او آئی سی کی نویں خواتین وزارتی کانفرنس اسلام آباد میں شروع، پاکستان آئندہ دو سال کے لیے چیئرمین شپ سنبھالے گا

روزینہ اسماعیل, JULY 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 جولائی 2026ء

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی نویں خواتین وزارتی کانفرنس اتوار کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تکنیکی سطح کے اجلاسوں کے آغاز کے ساتھ شروع ہو گئی ہے۔ اس دو روزہ موقر کانفرنس میں او آئی سی کے 57 رکن ممالک سے تقریباً 190 اہم نمائندے شریک ہیں، جن میں وزراء، اعلیٰ حکومتی افسران اور سفارت کار شامل ہیں۔ کانفرنس کے دوران مسلم امہ میں خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی شرکت کو بڑھانے اور رکن ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مضبوط کرنے کے تزویراتی طریقوں پر تفصیلی مباحثہ کیا جائے گا۔

موقر تفصیلات کے مطابق، یہ کانفرنس “او آئی سی ممالک میں خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی بااختیار سازی: چیلنجز اور آگے کا راستہ” کے اہم موضوع پر منعقد ہو رہی ہے۔ کانفرنس کا بنیادی فوکس خواتین کی تعلیم، صحت، روزگار، انٹرپرینیورشپ، مالیاتی خدمات، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مواقع تک رسائی کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ عوامی زندگی میں ان کی مکمل شرکت کی راہ میں حائل تزویراتی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ افتتاحی دن تکنیکی ماہرین اور اعلیٰ افسران کے تیاری کے سیشنز منعقد ہو رہے ہیں تاکہ پیر کے روز ہونے والے وزرا اجلاس کے لیے سفارشات کو حتمی شکل دی جا سکے۔

وزیر اعظم شہباز شریف پیر کے روز وزارتی سیشن کا باقاعدہ افتتاح کریں گے، جس کے ساتھ ہی پاکستان آئندہ دو سال کے لیے مصر سے او آئی سی خواتین وزارتی کانفرنس کی چیئرمین شپ باقاعدہ طور پر سنبھال لے گا۔ کانفرنس سے متعدد اعلیٰ پاکستانی رہنما خطاب کریں گے، جن میں پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شیزہ فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ اور قومی اسمبلی کی اراکین وجیہہ قمر اور صبا صادق شامل ہیں۔ یہ رہنما پاکستان کی خواتین کو بااختیار بنانے، تعلیم، معاشی شمولیت اور قیادت کو فروغ دینے کے لیے حکومتی اقدامات کو عالمی سطح پر اجاگر کریں گے۔ کانفرنس کا اختتام ’’اسلام آباد اعلامیہ‘‘ کی منظوری کے ساتھ متوقع ہے، جس میں مسلم ممالک میں خواتین کی پائیدار ترقی کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک پیش کیا جائے گا۔

راولپنڈی، گجرات اور سیالکوٹ سمیت مختلف شہروں میں موسلا دھار برسات؛ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر انتظامیہ متحرک، شہریوں کو محتاط رہنے کی اپیل

روزینہ اسماعیل, JULY 12,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 12 جولائی 2026ء

پنجاب کے مختلف اضلاع میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مون سون بارشوں کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری رہا، جس میں سب سے زیادہ 51 ملی میٹر بارش نارووال میں ریکارڈ کی گئی ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ مقتدر رپورٹ کے مطابق، حالیہ بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی اور نچلے علاقوں میں پانی جمع ہونے کے خدشات کے پیشِ نظر تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران راولپنڈی کے مختلف مقتدر علاقوں میں بھی بادل جم کر برسے، جہاں گوالمنڈی میں 36 ملی میٹر، نیو کٹاریاں میں 35 ملی میٹر، شمس آباد میں 23 ملی میٹر، کچہری میں 21 ملی میٹر اور پیرودھائی میں 19 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ گجرات میں 28 ملی میٹر، سیالکوٹ میں 24 ملی میٹر، مری اور اٹک میں 19، 19 ملی میٹر، چکوال میں 4 ملی میٹر، جبکہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں 3 ملی میٹر اور منڈی بہاؤالدین میں 2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے اس تزویراتی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی خصوصی اور مقتدر ہدایات کے پیشِ نظر صوبے بھر کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز (ڈیسیوز) اور واسا سمیت تمام متعلقہ نکاسیٔ آب کے اداروں کو فیلڈ میں الرٹ رہنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔ انہوں نے شہریوں سے بھی مقتدر اپیل کی ہے کہ وہ آسمانی بجلی کی گرج چمک اور تیز طوفان کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں، بجلی کے کھمبوں سے دور رہیں اور کسی بھی ہنگامی تزویراتی صورتحال کی صورت میں پی ڈی ایم اے کی آفیشل ہیلپ لائن 1129 پر فوری کال کریں۔

