Latest news

سیاسی و سکیورٹی بحران کا حل آئینی راستوں سے نکالا جائے، بلاول بھٹو

Spread the love

کاشف عباسی ,October03,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اکتوبر 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کا حل آئینی و سیاسی راستوں سے تلاش کیا جانا چاہیے اور تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات اور افغانستان سے متعلق سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں وفاقی سطح پر ایمرجنسی یا گورنر راج کے آپشنز زیرِ غور آئے تھے، تاہم پیپلز پارٹی کی رائے تھی کہ کسی ایسے اقدام سے قبل تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو موجودہ صورتحال کا سیاسی حل تلاش کرنا چاہیے اور پاکستان تحریک انصاف سے بات چیت کے ذریعے اسے احتجاجی مارچ ختم کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ بلاول بھٹو کے مطابق احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے، تاہم موجودہ حالات میں سیاسی قیادت کو ایسے اقدامات پر توجہ دینی چاہیے جن سے کشیدگی میں کمی آئے۔

پیپلز پارٹی چیئرمین نے کہا کہ ایک جانب خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت سیاسی اور احتجاجی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جبکہ دوسری جانب صوبے میں دہشت گردی کے واقعات بھی پیش آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر سکیورٹی صورتحال پر مؤثر توجہ نہ دی گئی تو صوبائی حکومت کے وفاق کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف تعاون کے حوالے سے سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو آئین میں موجود ایمرجنسی یا گورنر راج سے متعلق اختیارات کے استعمال کی بحث دوبارہ سامنے آ سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ سیاسی راستے سے مسئلے کے حل کی کوشش جاری رہنی چاہیے۔

انہوں نے تمام سیاسی فریقین پر زور دیا کہ تحریک انصاف کے احتجاج اور لانگ مارچ کے معاملے پر قابلِ قبول راستہ نکالا جائے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ قومی حکمت عملی کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کو دہشت گردی کے معاملے کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھنا چاہیے، کیونکہ یہ قومی سلامتی سے متعلق مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق جن علاقوں کو سکیورٹی چیلنجز درپیش ہیں وہاں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔

پیپلز پارٹی چیئرمین نے دہشت گردی کو اپنی جماعت کے لیے ’’ریڈ لائن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال مزید خراب ہونے کے اثرات پورے ملک پر پڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جاری مذاکرات مثبت نتیجے تک پہنچیں گے اور سیاسی استحکام کے لیے پیش رفت ہوگی۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی 3 اکتوبر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں جاری رہا۔ اس مذاکراتی عمل میں حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے نمائندے شریک ہیں، جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے 4 اکتوبر کے احتجاجی مارچ کا معاملہ بھی سیاسی گفتگو کا اہم حصہ ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
بلاول بھٹو زرداری کا بیان موجودہ سیاسی صورتحال، خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات کے تناظر میں پیپلز پارٹی کے مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ ایمرجنسی یا گورنر راج سے متعلق مختلف سیاسی اور حکومتی بیانات سامنے آئے ہیں، تاہم اس خبر میں کسی ایسے اقدام کو حتمی فیصلہ قرار نہیں دیا گیا۔

ماخذ: بلاول بھٹو زرداری کا خطاب، متعلقہ سرکاری بیانات