Latest news

پاکستان کا UNSCEAR کے سائنسی کام اور تابکاری کے تحفظ سے متعلق عوامی آگاہی کے فروغ پر زور

Spread the love

محمود احمد, October22,2026

اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اکتوبر 2026ء

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی تابکاری کے اثرات سے متعلق سائنسی کمیٹی (UNSCEAR) کے کام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مناسب، قابلِ پیش گوئی اور پائیدار وسائل کی فراہمی پر زور دیا ہے۔ پاکستان نے کمیٹی کی سائنسی خودمختاری، اس کے مینڈیٹ اور انسانی صحت و ماحول پر تابکاری کے اثرات سے متعلق عالمی سائنسی تفہیم کو فروغ دینے میں اس کے کردار کو اہم قرار دیا۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی چوتھی کمیٹی میں تابکاری کے اثرات سے متعلق عمومی بحث کے دوران پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے فرسٹ سیکریٹری انصار شاہ نے کہا کہ UNSCEAR کی سائنسی تحقیقات اور اشاعتیں تابکاری کے ممکنہ اثرات کو سمجھنے اور تحفظ کے بین الاقوامی معیارات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

انہوں نے کمیٹی کے پروگرامِ کار اور سائنسی اشاعتوں کو متاثر کرنے والی مالی مشکلات، عملے کی کمی اور انتظامی مسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔ انصار شاہ کے مطابق سائنسی جائزوں اور تحقیقی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے مناسب مالی وسائل اور مؤثر انتظامی معاونت ضروری ہے، تاکہ کمیٹی عالمی سطح پر اپنا کام آزادانہ اور مؤثر انداز میں جاری رکھ سکے۔

پاکستان کا تابکاری کے تحفظ سے متعلق قومی تجربہ

پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب میں بتایا کہ پاکستان نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے وضع کردہ بین الاقوامی معیارات کے مطابق تابکاری کے تحفظ کے لیے ایک جامع ضابطہ جاتی نظام قائم کر رکھا ہے۔ اس نظام کا مقصد تابکاری سے وابستہ سرگرمیوں میں انسانی صحت، ماحول اور عوامی سلامتی کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

انصار شاہ کے مطابق پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (PAEC) سرطان کے علاج کے مراکز میں طبی عملے اور مریضوں کو تابکاری سے لاحق ہونے والے ممکنہ اثرات کی نگرانی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جوہری تنصیبات کے آس پاس رہنے والی آبادی پر ممکنہ تابکاری اثرات کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔

طبی شعبے میں تابکاری کا استعمال سرطان کی تشخیص اور علاج سمیت مختلف اہم مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے، تاہم اس کے محفوظ استعمال کے لیے تابکاری کی مقدار کا درست تعین، آلات کی مناسب نگرانی اور حفاظتی اصولوں پر عمل ضروری ہے۔ اسی طرح جوہری تنصیبات کے اطراف نگرانی سے تابکاری کی سطح کا جائزہ لینے اور کسی ممکنہ خطرے کی بروقت نشاندہی میں مدد ملتی ہے۔

پاکستان نے اس حوالے سے اپنے قومی اداروں کے تجربے کو عالمی سائنسی تعاون کے لیے مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ مؤثر نگرانی اور قابلِ اعتماد سائنسی معلومات تابکاری کے خطرات کو سمجھنے اور ان سے تحفظ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔

تابکاری سے متعلق اردو کتابچے کی تیاری

پاکستانی وفد نے اقوامِ متحدہ کو آگاہ کیا کہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی (PNRA) نے اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کے کتابچے ’’تابکاری: اثرات اور ذرائع‘‘ (Radiation: Effects and Sources) کا مشترکہ طور پر اردو ترجمہ مکمل کر لیا ہے۔

پاکستان کے مطابق یہ کتابچہ طباعت اور اشاعت کے آخری مراحل میں ہے۔ اس اقدام کا مقصد تابکاری کے بارے میں مستند سائنسی معلومات کو اردو بولنے والے عوام کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بنانا ہے، تاکہ لوگ تابکاری کے ذرائع، اس کے ممکنہ اثرات اور حفاظتی اقدامات کے بارے میں درست معلومات حاصل کر سکیں۔