پاک فوج، ایف سی اور پولیس کی ہوائی و زمینی کارروائیاں؛ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں ہلاک خوارج کی مجموعی تعداد 105 تک پہنچ گئی

منصور احمد, JULY 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 جولائی 2026ء

بلوچستان میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کے لیے پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کا مشترکہ تزویراتی ’’آپریشن شعبان‘‘ پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الخوارج کے خلاف کی جانے والی تازہ ہوائی اور زمینی کارروائیوں کے دوران مزید 3 خارجی دہشت گردوں کو کامیابی سے جہنم واصل کر دیا گیا ہے۔ معتبر سکیورٹی ذرائع کے مطابق، ان تازہ ترین کارروائیوں کے بعد اتوار کے روز تک صرف ‘آپریشن شعبان’ کے تحت ہلاک ہونے والے خوارج کی مجموعی تعداد 67 ہو چکی ہے۔

سکیورٹی ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ مقتدر تفصیلات کے مطابق، 5 جولائی سے اب تک صوبے کے مختلف حصوں میں جاری آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مجموعی طور پر فتنہ الخوارج کے 105 خارجی دہشت گرد جہنم واصل کیے جا چکے ہیں۔ سکیورٹی حکام نے عزمِ صمیم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بلوچستان کی دھرتی سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی یہ مربوط کارروائیاں بلا مقتدر تعطل جاری رہیں گی اور صوبے میں آخری دہشت گرد کے مکمل خاتمے تک آپریشن شعبان پوری تزویراتی قوت کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی تازہ کارروائیاں، مزید 5 خارجی دہشت گرد جہنم واصل

منصور احمد, JULY 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

سکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف مقتدر کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے علاقے میں تازہ تزویراتی آپریشنز کے دوران مزید 5 خارجیوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ معتبر سکیورٹی ذرائع کے مطابق، ‘آپریشن شعبان’ کے تحت ہفتہ کی شام تک کی جانے والی مؤثر کارروائیوں میں جہنم واصل ہونے والے اب تک کے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 57 ہو گئی ہے۔

سکیورٹی ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ تزویراتی تفصیلات کے مطابق، 5 جولائی سے اب تک جاری رہنے والے آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مجموعی طور پر فتنہ الخوارج کے 95 خارجی دہشت گردوں کو کامیابی سے جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔ سکیورٹی حکام نے اس مقتدر عزم کا اعادہ کیا ہے کہ صوبہ بلوچستان کے امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے والے عناصر کے خلاف یہ کارروائیاں بلا امتیاز جاری رکھی جائیں گی اور ملک سے آخری دہشت گرد کے مکمل خاتمے تک بلوچستان میں ‘آپریشن شعبان’ پوری تزویراتی قوت کے ساتھ جاری رہے گا۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد کا سوات کے تحصیل آفس بری کوٹ کا دورہ، مستحق خواتین سے ملاقات

کاشف عباسی , JULY 11,026

سوات / پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے سوات کے علاقے بری کوٹ میں بی آئی ایس پی تحصیل آفس کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے وہاں موجود مستحق خواتین سے تفصیلی ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور ان کے فوری تزویراتی حل کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر چیئرپرسن نے خواتین کو ڈیجیٹل والٹ کے محفوظ استعمال، مکمل ادائیگی وصول کرنے اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی کٹوتی سے محفوظ رہنے کے حوالے سے خصوصی طور پر آگاہ کیا۔

مقتدر تفصیلات کے مطابق، سینیٹر روبینہ خالد نے خواتین بینیفشریز کو بتایا کہ والٹ ایکٹیویشن فیس 280 روپے ہے۔ انہوں نے خواتین کو تسلی دیتے ہوئے واضح کیا کہ آپ کی امدادی رقم آپ کے ڈیجیٹل والٹ میں مکمل طور پر محفوظ رہتی ہے، اس لیے رقم نکالنے میں کسی قسم کی جلد بازی کی ضرورت نہیں۔ مستحق خواتین اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی وقت متعلقہ بینک کے کسی بھی مجاز ریٹیلر سے اپنی مکمل رقم حاصل کر سکتی ہیں۔

سینیٹر روبینہ خالد نے دورے کے دوران ‘بینظیر فری سم’ کی تقسیم کے عمل کا بھی باریک بین جائزہ لیا اور عملے کو سخت تزویراتی ہدایات جاری کیں کہ تمام مستحق خواتین کو شفاف، باعزت اور بروقت خدمات فراہم کی جائیں اور ان کے وقار کا خاص خیال رکھا جائے۔ اس مقتدر موقع پر ڈائریکٹر جنرل بی آئی ایس پی خیبر پختونخوا الف جان آفریدی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے اور انہوں نے انتظامی امور پر بریفنگ دی۔

تیزی سے بڑھتی آبادی ماحولیاتی پائیداری اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سنگین خطرہ ہے، ترجمان وزارتِ موسمیاتی تبدیلی

