

منصور احمد,October19,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اکتوبر 2026ء
پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کو ضروری فوجی معاونت فراہم کر رہا ہے اور سعودی عرب کے خلاف کسی بھی حملے کو روکنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق مکہ معاہدے کے تحت رکن ممالک کے خلاف جارحیت کی صورت میں اجتماعی ردعمل دیا جائے گا۔
ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے سعودی عرب پر حملوں کے تناظر میں پاکستان کے مؤقف کی وضاحت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کو اہمیت دیتا ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ رکن ممالک کے خلاف جارحیت کو صرف دوطرفہ مسئلہ نہیں بلکہ اجتماعی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔
احمد شریف چوہدری نے حوثیوں کے نام اپنے انتباہی پیغام میں کہا کہ سعودی عرب پر حملوں کا جواب مکہ معاہدے کے رکن ممالک کی جانب سے اجتماعی سطح پر دیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے فراہم کردہ بیان میں کسی مخصوص فوجی کارروائی، اس کے وقت یا طریقۂ کار کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
پاکستان کی جانب سے یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یمن کے تنازع، حوثیوں کے حملوں اور سعودی عرب کی سکیورٹی سے متعلق خدشات نے خطے میں کشیدگی کو بڑھا رکھا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات اور ممکنہ اجتماعی ردعمل سے متعلق بیانات کو علاقائی سلامتی کے تناظر میں اہمیت دی جا رہی ہے۔
یمنی حکومت کی درخواست پر غور کیا جائے گا
بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کو براہِ راست فوجی معاونت فراہم کرنے کے امکان سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ آیا اسلام آباد کو اس مقصد کے لیے کوئی باضابطہ درخواست موصول ہوئی ہے یا نہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایسی درخواست موصول ہوتی ہے تو پاکستان اس کا جائزہ لے گا اور مناسب فیصلہ کرے گا۔
اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی جانب سے یمنی حکومت کو براہِ راست فوجی معاونت فراہم کرنے کے معاملے پر حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اس سلسلے میں کسی ممکنہ اقدام کا انحصار باضابطہ درخواست، متعلقہ حالات اور پاکستانی حکام کے جائزے پر ہوگا۔
یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت اور حوثی تحریک کے درمیان تنازع کئی برسوں سے جاری ہے۔ اس تنازع میں علاقائی فریقوں کی شمولیت کے باعث امن و سلامتی کی صورتِ حال پیچیدہ رہی ہے۔ پاکستان کی جانب سے کسی نئی فوجی معاونت کے فیصلے کے خطے میں سفارتی اور سکیورٹی اثرات بھی ہو سکتے ہیں، تاہم فی الحال ایسی کسی نئی تعیناتی یا کارروائی کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
مکہ اور مدینہ سے متعلق حملوں پر پاکستانی ردعمل
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مکہ اور مدینہ پر حملوں یا مقدس مقامات کو خطرے میں ڈالنے کی دھمکیوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات کے بعد پاکستان میں عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پایا گیا۔ ان کے مطابق عام شہریوں، بچوں، نوجوانوں اور سیاسی و عسکری قیادت نے سعودی عرب کے خلاف حملوں پر حیرت اور ناراضی کا اظہار کیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کوئی شخص سعودی عرب پر حملہ کرنے یا مقدس مقامات کو خطرے میں ڈالنے کے بارے میں کیسے سوچ سکتا ہے۔ ان کے بیان میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اور مقدس مقامات کے تحفظ سے وابستہ جذبات کو نمایاں کیا گیا۔
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مسلمانوں کے لیے غیر معمولی مذہبی اہمیت رکھتے ہیں، اس لیے ان مقامات سے متعلق کسی بھی سکیورٹی خطرے کی خبر پاکستان سمیت مسلم دنیا میں گہری تشویش پیدا کر سکتی ہے۔ تاہم کسی مخصوص حملے، دھمکی یا واقعے کی تفصیلات کو متعلقہ حکام کی تصدیق کے ساتھ ہی حتمی طور پر بیان کرنا ضروری ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون اور سکیورٹی رابطوں کی طویل تاریخ ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے حالیہ بیان میں اسی تعاون کو موجودہ علاقائی صورتِ حال کے تناظر میں اجاگر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان سعودی عرب کو ضروری فوجی معاونت فراہم کر رہا ہے اور ممکنہ حملوں کے خلاف دستیاب وسائل استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔
تاہم فوجی معاونت کی نوعیت، اس کے حجم، تعیناتی کی تفصیلات اور کسی ممکنہ مشترکہ کارروائی کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ اسی طرح یمنی حکومت کی جانب سے پاکستان کو باضابطہ درخواست موصول ہونے کی بھی تصدیق نہیں ہوئی۔
موجودہ صورتِ حال میں آئندہ پیش رفت کا انحصار سعودی عرب کی سکیورٹی صورتِ حال، یمن میں جاری تنازع اور متعلقہ ممالک کے سفارتی و دفاعی فیصلوں پر ہوگا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: ڈی جی آئی ایس پی آر نے سعودی عرب کے لیے پاکستانی فوجی معاونت اور مکہ معاہدے کے تحت اجتماعی ردعمل کی آمادگی کا بیان دیا ہے۔ یمنی حکومت کو براہِ راست اضافی فوجی معاونت دینے کے بارے میں انہوں نے صرف یہ کہا کہ باضابطہ درخواست موصول ہونے پر اس کا جائزہ لیا جائے گا؛ کسی نئی فوجی کارروائی کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ماخذ: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا انٹرویو، پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