

محمود احمد, October21,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اکتوبر 2026ء
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بامعنی مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ دھمکیوں اور پابندیوں میں عملی طور پر کمی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف ایران پر دباؤ بڑھایا جائے، پابندیاں سخت کی جائیں اور رابطوں کے راستے محدود کیے جائیں، جبکہ دوسری طرف مذاکرات کی بات کی جائے تو اس سے مؤثر نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔
ایرانی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں واضح کیا کہ دھمکیوں اور دباؤ کی زبان میں ہونے والی بات چیت بامعنی نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق مذاکرات کی کامیابی کے لیے ایسا ماحول ضروری ہے جس میں فریقین ایک دوسرے کے ساتھ سنجیدہ رابطے کر سکیں اور عملی اقدامات کے ذریعے اعتماد کی فضا قائم ہو۔
مسعود پزشکیان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف ممالک کی جانب سے کوششوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ ان کوششوں میں پاکستان اور قطر کے ممکنہ سفارتی کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم کسی نئی تجویز پر حتمی اتفاق یا مذاکرات کی تاریخ کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ایران کا مؤقف: صرف مذاکرات کی بات کافی نہیں
صدر پزشکیان نے اپنے بیان میں اس تضاد کی نشاندہی کی کہ اگر ایک جانب پابندیوں اور دباؤ میں اضافہ کیا جائے اور دوسری جانب مذاکرات کی دعوت دی جائے تو ایسے عمل سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
ان کے مطابق بامعنی مذاکرات کے لیے محض رابطے قائم کرنا کافی نہیں، بلکہ ایسے عملی اقدامات بھی ضروری ہیں جن سے فریقین کے درمیان اعتماد پیدا ہو۔ ایرانی صدر نے اپنے بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کن مخصوص پابندیوں میں فوری نرمی چاہتے ہیں یا مذاکرات کے آغاز کے لیے کون سی شرائط پیش کر رہے ہیں۔
ایران طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کو اپنی معیشت اور بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتا رہا ہے۔ ان پابندیوں کے اثرات مالیاتی لین دین، تیل کی تجارت، سرمایہ کاری اور مختلف اقتصادی سرگرمیوں پر پڑتے ہیں۔ تہران کا مؤقف رہا ہے کہ دباؤ کی پالیسی کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانا مشکل ہے۔
دوسری جانب امریکہ ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ان معاملات پر اختلافات کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے اہم چیلنج ہیں۔
سفارتی کوششیں اور پاکستان کا ممکنہ کردار
ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف ممالک کی سفارتی کوششوں پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ پاکستان اور قطر کے کردار سے متعلق اطلاعات سامنے آنے کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی ثالثی کی کوششوں کا خیرمقدم کیا تھا۔
روبیو کے مطابق متعدد ممالک ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں اور مختلف تجاویز پیش کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے قطر کے سفارتی کردار کا ذکر کیا اور پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران کی طرف بھی اشارہ کیا تھا۔
تاہم امریکی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا تھا کہ کسی بھی تجویز کو قبول کرنے یا مسترد کرنے کا حتمی فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ اس لیے ثالثی کی کوششوں کا خیرمقدم کیے جانے کو کسی معاہدے پر اتفاق یا مذاکرات کی بحالی کی حتمی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔
پزشکیان کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران مذاکرات کے لیے سازگار ماحول کو اہم سمجھتا ہے، لیکن تہران کی جانب سے پابندیوں اور دھمکیوں میں عملی کمی پر زور دیا جا رہا ہے۔ یہ مؤقف آئندہ سفارتی رابطوں میں بھی اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔
امریکی پابندیاں اور جوہری پروگرام کا تنازع
امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کا ایک اہم پہلو ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف رہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ضروری ہے، جبکہ تہران اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن مقاصد سے منسلک قرار دیتا ہے۔
امریکی حکام اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق قابلِ قبول شرائط شامل ہونا ضروری ہیں۔ اس کے برعکس ایران پابندیوں میں کمی اور دباؤ کے خاتمے کو اہم مطالبات میں شمار کرتا ہے۔
ان مختلف ترجیحات کے باعث دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی راہ آسان نہیں۔ کسی بھی پیش رفت کے لیے نہ صرف بنیادی اختلافات پر بات چیت ضروری ہوگی بلکہ اس بات پر بھی اتفاق کرنا ہوگا کہ طے شدہ شرائط پر عمل درآمد کس طرح کیا جائے گا۔
پزشکیان کے بیان میں کسی نئے مذاکراتی دور، مجوزہ معاہدے یا امریکی حکومت کی جانب سے آنے والے ردعمل کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس لیے یہ واضح نہیں کہ ان کے بیان کے بعد سفارتی رابطوں میں فوری طور پر کوئی تبدیلی آئے گی یا نہیں۔
خطے اور عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا اثر صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہتا۔ مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی کی صورتِ حال، تیل کی ترسیل اور آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستوں سے عالمی توانائی کی تجارت وابستہ ہے۔
اگر کشیدگی بڑھتی ہے تو توانائی کی منڈیوں، تجارتی راستوں اور علاقائی سلامتی کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس سفارتی رابطوں میں پیش رفت اور کشیدگی میں کمی سے خطے میں استحکام کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں۔
تاہم موجودہ بیان کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مذاکرات فوری طور پر شروع ہو جائیں گے یا پابندیوں میں کوئی تبدیلی آنے والی ہے۔ اس کے لیے متعلقہ حکومتوں کے باضابطہ اعلانات اور عملی اقدامات اہم ہوں گے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پابندیوں اور دھمکیوں میں عملی کمی کو بامعنی مذاکرات کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ یہ ایران کا سفارتی مؤقف ہے؛ امریکہ کی جانب سے پابندیوں میں فوری نرمی یا کسی نئے مذاکراتی معاہدے پر اتفاق کی تصدیق اس بیان میں موجود نہیں۔
ماخذ: ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا سوشل میڈیا بیان، امریکی محکمہ خارجہ کے بیانات