منصور احمد, JULY 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے ترجمان اور ماحولیاتی پالیسی کے نامور ماہر محمد سلیم شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان میں آبادی میں تیز رفتار اضافہ ماحولیاتی پائیداری اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی قومی صلاحیت کے لیے ایک بڑا تزویراتی چیلنج بن چکا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے آبادی کے مؤثر انتظام کو موسمیاتی موافقت (کلائمیٹ ایڈاپٹیشن) اور پائیدار ترقی کی حکمتِ عملی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ آبادی کے موقع پر کیا، جو ہر سال 11 جولائی کو تولیدی صحت، صنفی مساوات، انسانی حقوق اور پائیدار ترقی جیسے اہم موضوعات پر شعور اجاگر کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔

محمد سلیم شیخ نے مقتدر تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اقوامِ متحدہ نے سال 2026ء کے لیے ’’آج اور مستقبل میں نوجوانوں کی امیدوں اور امنگوں کو حقیقت کا روپ دینا‘‘ کو عالمی موضوع قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی مجموعی آبادی اب تقریباً 25 کروڑ 90 لاکھ ہو چکی ہے اور سالانہ شرحِ اضافہ 2.55 فیصد ہے، جبکہ یہاں ہر سال تقریباً 67 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں۔ ترجمان نے خبردار کیا کہ اگر یہ موجودہ رجحان برقرار رہا تو آئندہ پانچ برسوں میں ملکی آبادی 30 کروڑ سے تجاوز کر جائے گی، جس سے پانی، صحت، تعلیم، رہائش، روزگار اور بنیادی شہری ڈھانچے پر غیر معمولی دباؤ بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی آبادی میں اضافے، شہری توسیع اور موسمیاتی تبدیلی کو پائیدار ترقی کے لیے بڑے چیلنجز قرار دے چکے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان میں شرحِ پیدائش 3.6 بچے فی خاتون ہے جو پورے جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ آبادی میں یہ بے ہنگم اضافہ پانی کی قلت، جنگلات کی کٹائی، زمینی انحطاط، حیاتیاتی تنوع میں کمی اور فضائی آلودگی کا باعث بن رہا ہے۔ محمد سلیم شیخ نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ موسمیاتی لچک (کلائمیٹ ریزیلینس) صرف شجرکاری یا سیلاب سے بچاؤ کے منصوبوں سے حاصل نہیں ہو سکتی، بلکہ اس کے لیے تعلیم، خواتین کی بااختیاری، خاندانی منصوبہ بندی، تولیدی صحت اور پائیدار شہری منصوبہ بندی میں تزویراتی سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ موجودہ حکومت تمام متعلقہ اداروں کے مقتدر تعاون سے ایسی مربوط پالیسیاں تشکیل دے رہی ہے جو ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنا سکیں۔

آبادی میں غیر معمولی اضافہ معیشت اور وسائل کے لیے بڑا چیلنج ہے، پائیدار مستقبل کے لیے فوری منصوبہ بندی لازم ہے، سینیٹر شیری رحمان

منصور احمد, JULY 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی مقتدر نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کی معیشت، محدود وسائل اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ایک سنگین تزویراتی چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اور ہم آہنگ اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ عالمی یومِ آبادی (ورلڈ پاپولیشن ڈے) کے موقع پر جاری کردہ اپنے ایک تزویراتی پیغام میں انہوں نے بتایا کہ عالمی آبادی 8 ارب 20 کروڑ جبکہ پاکستان کی آبادی تقریباً 25 کروڑ 90 لاکھ ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن چکا ہے۔

سینیٹر شیری رحمان نے واضح کیا کہ پاکستان کی سالانہ آبادی کی شرحِ نمو 2.55 فیصد ہے جبکہ ملک میں فرٹیلیٹی کی شرح 3.6 تک پہنچ گئی ہے، جو بدقسمتی سے پورے جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آبادی میں اضافے کا موجودہ رجحان اسی طرح جاری رہا تو 2050ء تک پاکستان کی مجموعی آبادی تقریباً 39 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے، اس لیے بروقت اور مقتدر منصوبہ بندی انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تیز رفتار اضافہ پانی کے وسائل، غذائی تحفظ، صحت، تعلیم، رہائش اور روزگار کے مواقع پر شدید دباؤ کا باعث بن رہا ہے، لہٰذا حکومت خاندانی منصوبہ بندی کو قومی بجٹ، معاشی منصوبہ بندی اور ترقیاتی پالیسیوں کا لازمی حصہ بنائے۔

سماجی و معاشی چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہوئے پی پی پی کی مقتدر رہنما نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں 5 سال سے کم عمر کے تقریباً 40 فیصد بچے غذائی کمی کی وجہ سے نشوونما میں رکاوٹ (اسٹنٹنگ) کا شکار ہیں، جبکہ ملک کی تقریباً 42 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس کے علاوہ، سال 2025ء کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 1 کروڑ 10 لاکھ پاکستانیوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا رہا ہے اور غیر کنٹرول شدہ آبادی اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبادی کی نمو صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر خاندان اور پوری قوم کی فکر ہے۔

