کی منشا کے مطابق نہیں چلایا جا سکتا اور بلوچستان کو 1970ء سے پہلے والی اصل سیاسی و انتظامی بنیادوں پر بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

فواد چوہدری نے زور دے کر کہا کہ موجودہ نظام اپنی افادیت پوری طرح کھو چکا ہے اور اب اس میں متبادل اصلاحات پر بات ہونا وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔ نئے صوبے، بلدیاتی نظام اور ذیلی انتظامی حدود جیسے موضوعات پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے کیونکہ پرانے طرزِ حکمرانی کو زبردستی جاری رکھنا اب ممکن نہیں رہا۔

حکومتی اخراجات اور وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاہانہ اخراجات کی ایسی مثالیں ماضی میں بھی نہیں ملتی۔ اربوں روپے کے جہاز کی خریداری، مختلف تقاریب کے بے دریغ اخراجات، وکلاء و صحافیوں میں مبینہ فنڈز کی تقسیم اور بیوروکریسی کے لیے اربوں روپے جاری کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی وسائل کا بے دردی سے زیاں کیا جا رہا ہے۔