Latest news

فوجی راستہ یا مزید پابندیاں مسئلے کا حل نہیں، عباس عراقچی

Spread the love

محمود احمد, October04,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اکتوبر 2026ء

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری تنازع کے حل کے لیے نہ تو فوجی راستہ مسئلے کا حل ہے اور نہ ہی مزید پابندیاں عائد کرنے سے صورتحال بہتر ہوگی۔ ان کے مطابق تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی قابلِ عمل راستہ ہے۔

ایران میں تعینات مختلف ممالک کے سفیروں اور ناظم الامور سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا ماضی میں جنگ اور سفارت کاری دونوں راستوں میں ناکام ہو چکا ہے۔ ان کے بقول پابندیوں کے ذریعے نئے حل آزمانے سے بھی واشنگٹن کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ تنازع کا حل صرف ایسے مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے جو انصاف اور برابری کی بنیاد پر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ باوقار اور سفارتی طریقے سے نکالا جانے والا حل ہی جنگ کے خاتمے اور ایران کے خلاف شروع کی گئی کارروائی کے خاتمے کا حتمی راستہ بن سکتا ہے۔

عباس عراقچی نے اپنی گفتگو میں سفارتی کوششوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران مذاکرات کے ذریعے تنازع کا حل تلاش کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم ان کے مطابق مذاکرات میں فریقین کے درمیان برابری اور باہمی احترام کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔

امریکا کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائی کے ممکنہ خدشے کے حوالے سے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران کسی بھی صورتحال کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران امید کرتا ہے کہ امریکا دانش مندی اور عقلمندی کا راستہ اختیار کرے گا، تاہم اگر واشنگٹن دوبارہ فوجی حل کی طرف بڑھتا ہے تو ایران پہلے سے زیادہ تیار ہوگا۔

عراقچی کے مطابق ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران کی ترجیح سفارتی راستے سے تنازع کا حل ہے، تاہم فوجی کارروائی کی صورت میں ایران اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث سفارتی کوششیں بھی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ ایران مسلسل مذاکرات اور سفارت کاری کو تنازع کے حل کا ذریعہ قرار دے رہا ہے، جبکہ ساتھ ہی کسی ممکنہ فوجی کارروائی کے مقابلے کے لیے اپنی تیاری کا بھی اظہار کر رہا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
عباس عراقچی کے بیان میں فوجی راستے، پابندیوں اور مذاکرات سے متعلق ایران کا مؤقف بیان کیا گیا ہے۔ خبر میں ان کے بیانات کو ایرانی حکومت کے مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے؛ امریکا کی جانب سے ان نکات پر کوئی الگ مؤقف اس فراہم کردہ بیان میں شامل نہیں تھا۔ ایران کی جانب سے کسی ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں دفاعی ردعمل کی بات کو بھی اسی تناظر میں منسوب کیا گیا ہے۔

ماخذ: ایرانی وزارت خارجہ، عباس عراقچی کا سفیروں اور ناظم الامور سے خطاب