اپنے مقتدر پیغام کے اختتام پر سینیٹر شیری رحمان نے تاکید کی کہ آبادی کی نمو کو منظم کرنا موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اور غذائی تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے پارلیمان، صوبائی حکومتوں، مذہبی علماء، اساتذہ، ڈاکٹروں اور سول سوسائٹی سے پرزور اپیل کی کہ وہ مل کر عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کریں، کیونکہ درست پالیسی سازی اور انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کے ذریعے ہی اس آبادی کو بوجھ کے بجائے ایک حقیقی قومی تزویراتی طاقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

تیزی سے بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی ملک کا قیمتی اثاثہ ہے، تعلیم و ہنر فراہم کر کے معاشی استحکام کا ضامن بنایا جا سکتا ہے، طاہر ایوب

روزینہ اسماعیل, JULY 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے قائم مقام صدر طاہر ایوب نے کہا ہے کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے، جسے معیاری تعلیم، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، جدید مہارتوں اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کر کے قومی ترقی اور معاشی استحکام کا ضامن بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ آبادی میں اضافے کو چیلنج کے بجائے معاشی مواقع میں تبدیل کرنے کے لیے ایک جامع قومی حکمتِ عملی اختیار کی جائے تاکہ پاکستان اپنی آبادیاتی صلاحیت سے بھرپور استفادہ کر سکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو عالمی یومِ آبادی کے موقع پر چیمبر ہاؤس میں مختلف کاروباری وفود سے تزویراتی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ طاہر ایوب نے کہا کہ عالمی یومِ آبادی اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ پائیدار ترقی کے لیے آبادی میں اضافے، انسانی وسائل کی ترقی اور معاشی منصوبہ بندی کے درمیان متوازن ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ کسی بھی قوم کی حقیقی طاقت صرف اس کی آبادی کی تعداد میں نہیں بلکہ اس بات میں مضمر ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تعلیم، ہنر اور مواقع فراہم کر کے قومی ترقی میں کس حد تک مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نوجوان آبادی کے لحاظ سے دنیا کے اہم ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک غیر معمولی موقع فراہم کرتی ہے، تاہم اگر انسانی وسائل کی ترقی پر بروقت سرمایہ کاری نہ کی گئی تو یہی آبادی معاشی اور سماجی مسائل میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نجی شعبہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، نوجوانوں میں کاروباری رجحان پیدا کرنے اور افرادی قوت کی استعداد بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ قائم مقام صدر آئی سی سی آئی نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسیوں کا تسلسل، معاشی استحکام اور کاروبار دوست ماحول ہی سرمایہ کاری میں اضافے اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے صنعتی شعبے، انفارمیشن ٹیکنالوجی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور برآمدات پر مبنی صنعتوں کی مقتدر سرپرستی پر زور دیا۔

اس تزویراتی موقع پر آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد عرفان چوہدری نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو فنی تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت، ڈیجیٹل مہارتوں اور کاروباری صلاحیتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط اور فعال ایس ایم ای سیکٹر، سازگار حکومتی پالیسیوں اور آسان مالیاتی سہولیات کی بدولت لاکھوں نئے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، جو ملک میں جامع اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

ملک گیر کریک ڈاؤن: اے این ایف کی بڑی کارروائیاں، 3 کروڑ 82 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی منشیات برآمد، 2 خواتین سمیت 10 ملزمان گرفتار

منصور احمد, JULY 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے ملک کے مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کو مزید تیز کرتے ہوئے مختلف مقتدر کارروائیوں میں 3 کروڑ 82 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی مجموعی طور پر 487.31 کلو گرام منشیات برآمد کر کے 2 خواتین سمیت 10 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ اے این ایف کے مقتدر ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق، منشیات کے عالمی نیٹ ورکس اور اسمگلرز کے خلاف یہ تزویراتی کارروائیوں ملک کے مختلف ایئرپورٹس اور شاہراہوں پر عمل میں لائی گئیں۔

ترجمان کے مطابق، پہلی بڑی کارروائی پشاور کے باچا خان ایئرپورٹ پر کی گئی، جہاں جدہ جانے والی 2 خواتین سمیت 3 مسافروں کے سفری بیگ کی تلاشی کے دوران 1.960 کلو گرام اعلیٰ معیار کی آئس برآمد کر کے ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا۔ اسی طرح اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی ایک تزویراتی کارروائی کے دوران جدہ جانے والے 3 دیگر مسافروں کے بیگ میں موجود کپڑوں میں تیکنیکی طور پر جذب کی گئی 6.55 کلو گرام آئس برآمد کر کے ملزمان کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ شاہراہوں پر کی گئی کارروائیوں میں رنگ روڈ پشاور کے قریب ایک مشکوک ٹرک سے 410.4 کلو گرام چرس، جبکہ ملتان روڈ لاہور کے قریب ایک رکشہ سے 25.2 کلو گرام چرس برآمد کر کے متعلقہ ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

