Latest news

امریکہ نے ایران کے ساتھ معاہدے میں دلچسپی نہیں دکھائی، سفارت کاری کے لیے تیار ہیں مگر دفاع سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: عباس عراقچی

Spread the love

محمود احمد, October21,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اکتوبر 2026ء

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے آمادگی ظاہر نہیں کی، تاہم تہران سفارت کاری کے ذریعے تنازع کا پُرامن اور باعزت حل تلاش کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران مذاکرات کے راستے بند نہیں کرنا چاہتا، لیکن اپنے دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔

عباس عراقچی نے لندن سے شائع ہونے والے اخبار فنانشل ٹائمز میں اپنے مضمون میں لکھا کہ وائٹ ہاؤس نے مفاہمت تک پہنچنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔ ان کے مطابق موجودہ صورتِ حال میں اس بات کی توقع کرنے کی وجوہات بھی کم ہیں کہ امریکہ کی جانب سے مذاکرات میں کوئی نمایاں پیش رفت ہوگی۔

ایرانی وزیرِ خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مختلف سفارتی کوششوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ پاکستان اور قطر سمیت بعض ممالک کے ممکنہ ثالثی کردار کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے، تاہم کسی نئے معاہدے یا مذاکراتی دور کے آغاز کی حتمی تصدیق نہیں ہوئی۔

ایران کا مؤقف: سفارت کاری بھی، دفاع کی تیاری بھی

عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران تنازع کے پُرامن حل کے لیے پُرعزم ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے دفاع کے لیے بھی پوری طرح تیار ہے۔ ان کے بیان میں سفارت کاری اور دفاعی تیاری کو ایران کی پالیسی کے دو اہم پہلوؤں کے طور پر پیش کیا گیا۔

ایرانی وزیرِ خارجہ کے مطابق کسی بھی مذاکراتی عمل کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ فریقین مفاہمت کے لیے حقیقی آمادگی کا مظاہرہ کریں۔ اگر ایک جانب مذاکرات کی بات کی جائے، لیکن دوسری جانب ایسے اقدامات جاری رہیں جنہیں تہران دباؤ یا دھمکیوں سے تعبیر کرتا ہے، تو اعتماد کی فضا قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

عراقچی نے اپنے مضمون میں اس بات پر زور دیا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔ ان کے مطابق سفارت کاری کے لیے آمادگی کا مطلب یہ نہیں کہ ایران اپنے دفاعی حقوق سے دستبردار ہو جائے گا۔

تاہم انہوں نے اپنے بیان میں کسی نئی فوجی کارروائی، ممکنہ حملے یا دفاعی حکمتِ عملی کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ان کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ ایران تنازع کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے، لیکن اس کے لیے دوسری جانب سے بھی سنجیدگی ضروری ہے۔

وائٹ ہاؤس پر مفاہمت میں عدم دلچسپی کا الزام

عباس عراقچی نے اپنے مضمون میں امریکی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس نے ایران کے ساتھ مفاہمت تک پہنچنے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ ان کے بقول، موجودہ حالات میں کسی بڑی سفارتی پیش رفت کی توقع کرنا مشکل ہے۔

یہ بیان ایران اور امریکہ کے درمیان پائے جانے والے بنیادی اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام، پابندیوں، علاقائی سلامتی اور فوجی سرگرمیوں سے متعلق معاملات اہم تنازعات میں شامل ہیں۔

امریکہ کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، جبکہ تہران امریکی پابندیوں اور دباؤ کو اپنے خلاف پالیسی کا حصہ قرار دیتا ہے۔ ان اختلافات کے باعث کسی ایسے معاہدے تک پہنچنا مشکل ہو سکتا ہے جسے دونوں فریق قابلِ قبول سمجھیں۔

عراقچی نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کسی حالیہ رابطے میں کون سی مخصوص تجاویز زیرِ بحث آئیں یا واشنگٹن نے کن شرائط پر اتفاق کرنے سے انکار کیا۔ اس لیے ان کے بیان کو ایرانی حکومت کے مؤقف کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ مذاکرات کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق کے طور پر۔

ثالثی کی کوششیں اور مذاکرات کے امکانات

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف ممالک کی جانب سے سفارتی رابطوں کی کوششیں جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ پاکستان اور قطر کے کردار سے متعلق سامنے آنے والی خبروں کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی ثالثی کی کوششوں کا خیرمقدم کیا تھا۔

روبیو نے کہا تھا کہ کئی ممالک ایک عرصے سے ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں اور مختلف تجاویز پیش کرتے رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی تجویز کو قبول کرنے یا مسترد کرنے کا حتمی فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔

اس تناظر میں عباس عراقچی کا بیان اہم ہے، کیونکہ اس میں ایران کی جانب سے سفارت کاری کے لیے آمادگی کے ساتھ امریکہ کے رویے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ تاہم ثالثی کی کوششوں کے باوجود یہ واضح نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کب شروع ہوں گے یا کسی نئی تجویز پر اتفاق ممکن ہوگا۔

کسی بھی سفارتی عمل کی کامیابی کے لیے ضروری ہوگا کہ دونوں فریق اپنے اختلافات پر بات چیت کریں، ممکنہ شرائط واضح کریں اور ایسے اقدامات پر اتفاق کریں جن سے اعتماد بحال ہو سکے۔

علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت پر اثرات

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا اثر مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے علاوہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور تجارتی راستوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستوں سے تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی ترسیل وابستہ ہے، اس لیے خطے میں فوجی تناؤ بڑھنے سے عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔

اگر سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم ہوتی ہے تو اس سے علاقائی استحکام اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے بہتر ماحول پیدا ہونے کا امکان ہے۔ اس کے برعکس، مذاکرات میں ناکامی یا فوجی تناؤ میں اضافے سے سلامتی اور توانائی کی رسد کے بارے میں خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

تاہم عراقچی کے بیان سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مذاکرات مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ ایرانی وزیرِ خارجہ نے خود سفارت کاری کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن ساتھ ہی اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی حل کے لیے عملی پیش رفت اور سنجیدہ رابطے ضروری ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: عباس عراقچی نے امریکہ پر مفاہمت میں عدم دلچسپی کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ ایران کی جانب سے سفارت کاری اور اپنے دفاع کے لیے تیاری برقرار رکھنے کا مؤقف پیش کیا ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے کسی نئے معاہدے یا مذاکراتی پیش رفت کی تصدیق اس بیان میں شامل نہیں، اس لیے آئندہ صورتِ حال کا انحصار دونوں ممالک کے عملی اقدامات اور سفارتی رابطوں پر ہوگا۔

ماخذ: عباس عراقچی کا مضمون، ایرانی وزارتِ خارجہ کے بیانات، امریکی محکمہ خارجہ کے بیانات