

کاشف عباسی ,October03,2026
پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اکتوبر 2026ء
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا احتجاجی مارچ 4 اکتوبر کو لکی مروت کے گنڈی چوک سے شروع ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کو آئین کے تحت پُرامن احتجاج کا حق حاصل ہے اور یہ جدوجہد آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی تک جاری رہے گی۔
اپنے بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ تحریک انصاف کے مطالبات آئین اور قانون کے دائرے میں ہیں۔ ان کے بقول عمران خان، ان کے اہلخانہ اور پارٹی کارکنوں کو ان کے قانونی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، جس کے خلاف سیاسی اور قانونی طریقے سے آواز اٹھائی جا رہی ہے۔
سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال پر بھی بات کی اور دعویٰ کیا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے موجودہ حکمت عملی مطلوبہ نتائج نہیں دے رہی۔ ان کے مطابق فوجی آپریشنز، نقل مکانی اور ڈرون حملوں سے مسائل کا مستقل حل نہیں نکلا، اس لیے پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے مطابق تحریک انصاف کے دور حکومت میں پاکستان اور خیبر پختونخوا کو سیاحت کے حوالے سے شناخت حاصل تھی، جبکہ موجودہ صورتحال میں صوبے کو دوبارہ دہشت گردی کے چیلنج کا سامنا ہے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان سکیورٹی پالیسی پر بھی سوالات اٹھائے۔
سہیل آفریدی نے 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف ایسے واقعات کو دوبارہ رونما ہونے کی حمایت نہیں کرتی اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دے گی۔ انہوں نے کارکنوں اور عوام سے 4 اکتوبر کو دوپہر ایک بجے گنڈی چوک، لکی مروت پہنچنے کی اپیل بھی کی۔
دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سہیل آفریدی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ جاری مذاکرات کو بامقصد اور نتیجہ خیز بنانا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیانات بات چیت کے عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔
طارق فضل چوہدری نے تحریک انصاف کی قیادت پر زور دیا کہ مذاکرات کے حتمی مرحلے تک ایسی گفتگو سے گریز کیا جائے جس سے مذاکرات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔ انہوں نے سہیل آفریدی کے مخالفین اور حکومتی قیادت سے متعلق گفتگو کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے وزیراعلیٰ کے منصب کے شایانِ شان قرار نہیں دیا۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی 3 اکتوبر کو جاری رہا، جبکہ 4 اکتوبر کے احتجاجی مارچ کا اعلان سیاسی مذاکرات کے ساتھ ساتھ زیرِ بحث اہم معاملات میں شامل ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
سہیل آفریدی کے احتجاجی مارچ، تحریک انصاف کے مطالبات اور خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال سے متعلق متعدد باتیں ان کے اپنے بیانات اور دعووں پر مبنی ہیں، اس لیے انہیں انہی سے منسوب کیا گیا ہے۔ دوسری جانب طارق فضل چوہدری کا مؤقف حکومتی فریق کی جانب سے مذاکراتی عمل کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔ دونوں سیاسی فریقین کے مؤقف کو الگ الگ پیش کیا گیا ہے۔
ماخذ: اے پی پی، سہیل آفریدی کا بیان، وزارتِ پارلیمانی امور، دستیاب تازہ رپورٹس