علاوہ ازیں، اے این ایف نے سپینی روڈ کوئٹہ میں واقع ایک کوریئر آفس پر چھاپہ مار کر پارسل میں موجود فائبر باکس سے 19.2 کلو گرام چرس برآمد کی۔ سندھ میں کی گئی کارروائیوں کے دوران انڈس ہائی وے جامشورو کے قریب ایک ٹرک سے 18 کلو گرام چرس، جبکہ نیشنل ہائی وے حیدرآباد کے قریب ایک مسافر بس کے مسافر کے قبضے سے 6 کلو گرام چرس برآمد کر کے دونوں ملزمان کو مقتدر گرفت میں لے لیا گیا۔ اے این ایف حکام کے مطابق، ان تمام کامیاب کارروائیوں کے خلاف انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 کے تحت باقاعدہ مقدمات درج کر کے بین الاقوامی و قومی اسمگلنگ نیٹ ورک کے تانے بانے معلوم کرنے کے لیے تفصیلی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

نوجوانوں کی ڈیجیٹل صلاحیتیں اور تکنیکی مہارتیں ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں، وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ

روزینہ اسماعیل, JULY 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی ڈیجیٹل صلاحیتوں اور جدید تکنیکی مہارتوں کا فروغ پاکستان کے روشن، ترقی یافتہ اور خوشحال مستقبل کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ ڈیجیٹل تعلیم اور آئی ٹی کی تربیت کے ذریعے خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانا موجودہ حکومت کی اولین ترین ترجیح ہے۔ مقتدر تفصیلات کے مطابق، ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ آبادی کے موقع پر جاری کیے گئے اپنے ایک اہم اور تزویراتی پیغام میں کیا۔

وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے اپنے پیغام میں زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب کو ایک فعال ڈیجیٹل معیشت (Digital Economy) میں تبدیل کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملکی نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، فری لانسنگ کے مواقع اور عالمی سطح کی تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کے لیے حکومتی سطح پر بھرپور اور مسلسل کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی باصلاحیت خواتین آئی ٹی سیکٹر کی مقتدر مدد سے نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ دنیا بھر میں اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کر رہی ہیں، جو کہ خوش آئند ہے۔ وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق ملک بھر میں تیز ترین انٹرنیٹ کی بہترین فراہمی اور ‘ڈیجیٹل پاکستان’ کے تزویراتی منصوبے پر تیز رفتاری سے کام کر رہے ہیں تاکہ ہر شہری کو ترقی کے مساوی مواقع میسر آ سکیں۔

آبادی میں سالانہ 2.55 فیصد اضافہ معاشی ترقی اور وسائل کی تقسیم کے لیے بڑا چیلنج ہے، وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی , JULY 11,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آبادی سے متعلق بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت اور معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ کاوشوں کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں آبادی میں سالانہ 2.55 فیصد کا غیر معمولی اضافہ معاشی منصوبہ بندی، روزگار کی فراہمی، تعلیم، صحت، رہائش، غذائی تحفظ، بنیادی شہری ڈھانچے کی ترقی اور ماحولیاتی پائیداری کے حوالے سے انتہائی سنگین تزویراتی چیلنجز کا باعث بن رہا ہے۔ آج (ہفتہ کو) منائے جانے والے عالمی یومِ آبادی (ورلڈ پاپولیشن ڈے) پر اپنے خصوصی مقتدر پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان آج اقوامِ عالم کے ساتھ ہم آواز ہو کر آبادی کی پائیدار ترقی اور خوشحالی کی ضامن ذمہ دارانہ منصوبہ بندی کے عزم کی تجدید کرتا ہے۔

وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ آبادی کی ذمہ دارانہ و دانشمندانہ منصوبہ سازی اور نظم و نسق ہی ایک فلاحی معاشرے کی بنیاد ہے، کیونکہ دستیاب وسائل سے متناسب آبادی ہی سہولیات کی منصفانہ تقسیم اور خوشحال عوام کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال یہ عالمی دن ’’نوجوانوں کی امیدوں اور امنگوں کو آج اور مستقبل میں حقیقت بنانا‘‘ کے زیرِ عنوان منایا جا رہا ہے، جو اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ خوشحال مستقبل کی تشکیل میں نوجوان مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آبادی کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، جہاں مجموعی ملکی آبادی کا 65 فیصد سے زائد حصہ 30 برس سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جو ایک قیمتی قومی سرمایہ اور معاشی و سماجی ترقی کا مضبوط تزویراتی محرک ہے، تاہم اس بڑھتی ہوئی آبادی کی استعداد سے بھرپور استفادے کے لیے ملکی وسائل میں مسلسل سرمایہ کاری اور جامع حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔

