Latest news

کینیڈا کے فوجی اڈے وین رائٹ میں شدید آتشزدگی، متعدد ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات

Spread the love

محمود احمد, October18,2026

وین رائٹ، البرٹا (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اکتوبر 2026ء

کینیڈا کے صوبے البرٹا میں واقع فوجی اڈے وین رائٹ میں ہفتے کے روز شدید آتشزدگی کے نتیجے میں متعدد افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاہم کینیڈا کے وزیرِ دفاع ڈیوڈ میک گنٹی نے تاحال ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی حتمی تعداد کی تصدیق نہیں کی۔ حکام کے مطابق آگ پر قابو پانے اور واقعے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے فوجی اہلکار مقامی ہنگامی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

کینیڈا کے وزیرِ دفاع ڈیوڈ میک گنٹی نے واقعے کو انتہائی متحرک اور نازک صورتِ حال قرار دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈین مسلح افواج آگ بجھانے کی کوششوں میں مقامی حکام کی معاونت کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق متعلقہ ادارے آگ لگنے کے اسباب کا جائزہ بھی لے رہے ہیں۔ تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آگ کس مقام سے شروع ہوئی اور اس کے پھیلنے کی بنیادی وجہ کیا تھی۔

کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایک سنگین واقعہ پیش آیا ہے جس کے باعث بڑی آگ بھڑک اٹھی۔ انہوں نے متاثرہ افراد اور ان کے اہلِ خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ حکومتی سطح پر واقعے کی سنگینی کے پیشِ نظر امدادی کارروائیوں اور صورتِ حال کی نگرانی جاری ہے۔

تیز ہواؤں کے باعث آگ پھیلنے کی اطلاعات

وین رائٹ کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق ہفتے کے روز لگنے والی آگ تیز ہواؤں کے باعث تیزی سے پھیل گئی اور فوجی اڈے کی باڑوں کو عبور کرتے ہوئے آس پاس کے علاقے تک پہنچ گئی۔ تیز ہوا کے باعث آگ پر قابو پانے کی کوششیں مشکل ہو سکتی ہیں، خصوصاً ایسے مقامات پر جہاں خشک گھاس، جھاڑیاں یا دیگر آتش گیر مواد موجود ہو۔

مقامی حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرہ علاقے سے دور رہیں اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف گاڑیوں کو راستہ دیں۔ اس ہدایت کا مقصد فائر فائٹرز، طبی عملے، پولیس اور دیگر ہنگامی اہلکاروں کو جائے وقوعہ تک بلا رکاوٹ پہنچنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ آگ کے باعث فوجی اڈے کے کن حصوں کو نقصان پہنچا ہے یا آیا اردگرد کی رہائشی آبادی کو خالی کرانے کی ضرورت پیش آئی۔ ان پہلوؤں سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے کے بعد واقعے کے مجموعی اثرات کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے گا۔

ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی اطلاع پہلی مرتبہ مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً 5 بج کر 30 منٹ پر دی تھی۔ تاہم دستیاب معلومات میں آگ بھڑکنے کا درست وقت واضح نہیں کیا گیا۔ یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ آگ لگنے کے وقت فوجی اڈے کے کس حصے میں سرگرمیاں جاری تھیں۔

وین رائٹ فوجی تربیت کا اہم مرکز

کینیڈین فورسز بیس وین رائٹ ملک کے مصروف ترین فوجی تربیتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں فوجی اہلکاروں کی تربیت اور مختلف نوعیت کی مشقیں کی جاتی ہیں۔ کینیڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق یہ اڈہ فائرنگ کی مشقوں کے لیے بھی ایک مرکزی مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق عام دنوں میں اس فوجی اڈے پر تقریباً 690 فوجی اہلکار اور 300 سویلین ملازمین موجود ہوتے ہیں۔ اس تعداد کے پیشِ نظر آتشزدگی کے واقعے کے بعد وہاں موجود افراد کی حفاظت، ان کی حاضری کی تصدیق اور ممکنہ متاثرین کی شناخت اہم امور بن گئے ہیں۔

تاہم یہ تعداد معمول کے دنوں میں موجود اہلکاروں اور ملازمین سے متعلق ہے؛ اسے واقعے کے وقت اڈے پر موجود افراد کی حتمی تعداد نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسی طرح حکام کی جانب سے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کی تصدیق نہ ہونے کے باعث یہ کہنا ممکن نہیں کہ متاثرین میں فوجی اہلکار کتنے ہیں اور سویلین ملازمین کتنے۔

فوجی تربیتی مراکز میں آتشزدگی کے واقعات کی وجوہات جاننے کے لیے عموماً متعلقہ مقام، وہاں استعمال ہونے والے آلات، سرگرمیوں اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔ وین رائٹ میں بھی تحقیقات کے ذریعے ہی معلوم ہو سکے گا کہ آگ کسی حادثے، تکنیکی خرابی یا کسی دوسرے سبب سے لگی۔

البرٹا کی وزیرِ اعلیٰ کا اظہارِ افسوس

البرٹا کی وزیرِ اعلیٰ ڈینیئل سمتھ نے واقعے کو بڑا اور افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے صوبے کے متعدد بہادر فوجی اہلکار متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکام صورتِ حال سے نمٹنے اور واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں وفاقی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

صوبائی اور وفاقی اداروں کے درمیان تعاون اس لیے اہم ہے کہ فوجی اڈے کے اندر کارروائیوں کے ساتھ آس پاس کے علاقے میں آگ کے پھیلاؤ کو روکنا اور شہریوں کی حفاظت یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ ہنگامی اداروں کو جائے وقوعہ تک رسائی، آگ بجھانے کے وسائل اور متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے مربوط انداز میں کام کرنا پڑتا ہے۔

فی الحال حکام کی توجہ آگ پر قابو پانے، علاقے کو محفوظ بنانے اور واقعے کی وجوہات معلوم کرنے پر مرکوز ہے۔ ہلاکتوں، زخمیوں اور املاک کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد واقعے کی مکمل نوعیت واضح ہو سکے گی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق وین رائٹ فوجی اڈے میں شدید آتشزدگی ہوئی ہے، لیکن کینیڈین وزیرِ دفاع نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد کی تصدیق نہیں کی۔ آگ کی وجہ، متاثرہ افراد کی شناخت اور فوجی اڈے کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق تفصیلات بھی تاحال واضح نہیں ہیں۔ اس لیے ابتدائی اطلاعات کو حتمی نتائج کے بجائے جاری صورتِ حال کی رپورٹ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

ماخذ: کینیڈا کی وزارتِ دفاع، وزیرِ اعظم مارک کارنی کا بیان، البرٹا کی وزیرِ اعلیٰ ڈینیئل سمتھ کا بیان، وین رائٹ ضلعی انتظامیہ، کینیڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن (CBC)