Latest news

آزاد کشمیر میں مزید 25 افراد فورتھ شیڈول میں شامل، مجموعی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی

Spread the love

کاشف عباسی ,October19,2026

مظفرآباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اکتوبر 2026ء

پاکستان کے زیرِ انتظام آزاد جموں و کشمیر کی حکومت نے مزید 25 افراد کے نام انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت فورتھ شیڈول میں شامل کر دیے ہیں، جس کے بعد اس فہرست میں شامل افراد کی مجموعی تعداد 400 سے بڑھ گئی ہے۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ فہرست کے مطابق نئے شامل کیے گئے افراد میں زیادہ تر کا تعلق کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے بتایا گیا ہے۔

فہرست میں شامل افراد کی اکثریت پونچھ ڈویژن سے تعلق رکھتی ہے۔ محکمہ داخلہ کی تفصیلات کے مطابق پونچھ سے 16، سدھنوتی سے پانچ اور نیلم سے دو افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں، جبکہ باغ اور میرپور سے ایک، ایک فرد کو فہرست میں رکھا گیا ہے۔ اس طرح تازہ کارروائی میں شامل 25 افراد کی ضلعی تقسیم مکمل ہوتی ہے۔

فورتھ شیڈول میں نام شامل کیے جانے کا معاملہ آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ افراد کے خلاف حکومتی اقدامات کے تسلسل میں سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل بھی مختلف مراحل میں کمیٹی کے رہنماؤں، کارکنوں اور حامیوں کے نام اس فہرست میں شامل کیے جا چکے ہیں۔ حکام کی جانب سے ایسے اقدامات کو سکیورٹی اور نگرانی کے قانونی نظام کے تحت کیا جاتا ہے، تاہم ہر فرد کے معاملے میں انفرادی وجوہات اور شواہد کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔

پونچھ ڈویژن سے سب سے زیادہ نام شامل

تازہ فہرست میں پونچھ سے 16 افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں، جو نئی کارروائی میں کسی ایک علاقے سے سب سے زیادہ تعداد ہے۔ سدھنوتی سے پانچ، نیلم سے دو جبکہ باغ اور میرپور سے ایک، ایک فرد شامل کیا گیا ہے۔

پونچھ ڈویژن حالیہ عرصے میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی سرگرمیوں اور سیاسی و عوامی احتجاج کے حوالے سے توجہ کا مرکز رہا ہے۔ کمیٹی کے ساتھ وابستہ افراد کے خلاف قانونی کارروائیوں اور نگرانی کے اقدامات نے خطے میں حکومتی پالیسی، امن و امان اور شہری آزادیوں سے متعلق بحث کو بھی اہمیت دی ہے۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری فہرست میں افراد کے نام شامل کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ حکام ان پر قانونی ضابطوں کے تحت نگرانی کا نظام لاگو کر سکتے ہیں۔ تاہم صرف فہرست میں نام شامل ہونے سے کسی فرد کے خلاف کسی مخصوص جرم کا ارتکاب خودبخود ثابت نہیں ہوتا؛ ہر معاملے کی قانونی حیثیت متعلقہ نوٹیفکیشن، دستیاب شواہد اور قابلِ اطلاق قانون کے مطابق دیکھی جاتی ہے۔

راولاکوٹ کے مقامی صحافی کا نام بھی فہرست میں شامل

چند روز قبل محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کی گئی ایک فہرست میں راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی صحافی کا نام بھی شامل ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ اس پیش رفت نے صحافتی حلقوں میں بھی توجہ حاصل کی ہے، کیونکہ فورتھ شیڈول میں شامل افراد کو نقل و حرکت اور پولیس کو رپورٹ کرنے سے متعلق پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تاہم دستیاب معلومات میں متعلقہ صحافی کے خلاف مخصوص الزامات، فہرست میں نام شامل کرنے کی انفرادی وجوہات یا ان کے مؤقف کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ اس لیے ان کے معاملے میں کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے متعلقہ حکام کا مؤقف، نوٹیفکیشن اور قانونی ریکارڈ دیکھنا ضروری ہے۔

فورتھ شیڈول میں شامل افراد پر کیا پابندیاں ہوتی ہیں؟

فورتھ شیڈول انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت استعمال ہونے والا ایک نگرانی کا طریقۂ کار ہے۔ اس میں شامل افراد کو متعلقہ قانون اور انتظامی احکامات کے مطابق مختلف پابندیوں اور نگرانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

فراہم کردہ معلومات کے مطابق فہرست میں شامل کسی شخص کو مقامی تھانے میں ہفتے میں ایک مرتبہ حاضری دینا ہوتی ہے۔ اگر اسے کسی دوسرے علاقے میں سفر کرنا ہو تو متعلقہ تھانے کو پیشگی اطلاع دینا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ان شرائط کا مقصد متعلقہ حکام کے مطابق ایسے افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا ہے جنہیں سکیورٹی کے حوالے سے نگرانی کے دائرے میں رکھا گیا ہو۔

قانونی طور پر کسی شخص پر لاگو ہونے والی مخصوص شرائط اس کے نوٹیفکیشن، متعلقہ قانون اور حکام کے احکامات کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے ہر فرد کے معاملے میں اصل حکم نامے اور قانونی بنیاد کا جائزہ اہم ہے۔

نام فہرست میں شامل کرنے کا طریقۂ کار

دستیاب معلومات کے مطابق ضلعی سطح پر ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے، جس میں خفیہ اداروں کے اہلکار بھی شامل ہوتے ہیں۔ متعلقہ ادارے کسی شخص کے بارے میں رپورٹ تیار کرتے ہیں اور اس رپورٹ کی بنیاد پر ضلعی کمیٹی فورتھ شیڈول میں نام شامل کرنے کی منظوری سے متعلق فیصلہ کرتی ہے۔

اس عمل میں انفرادی شواہد، قانونی تقاضوں اور فیصلے کی وجوہات کی اہمیت بنیادی ہے۔ اگر کسی شخص کو فہرست میں شامل کیا جاتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ قانونی حکم اور اس کے خلاف دستیاب قانونی چارہ جوئی کے طریقوں کے بارے میں معلومات حاصل کرے۔

آزاد کشمیر میں فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی تعداد 400 سے تجاوز کرنے کی اطلاع اس معاملے کو مزید اہم بناتی ہے۔ ایک طرف حکومت کو امن و امان اور سکیورٹی کے خدشات سے نمٹنے کی ذمہ داری حاصل ہے، تو دوسری طرف شہریوں کے قانونی حقوق، شفاف طریقۂ کار اور فیصلوں کے جائزے کے امکانات بھی اہم ہیں۔

آئندہ دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ محکمہ داخلہ کی تازہ فہرست کے حوالے سے مزید کیا تفصیلات سامنے آتی ہیں اور آیا متعلقہ افراد یا ان کی نمائندہ تنظیم کی جانب سے اس کارروائی پر کوئی باضابطہ ردعمل دیا جاتا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: فورتھ شیڈول میں نام شامل ہونا نگرانی اور قانونی پابندیوں سے متعلق اقدام ہے، اسے بذاتِ خود کسی فرد کے جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔ تازہ فہرست میں شامل افراد کے خلاف انفرادی وجوہات اور شواہد کی تفصیلات دستیاب نہ ہونے کے باعث ہر معاملے کا فیصلہ متعلقہ قانونی ریکارڈ کی بنیاد پر ہی کیا جانا چاہیے۔

ماخذ: آزاد کشمیر محکمہ داخلہ، دستیاب سرکاری نوٹیفکیشنز، انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2014