وزیراعظم نے ایک اہم مقتدر پیشرفت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ملکی آبادی اور ترقی کے تناظر میں جامع اور مؤثر قومی حکمتِ عملی کی تشکیل کے لیے وفاقی حکومت کے زیرِ نگرانی “قومی کونسل برائے آبادی” قائم کر دی گئی ہے۔ یہ اعلیٰ سطحی قومی فورم وفاق اور صوبوں کے درمیان پالیسی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی روابط کو یقینی بنائے گا، جبکہ بااختیار خواتین، انسانی وسائل کی ترقی، اور طویل المدتی سماجی و معاشی خوشحالی اس کونسل کی اولین تزویراتی ترجیحات میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو باصلاحیت اور بااختیار بنانے کے لیے ‘وزیراعظم یوتھ پروگرام’ جیسے اقدامات بھی جاری ہیں۔

اپنے پیغام کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی و صوبائی حکومتوں، اراکینِ پارلیمان، ترقیاتی شراکت داروں، سول سوسائٹی، جامعات، نجی شعبے، علمائے کرام اور ذرائع ابلاغ سے پرزور اپیل کی کہ وہ آبادی کے معاملے کی حساسیت کے مدِ نظر ہنگامی بنیادوں پر اپنی سماجی ذمہ داری کا احساس کریں، تاکہ اجتماعی عزم اور مشترکہ کاوشوں کے ذریعے ملکی آبادیاتی صلاحیت کو ایک دیرپا قومی قوت میں بدل کر موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان کو یقینی بنایا جا سکے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت پورٹ کنیکٹیویٹی میں بہتری کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس

منصور احمد, JULY 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 جولائی 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بندرگاہوں کے رابطہ نظام (پورٹ کنیکٹیویٹی) میں تزویراتی بہتری کے حوالے سے ہفتہ کو ایک اعلیٰ سطح کے مقتدر اجلاس کی صدارت کی۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اجلاس کے دوران سیکرٹری میری ٹائم افیئرز نے کمیٹی کو پاکستان کی بندرگاہوں کی موجودہ صورتحال، ان کی آپریشنل استعداد اور فنڈز کے استعمال کی صلاحیت کے بارے میں تفصیلی تزویراتی بریفنگ دی۔

نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار نے اجلاس سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع ایک انتہائی اہم تزویراتی اثاثہ ہے جس سے ملکی معیشت کے لیے بھرپور استفادہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وسطی، جنوبی اور مغربی ایشیا کے اہم ترین سنگم پر واقع ہے، اس لیے رابطہ کاری کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کر کے ملک زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ کمیٹی نے ملک کی تمام بندرگاہوں کی مجموعی ترقی، آپریشنل کارکردگی میں مقتدر اضافے اور علاقائی سطح پر مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

اجلاس کے دوران بندرگاہوں کے رابطہ نظام کو فول پروف بنانے، آپریشنل امور کو مؤثر بنانے، مختلف مقتدر اداروں کے درمیان باہمی رابطہ کاری کو مضبوط کرنے، بین الاقوامی تجارت اور لاجسٹکس کو آسان بنانے پر غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ متعلقہ شعبوں میں اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ پاکستان کی بندرگاہوں کو مؤثر علاقائی تجارتی مراکز (ریجنل ٹریڈ ہب) کے طور پر ترقی دی جا سکے۔ اس اہم تزویراتی اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف، وزیر بحری امور، معاون خصوصی وزیراعظم برائے محصولات طارق باجوہ، سیکرٹری میری ٹائم افیئرز، ڈائریکٹر جنرل این ایل سی چیئرمین کراچی پورٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی اور ملکی رابطوں کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

کمبوڈیا میں چینی شہریوں کے اسکامنگ نیٹ ورک میں کام کرنے کا اعتراف؛ جعلی ‘علی ایکسپریس’ اور ‘ٹیلی گرام’ کے ذریعے غیر ملکیوں سے فراڈ کا انکشاف

محمود احمد, JULY 10,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) امیگریشن نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر ایک بڑی اور تزویراتی کارروائی کرتے ہوئے کمبوڈیا اور سری لنکا میں سرگرم بین الاقوامی آن لائن فراڈ اور اسکیمنگ نیٹ ورک سے مبینہ طور پر منسلک ایک خاتون مسافر کو آف لوڈ کر کے باقاعدہ گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی اے کے مقتدر ترجمان کے مطابق، آف لوڈ کی جانے والی مسافرہ کی شناخت فاطمہ ساجد دختر ساجد وحید (سکنہ لاہور) کے نام سے ہوئی ہے۔ مذکورہ خاتون سری لنکا جانے کے لیے ایئرپورٹ پہنچی تھی جہاں امیگریشن کلیئرنس کے دوران مشکوک سفری حالات کی بناء پر اسے تفصیلی تزویراتی جانچ پڑتال کے لیے روک لیا گیا۔

