Latest news

پاک افغان سرحد پر شدید جھڑپیں، فریقین کے ایک دوسرے پر حملوں اور نپٹانے کے متضاد دعوے

Spread the love

منصور احمد,October18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اکتوبر 2026ء

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافے کے دوران صوبہ پکتیا اور خیبر پختونخوا کے علاقے اپر کرم میں پاکستانی اور افغان طالبان فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ دونوں جانب سے کارروائیوں اور نقصانات کے بارے میں متضاد دعوے کیے گئے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ سرحدی صورتِ حال نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

افغانستان کے سرکاری خبر رساں ادارے باختر نے طالبان حکومت کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ صوبہ پکتیا میں افغان سکیورٹی فورسز اور پاکستانی فورسز کے درمیان کئی گھنٹوں تک لڑائی جاری رہی۔ رپورٹ میں طالبان حکومتی ذرائع کے حوالے سے سات پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا گیا، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی اور فراہم کردہ معلومات میں پاکستانی حکام کی جانب سے اس مخصوص دعوے پر کوئی تصدیق موجود نہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے علاقے اپر کرم میں پاکستانی فوج نے افغان طالبان حکومت کی فورسز کی جانب سے مبینہ بلااشتعال فائرنگ کا مؤثر جواب دیا۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق جوابی کارروائی کے دوران افغان طالبان کی متعدد چوکیاں تباہ کی گئیں اور طالبان اہلکار اپنی پوزیشنیں چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

تاہم پاکستانی کارروائی کے نتائج سے متعلق ان دعوؤں کی بھی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔ دونوں ممالک کی جانب سے سامنے آنے والی اطلاعات میں واقعات کی تفصیلات اور نقصانات کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے، اس لیے صورتِ حال کا حتمی تعین مزید قابلِ اعتماد معلومات سامنے آنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

پکتیا میں کئی گھنٹوں تک لڑائی کی اطلاعات

افغانستان کے طالبان حکومت سے وابستہ سکیورٹی ذرائع نے بھی سرحدی جھڑپ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ افغان فوجیوں اور سرحدی محافظوں کا پاکستانی فورسز کے ساتھ تصادم ہوا۔ ان ذرائع کے مطابق لڑائی میں مختلف ہتھیار استعمال کیے گئے۔

افغانستان کی جانب سے فراہم کردہ ایک ویڈیو میں طالبان حکومت کی فورسز کو سرحدی علاقے میں راکٹ اور توپ خانے کے استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ تاہم ویڈیو کے مقام، وقت اور اس میں دکھائی جانے والی کارروائی کی مکمل آزادانہ تصدیق کے بغیر اس سے جھڑپ کے تمام حالات یا نقصانات کا حتمی تعین نہیں کیا جا سکتا۔

سرحدی علاقوں میں فائرنگ اور بھاری ہتھیاروں کے استعمال کی اطلاعات کے باعث مقامی آبادی کی سلامتی بھی اہم مسئلہ بن جاتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں شہریوں کو نقصان پہنچنے، آمدورفت متاثر ہونے اور معمولاتِ زندگی میں خلل پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں حالیہ جھڑپوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں یا زخمیوں کی مصدقہ تعداد سامنے نہیں آئی۔

تجارتی راستوں کی بندش سے پہلے ہی مشکلات

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے اثرات صرف سکیورٹی معاملات تک محدود نہیں رہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرحد پار آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔ اکتوبر 2025 میں دونوں ملکوں کے درمیان مسلح جھڑپوں اور حملوں کے بعد پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تمام تجارتی راستے بند کر دیے تھے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق سرحدی تجارت کی بندش کو تقریباً ایک سال ہو چکا ہے۔

تجارتی راستوں کی طویل بندش سے سرحد پار سامان لے جانے والے ٹرکوں، تاجروں اور درآمد و برآمد سے وابستہ کاروباروں کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے لیے استعمال ہونے والی گزرگاہیں خوراک، زرعی مصنوعات، دیگر اشیا اور کاروباری سرگرمیوں کی نقل و حرکت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

سرحدی کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کی صورت میں تجارت کی بحالی اور آمدورفت معمول پر لانے کی کوششیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ تاہم موجودہ جھڑپوں کے بعد تجارتی راستے کھولنے یا بند رکھنے سے متعلق کسی نئی پیش رفت کی تفصیلات فراہم کردہ معلومات میں شامل نہیں ہیں۔

افغانستان میں کارروائیوں سے متعلق پرانے دعوے بھی تنازع کا حصہ

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم پہلو سرحد پار کارروائیوں سے متعلق متضاد مؤقف بھی ہے۔ یکم اکتوبر 2026 کو پاکستانی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی افواج نے مصدقہ انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان میں دو مقامات پر مبینہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 22 شدت پسند ہلاک ہوئے۔

افغان طالبان حکام نے پاکستانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ افغان صوبوں کنڑ اور ہلمند میں عام شہریوں کے گھروں پر بمباری کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت نو افغان شہری ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔ ان دعوؤں کے حوالے سے بھی دونوں فریقوں کے مؤقف میں واضح اختلاف موجود ہے۔

یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی کارروائیوں، سرحدی حملوں اور ان کے نتائج سے متعلق بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایسے حالات میں ہلاکتوں، تباہ شدہ چوکیوں اور شہری نقصانات کے بارے میں غیر جانب دارانہ تصدیق اہمیت رکھتی ہے۔

کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں کی اہمیت

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی امن دونوں ممالک کی سکیورٹی، تجارت اور مقامی آبادی کے معمولاتِ زندگی کے لیے اہم ہے۔ مسلسل جھڑپوں سے نہ صرف سرحدی علاقوں میں عدم تحفظ بڑھ سکتا ہے بلکہ پہلے سے متاثرہ تجارتی سرگرمیوں اور دوطرفہ تعلقات کی بحالی میں بھی رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

موجودہ صورتِ حال میں دونوں جانب سے آنے والے دعوؤں کی تصدیق، واقعات کی مکمل تفصیلات سامنے لانا اور شہریوں کو ممکنہ نقصان سے محفوظ رکھنا اہم ترجیحات ہیں۔ سرحدی تنازعات کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے رابطوں اور سفارتی کوششوں کی ضرورت بھی برقرار ہے۔

فی الحال دستیاب اطلاعات سے یہ واضح ہے کہ پکتیا اور اپر کرم کے حوالے سے جھڑپوں کی خبریں سامنے آئی ہیں، لیکن ہلاکتوں، تباہ شدہ چوکیوں اور کارروائیوں کے مکمل نتائج کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ آئندہ سرکاری بیانات اور قابلِ اعتماد معلومات سے صورتِ حال کے مزید پہلو واضح ہو سکتے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: اس خبر میں پاکستان اور افغانستان سے منسوب دعوؤں کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔ سات پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کا افغان دعویٰ اور افغان چوکیوں کی تباہی سے متعلق پاکستانی مؤقف آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں۔ اسی طرح یکم اکتوبر کی کارروائیوں میں ہلاکتوں اور شہری نقصانات کے بارے میں دونوں فریقوں کے بیانات میں اختلاف ہے؛ اس لیے کسی بھی دعوے کو حتمی حقیقت قرار دینے کے لیے مزید تصدیق ضروری ہے۔

ماخذ: افغان سرکاری خبر رساں ادارہ باختر، طالبان حکومت کے سکیورٹی ذرائع، پاکستانی حکومتی بیان