Latest news

تربت میں آل پارٹیز کیچ کی بڑی ریلی: پاک ایران بارڈر تجارت کی فوری بحالی اور امن و امان کا مطالبہ

Spread the love

کاشف عباسی , September 20,2026

تربت (نیوز اینڈ نیوز) — 20 ستمبر 2026ء

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں آل پارٹیز کیچ کے زیرِ اہتمام اتوار کے روز ایک وسیع ریلی اور احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا، جس میں ضلع میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال، کرائم کی شرح میں اضافے اور پاک ایران سرحدی تجارت میں حائل رکاوٹوں کے خلاف سخت آواز اٹھائی گئی۔ ریلی کے شرکاء نے شہر کی اہم شاہراہوں پر مارچ کیا، جس کے بعد ایک بڑا احتجاجی اجتماع منعقد ہوا۔ نیشنل پارٹی کے ترجمان علی احمد بلوچ کے مطابق اس احتجاج میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں، مقامی تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور سول سوسائٹی سے وابستہ افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ضلع کیچ میں قتل، اغوا، ڈکیتی اور چوری کے روز افزوں واقعات نے شہریوں کے معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بدامنی کے ساتھ ساتھ ایران سے ملحقہ سرحدی تجارت کی بندش نے مقامی آبادی کی معاشی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ خطے کی معیشت اور ہزاروں خاندانوں کا روزگار اسی سرحد سے جڑا ہوا ہے۔ آل پارٹیز کے رہنماؤں نے زور دیا کہ حکومت شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے اور جالگی کراسنگ پوائنٹ سمیت تمام سرحدی راستوں کو فوری طور پر تجارت کے لیے کھولے۔

دوسری جانب، بلوچستان حکومت کی پارلیمانی سیکریٹری برائے کھیل و امورِ نوجوانان مینا مجید بلوچ نے اپنے ایک بیان میں نیشنل پارٹی کے احتجاج پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت سرحدی مسائل سے بخوبی آگاہ ہے۔ ان کے مطابق آئی جی فرنٹیئر کور (ایف سی) پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ جالگی بارڈر کھولنے کے لیے اقدامات جاری ہیں، تاہم ایرانی حکام کے کچھ سکیورٹی تحفظات موجود ہیں جنہیں باہمی مذاکرات سے حل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس احتجاج کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہوئی، تاہم منتظمین نے اسے عوام کے معاشی حقوق کی حقیقی ترجُمانی قرار دیا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

تربت کا احتجاج پاک ایران سرحدی تجارت کی بحالی اور امن و امان کی بہتری کے مطالبات پر مبنی تھا۔ ریلی میں عوامی شرکت اور جالگی بارڈر کی بندش کی وجوہات پر سیاسی رہنماؤں اور حکومتی نمائندوں کے اپنے اپنے الگ مواقف ہیں، جنہیں غیر جانبدارانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

ماخذ: مکران بیورو، نیوز اینڈ نیوز تربت / کوئٹہ۔