تابکاری سے متعلق عوامی آگاہی اس لیے اہم ہے کہ اس موضوع پر غلط فہمیاں اور غیر مستند معلومات غیر ضروری خوف پیدا کر سکتی ہیں۔ قابلِ اعتماد اور آسان زبان میں دستیاب مواد لوگوں کو طبی استعمال، ماحولیاتی نگرانی اور تابکاری سے متعلق حفاظتی اصولوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

انصار شاہ نے UNSCEAR کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ مختلف زبانوں میں معلوماتی مواد تیار کرکے اپنی عوامی آگاہی مہم کو وسعت دے۔ انہوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ سائنسی ترقی، صحت پر تابکاری کے اثرات سے متعلق نئے اعدادوشمار اور تحفظ کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے UNEP کے مذکورہ کتابچے کو اپ ڈیٹ کیا جائے۔

جوہری ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال پر زور

پاکستانی مندوب نے صحت، زراعت، صنعت اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں جوہری ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کو بھی اجاگر کیا۔ ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی سماجی و اقتصادی ترقی اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

طبی شعبے میں جوہری ٹیکنالوجی تشخیص اور سرطان کے علاج میں مدد دیتی ہے، جبکہ زراعت میں اس کے استعمال سے متعلق تحقیق فصلوں کی بہتری، خوراک کے تحفظ اور زرعی مسائل کے حل میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ صنعتی شعبوں میں بھی تابکاری پر مبنی ٹیکنالوجیز مخصوص پیمائشوں، جانچ اور مختلف عملی ضروریات کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

تاہم ان فوائد سے محفوظ انداز میں استفادہ کرنے کے لیے مؤثر ضابطہ کاری، تربیت یافتہ عملہ، آلات کی نگرانی اور تابکاری سے تحفظ کے معیارات پر عمل درآمد ضروری ہے۔ پاکستان نے اس سلسلے میں عالمی سائنسی اداروں کے ساتھ تعاون اور معلومات کے تبادلے کی اہمیت پر زور دیا۔

عالمی تحقیق اور ترقی پذیر ممالک کی شرکت

انصار شاہ نے تابکاری کے انسانی صحت اور جینیاتی اثرات پر تحقیق، سائنسی اعدادوشمار کو وسیع پیمانے پر جمع کرنے اور ان کی توثیق کو عالمی ترجیحات میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ریڈون گیس کی مؤثر نشاندہی، کائناتی تابکاری سے تحفظ، جوہری فضلے کے ذمہ دارانہ انتظام اور بڑے جوہری حادثات کے طویل المدتی اثرات کی مسلسل نگرانی کو بھی اہم قرار دیا۔

پاکستان نے سرطان کے علاج کے دوران تابکاری کی مقدار بہتر انداز میں متعین کرنے اور تابکاری کی نگرانی و تحقیق میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت بھی اجاگر کی۔ اس کے ساتھ ترقی پذیر ممالک کی جانب سے UNSCEAR کے سائنسی فورمز اور ماہرین کے گروپس میں زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔

ترقی پذیر ممالک کی شمولیت سے مختلف خطوں کے تجربات، تحقیقی ضروریات اور مقامی حالات کو عالمی سائنسی جائزوں میں شامل کرنے کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔ اسی طرح سائنسی اعدادوشمار کے معیار اور ان کی توثیق میں تعاون سے تابکاری کے ممکنہ اثرات کا زیادہ قابلِ اعتماد جائزہ لینے میں مدد مل سکتی ہے۔

انصار شاہ نے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان UNSCEAR کے کام میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی سمیت اپنے سائنسی و ضابطہ جاتی اداروں کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جوہری ٹیکنالوجی کے محفوظ، ذمہ دارانہ اور پائیدار استعمال کے فروغ میں تعاون جاری رکھے گا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: پاکستان نے UNSCEAR کے سائنسی کام کے لیے پائیدار وسائل، تابکاری کے تحفظ سے متعلق عوامی آگاہی اور عالمی تحقیق میں ترقی پذیر ممالک کی شمولیت پر زور دیا ہے۔ اردو کتابچے کی اشاعت کے بارے میں دی گئی معلومات پاکستانی وفد کے بیان پر مبنی ہیں؛ کتابچے کی اشاعت کی حتمی تاریخ فراہم نہیں کی گئی۔

ماخذ: پاکستان کا اقوامِ متحدہ میں بیان، UNSCEAR، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی، اقوامِ متحدہ کا ماحولیاتی پروگرام