دورانِ تفتیش مسافرہ نے اعتراف کیا کہ وہ اس سے قبل کمبوڈیا میں چینی شہریوں کے زیرِ انتظام چلنے والے ایک منظم آن لائن اسکیمنگ نیٹ ورک میں باقاعدہ کام کر چکی ہے۔ خاتون کے مقتدر بیان کے مطابق، اسے ملازمت کا جھانسہ دے کر 2 لاکھ روپے وصول کیے گئے تھے جبکہ ویزا اور ٹکٹ کا انتظام بھی اسی گروہ نے کیا تھا۔ وہاں جعلی ’علی ایکسپریس‘ پلیٹ فارم اور ’ٹیلی گرام‘ کے ذریعے مصری شہریوں کو سرمایہ کاری کے نام پر آن لائن فراڈ کا نشانہ بنایا جاتا تھا جس پر چینی آپریٹرز اہداف مکمل کرنے پر تنخواہ اور کمیشن دیتے تھے۔ مسافرہ نے وہاں ایچ آر کی ذمہ داریاں بھی سنبھال رکھی تھیں اور متعدد پاکستانی شہریوں کو اس فراڈ کمپنی میں بھرتی کروایا۔

خاتون نے مزید انکشاف کیا کہ اس کا دوست ’وکٹر‘ اب اسے سری لنکا بلا رہا تھا جہاں اسے اسی نوعیت کی آن لائن اسکیمنگ کمپنی میں دوبارہ ملازمت کی پیشکش کی گئی تھی۔ ایف آئی اے حکام نے مسافرہ کے موبائل فون کے باریک بین تجزیے سے آن لائن فراڈ، جعلی پلیٹ فارمز، ٹیلی گرام چیٹس اور دیگر اہم ڈیجیٹل شواہد برآمد کر لیے ہیں جن سے انسانی اسمگلنگ، بین الاقوامی سائبر فراڈ اور منظم ٹرانس نیشنل جرائم سے گہرے تزویراتی تعلقات سامنے آئے ہیں۔ خاتون کو مزید مقتدر تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔

پاکستان میں غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن ختم، کارآمد ویزے کے بغیر قیام پر فوری گرفتاریوں کا حکم

منصور احمد, JULY 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے لیے حکومت کی جانب سے دی گئی آخری ڈیڈ لائن ختم ہو گئی ہے، جس کے بعد کارآمد ویزے کے بغیر مقیم کسی بھی افغان شہری کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت نے ملک میں بغیر قانونی دستاویزات، اوور اسٹے کیسز اور غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی بیدخلی (ڈی پورٹیشن) کے عمل میں مزید تزویراتی تیزی لانے کا مقتدر فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اب افغان شہریوں کی گرفتاریوں کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر وفاقی وزارتِ داخلہ کو تفصیلی رپورٹ بھیجی جائے گی۔

مقتدر تفصیلات کے مطابق، وفاقی وزارتِ داخلہ کو روزانہ کی بنیاد پر بھیجی جانے والی اس رپورٹ میں بغیر ویزے کے پکڑے گئے افغان شہریوں کی درست تعداد، ان کے خلاف اب تک کی گئی قانونی کارروائی اور ان کی موجودہ حیثیت کے تمام تزویراتی کوائف شامل ہوں گے۔ وفاقی وزارتِ داخلہ نے اس مقتدر مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے 28 جون 2026ء کو چاروں صوبائی چیف سیکریٹریز، چیف سیکریٹری گلگت بلتستان، چیف سیکریٹری آزاد کشمیر اور چیف کمشنر اسلام آباد کو ان فیصلوں پر سختی سے عمل درآمد کرنے کے لیے باقاعدہ خط لکھا تھا۔

وزارتِ داخلہ کے اس مقتدر خط میں تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، متعلقہ پولیس حکام اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کو اس فیصلے پر من و عن عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے ضروری اور ہنگامی ہدایات جاری کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد اب کسی بھی غیر قانونی تارکِ وطن کو ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون کے مطابق سخت تزویراتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے ایس ایم ای سیکٹر کو قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کیا جائے، وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی , JULY 10,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے مختلف پیداواری شعبوں کو آسان شرائط پر مالی سہولیات کی فراہمی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے ملک کے تمام بینکوں کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ ترجیحی شعبوں بالخصوص ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں کے اجراء میں نمایاں اضافہ کریں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت پاکستان میں ‘ایکسیس ٹو فائنانس’ کے فروغ کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی اجلاس جمعہ کو یہاں منعقد ہوا۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اجلاس میں وزیراعظم کو ‘ایکسیس ٹو فائنانس پلان’ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور معاشی استحکام سے پائیدار معاشی ترقی کے سفر کو تیز کرنے کے لیے پلان کی ترجیحات اور اہداف پر روشنی ڈالی گئی۔

