
منصور احمد,October08,2026
ریاض/صنعا (نیوز اینڈ نیوز) — 8 اکتوبر 2026ء
یمن میں حوثی گروپ انصار اللہ اور سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کے درمیان جاری لڑائی میں شدت کے دوران حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔ سعودی حکام نے فوری طور پر اس تازہ دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
حوثی فوجی ترجمان کے مطابق میزائل حملہ جمعرات کو کیا گیا اور کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ہدف بنایا گیا۔ یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی حکام پہلے ہی رواں ہفتے ریاض کے اسی ہوائی اڈے پر ہونے والے ایک حملے میں ایک شخص کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دے چکے ہیں۔
حالیہ حملوں کے دوران سعودی عرب کے دیگر ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ سعودی شہری ہوا بازی کے حکام کے مطابق ریاض اور ابہا کے ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب یمن میں سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان زمینی لڑائی بھی جاری ہے۔ سعودی حمایت یافتہ فورسز نے بحیرہ احمر اور باب المندب کے قریب حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں، تاہم اب تک ان کی پیش رفت محدود رہی ہے۔
اسی کشیدہ صورتحال کے دوران شام کی جانب سے سعودی عرب کو ممکنہ فوجی معاونت فراہم کرنے کے معاملے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق زیرِ غور امکانات میں سعودی عرب کو دفاعی معاونت فراہم کرنا یا سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کی مدد کے لیے شامی اہلکاروں کی ممکنہ تعیناتی شامل ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے شام سے حوثیوں کے خلاف جنگ میں تعاون اور فورسز کی ممکنہ تعیناتی کی درخواست کی ہے۔ تاہم شامی حکام نے واضح کیا ہے کہ دمشق کی ترجیح اس وقت ملک کی داخلی صورتحال، بحالی اور تعمیرِ نو ہے۔
ایک شامی سفارت کار کے مطابق اگر سعودی عرب کی جانب سے فوجی تعاون یا مہارت کے تبادلے کی درخواست کی جاتی ہے تو اس پر دونوں ممالک کے درمیان موجود سرکاری معاہدوں اور باقاعدہ سفارتی ذرائع کے ذریعے غور کیا جائے گا۔
شام کے عبوری صدر احمد الشرع نے رواں ہفتے ریاض کا دورہ کیا جہاں ان کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات ہوئی۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کے تناظر میں یمن کی صورتحال اور ممکنہ دفاعی تعاون بھی زیرِ بحث آنے کی اطلاعات ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر شام براہِ راست یمن کی جنگ میں شامل ہوتا ہے تو اس سے تنازع کے علاقائی اور فرقہ وارانہ پہلو مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ تاہم دمشق کی جانب سے اب تک کسی حتمی فوجی تعیناتی کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
حوثیوں کی جانب سے ریاض ایئرپورٹ پر تازہ میزائل حملے کا دعویٰ تاحال سعودی حکام کی جانب سے باضابطہ طور پر تصدیق شدہ نہیں تھا۔ اسی طرح شام کی ممکنہ فوجی معاونت کے معاملے میں مختلف فریقوں کے بیانات میں فرق موجود ہے؛ اس لیے شامی فوج کی یمن میں تعیناتی کو فی الحال طے شدہ فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
ماخذ: روئٹرز، امریکی خبر رساں ادارے، سعودی شہری ہوا بازی حکام