

محمود احمد, October23,2026
ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اکتوبر 2026ء
سعودی عرب کی سرکاری تیل و گیس کمپنی آرامکو کے صدر اور چیف ایگزیکٹو امین ناصر نے پیش گوئی کی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالات معمول پر آنے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی طلب میں یومیہ تقریباً 30 لاکھ بیرل اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس اضافے میں 20 لاکھ بیرل یومیہ اضافی کھپت اور بحران کے دوران استعمال کیے گئے ذخائر کی بحالی کے لیے مزید 10 لاکھ بیرل یومیہ تیل کی ضرورت شامل ہوگی۔
العربیہ بزنس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امین ناصر نے کہا کہ خطے میں جنگ کے باعث پیدا ہونے والے بحران کے آغاز سے اب تک تقریباً تین ارب بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر تیل کے ذخائر سے رسد جاری رکھنے، چین کی سمندری راستوں سے درآمدات میں کمی اور سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے متبادل ترسیل نے منڈی پر دباؤ کم کرنے میں کردار ادا کیا۔
آرامکو کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر عالمی اسٹریٹجک ذخائر سے تیل جاری نہ کیا جاتا اور متبادل سپلائی کے انتظامات دستیاب نہ ہوتے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کہیں زیادہ بلند سطح تک پہنچ سکتی تھیں۔ ان کے بیان کے مطابق بحران نے تیل کی عالمی ترسیل کے نظام میں لچک، متبادل راستوں اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کی اہمیت کو نمایاں کیا ہے۔
تیل کی طلب میں اضافے کی وجوہات
امین ناصر کے اندازے کے مطابق حالات معمول پر آنے کے بعد تیل کی طلب میں اضافے کے دو بڑے اسباب ہوں گے۔ پہلا سبب مختلف شعبوں میں معمول کی سرگرمیوں کی بحالی کے نتیجے میں تیل کی کھپت میں یومیہ تقریباً 20 لاکھ بیرل اضافہ ہے۔ دوسرا سبب وہ ذخائر دوبارہ بھرنا ہے جو بحران کے دوران سپلائی برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیے گئے۔
اس کا مطلب ہے کہ حالات بہتر ہونے کے باوجود تیل کی منڈی پر فوری طور پر دباؤ ختم ہونا ضروری نہیں۔ ایک طرف معمول کی معاشی سرگرمیوں سے ایندھن کی طلب بڑھ سکتی ہے، جبکہ دوسری جانب حکومتوں اور اداروں کو اپنے استعمال شدہ ذخائر دوبارہ بھرنے کے لیے اضافی تیل خریدنا پڑ سکتا ہے۔
تاہم یہ تخمینہ مستقبل کی صورتِ حال سے متعلق ہے۔ حقیقی طلب کا انحصار جنگ کے خاتمے، عالمی معیشت کی رفتار، تیل پیدا کرنے والے ممالک کی پیداوار اور توانائی کی منڈی میں دستیاب رسد پر ہوگا۔
ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی استعداد بڑھانے کا منصوبہ
آرامکو کے سربراہ نے بتایا کہ کمپنی اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی موجودہ استعداد، جو یومیہ 70 لاکھ بیرل بتائی گئی ہے، بڑھا کر ایک کروڑ بیرل یومیہ کرنے پر کام کر رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت پائپ لائن کی گنجائش میں یومیہ 30 لاکھ بیرل اضافہ کیا جائے گا۔
سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن تیل کو مشرقی پیداواری علاقوں سے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع برآمدی مراکز تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس راستے کی اہمیت یہ ہے کہ تیل کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے اور متبادل برآمدی راستہ استعمال کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
امین ناصر کے مطابق اس توسیعی منصوبے کے لیے انجینیئرنگ کا کام بحران کے ابتدائی دنوں میں ہی شروع کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی اضافی برآمدی راستوں کا بھی جائزہ لے رہی ہے تاکہ سپلائی کے نظام کو زیادہ لچک دار بنایا جا سکے۔
اگر منصوبے کے ذریعے پائپ لائن کی گنجائش بڑھانے کا ہدف حاصل ہو جاتا ہے تو سعودی عرب کو تیل کی ترسیل کے لیے اضافی گنجائش میسر آ سکتی ہے۔ تاہم منصوبے کی تکمیل، عملی آغاز اور اس سے حاصل ہونے والی حقیقی اضافی رسد کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
ایشیا میں تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت دوگنا کرنے کی کوشش
امین ناصر نے مزید بتایا کہ آرامکو اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر سعودی عرب سے باہر تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے پر کام کر رہی ہے۔ اس منصوبے میں خاص طور پر ایشیا پر توجہ دی جا رہی ہے، جو کمپنی کی سب سے بڑی منڈی ہے۔
ان کے مطابق بیرونِ ملک ذخیرہ گاہوں کی صلاحیت دوگنا کرنے کا مقصد سپلائی کے نظام کو زیادہ قابلِ اعتماد اور لچک دار بنانا ہے۔ ایشیائی منڈیوں کے قریب تیل ذخیرہ ہونے سے ضرورت کے وقت رسد کی فراہمی میں سہولت پیدا ہو سکتی ہے اور طویل بحری سفر پر فوری انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تیل کی عالمی تجارت میں ذخائر کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ کسی تنازع، بندرگاہ کی بندش یا بحری راستے میں رکاوٹ کے دوران فوری دستیاب سپلائی قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس کے باوجود ذخیرہ گاہوں کی توسیع اکیلے تمام خطرات ختم نہیں کرتی؛ اس کے لیے محفوظ ترسیلی راستوں، مناسب پیداوار اور عالمی منڈی میں توازن بھی ضروری ہے۔
عالمی توانائی کی منڈی کے لیے اہم اشارے
آرامکو کے سربراہ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحران کے بعد تیل کی طلب میں اضافہ صرف معمول کی کھپت بحال ہونے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ذخائر کی دوبارہ بھرائی بھی اضافی ضرورت پیدا کر سکتی ہے۔ اس صورتِ حال میں تیل پیدا کرنے والے ممالک، درآمد کنندگان اور توانائی کی کمپنیوں کو رسد اور طلب کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔
عالمی منڈی میں قیمتوں کا آئندہ رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ متاثرہ سپلائی کتنی تیزی سے بحال ہوتی ہے، ذخائر کی بھرائی کس رفتار سے ہوتی ہے اور سعودی عرب سمیت بڑے پیدا کنندگان اضافی طلب کا جواب کس حد تک دے پاتے ہیں۔ آرامکو کے پیش کردہ تخمینے اس ممکنہ دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم حتمی صورتِ حال کا تعین مستقبل کی پیداوار اور کھپت کے اعداد و شمار سے ہوگا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
تیل کی طلب میں یومیہ 30 لاکھ بیرل اضافے کا اندازہ آرامکو کے سربراہ امین ناصر کی پیش گوئی ہے، نہ کہ پہلے سے واقع ہونے والا اضافہ۔ اسی طرح تقریباً تین ارب بیرل سپلائی متاثر ہونے اور پائپ لائن کی استعداد بڑھانے سے متعلق اعداد و شمار بھی ان کے بیان سے منسوب ہیں؛ ان منصوبوں کے حقیقی نتائج کا انحصار عملی پیش رفت اور خطے کی صورتِ حال پر ہوگا۔
ماخذ: العربیہ بزنس، آرامکو کے صدر اور چیف ایگزیکٹو امین ناصر کا انٹرویو