بریفنگ میں مقتدر حکام کو بتایا گیا کہ اس اہم منصوبے کا مرکزی نکتہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز)، زراعت، برآمدات، قابل تجدید توانائی، ہاؤسنگ اور آئی ٹی کے شعبوں کے لیے آسان قرضوں اور کریڈٹ تک رسائی کو بڑھانا ہے، تاکہ برآمدات میں اضافہ، پائیدار معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ اس تزویراتی منصوبے پر عملدرآمد کے لیے وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر مشتمل پورے نظام پر مبنی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ وفاقی وزیرِ خزانہ اس نئے گورننس اسٹرکچر کی سربراہی کریں گے جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس کے شریک سربراہ ہوں گے۔ اس اسٹرکچر کے تحت باقاعدہ اجلاس منعقد ہوں گے اور وزیراعظم کو ہر ماہ اس تزویراتی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ کیا جائے گا، جس کے تحت اگلے 2 سال کے لیے پرعزم اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایس ایم ای سیکٹر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور آسان شرائط پر فنڈز کی دستیابی سے ہی برآمدات پر مبنی معیشت کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مالی سہولیات کی فراہمی میں بہتر اور بہترین کارکردگی دکھانے والے بینکوں کی حکومتی سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے گی، جبکہ اس پلان پر پیش رفت کے حوالے سے ماہانہ جائزہ اجلاس کی صدارت وہ خود کریں گے۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اس پلان کے تحت نجی شعبے کے مجموعی قرضوں میں ایس ایم ای سیکٹر کا حصہ موجودہ 7 فیصد سے بڑھا کر اگلے 2 سال میں 10 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ایس ایم ای شعبے میں قرضوں سے مستفید ہونے والے افراد اور کاروباروں کی تعداد کو 310,000 سے بڑھا کر اگلے 2 سال میں 750,000 تک پہنچایا جائے گا۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، پاکستانی بینکوں کے صدور و سی ای اوز ، صوبائی چیف سیکرٹریز اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی اور معاشی استحکام کے اس تزویراتی روڈ میپ پر مکمل یکسوئی کا اظہار کیا۔

لاہور میں پیپلز پارٹی کا کم بیک، 25 جولائی کو مینارِ پاکستان پر تاریخی جلسہ کریں گے، صدر پی پی پی وسطی پنجاب راجہ پرویز اشرف

منصور احمد, JULY 10,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) وسطی پنجاب کے صدر اور مقتدر رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا 25 جولائی کو مینارِ پاکستان پر ہونے والا جلسہ انتہائی کامیاب اور تاریخی ہو گا۔ وہ جمعہ کے روز پیپلز پارٹی لاہور ڈویژن کے زیرِ اہتمام جوہر ٹاؤن آفس میں 25 جولائی کے جلسے کی تیاریوں، پی پی پی لاہور کی نئی ویب سائٹ کے باقاعدہ افتتاح اور ٹاؤن عہدیداروں سے ملاقات کے موقع پر تزویراتی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں میاں شاہد عباس، مجید غوری، خرم فاروق، احمد گھمن، اسجد ملک، اصغر بھٹی، منیر ڈگرہ، عامر نصیر بٹ، آغا تقی، شاہدہ جبیں، طاہرہ جالب، حسن اشرف، شاویز ندیم، احمد رضا شاہ، ازین گلزار، رانا ٹیپو، افراز نقوی سمیت جیالوں اور کارکنوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔

تقریب کے دوران عمران ڈوگر نے پیپلز پارٹی لاہور کی نئی ویب سائٹ پر مقتدر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ویب سائٹ پر اب تک 66 ہزار 946 ممبرز کی رکنیت مکمل کر لی گئی ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے اپنے خطاب میں پی پی لاہور کے صدر فیصل میر کے مینارِ پاکستان جلسے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج کارکنوں کی تیاریاں دیکھ کر واضح ہے کہ یہ ایک مقتدر جلسہ ہو گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اگلے 15 دن ہر کارکن جلسے کی بھرپور منصوبہ بندی کرے، کوئی ورکر اکیلا نہ جائے بلکہ اپنے ساتھ فیملی، دوستوں اور ساتھیوں کو لے کر آئے، میں خود بھی جلسے میں پارٹی پرچم اٹھا کر شریک ہوں گا۔ انہوں نے واشگاف کیا کہ سب کو ساتھ لے کر چلنا ہی اصل لیڈر شپ ہوتی ہے۔

پی پی لاہور کے صدر فیصل میر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ 25 جولائی کو لاہور کے 10 ٹاؤنوں سے جیالوں کے مقتدر قافلے مینارِ پاکستان پہنچیں گے، جہاں ہر ٹاؤن کو 10 ہزار کارکن لانے کا ہدف دیا گیا ہے اور جلسے کے انتظامی امور کے لیے 25 کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جلسے کی رات صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا جائے گا۔ جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عائشہ شوکت اور مجید غوری نے بھی خطاب کرتے ہوئے قیادت کو یقین دلایا کہ لاہور میں پی پی پی کی مقتدر تبدیلی نظر آئے گی اور جلسے کے دن 10 ہزار رکشوں پر پیپلز پارٹی کا جھنڈا لہرایا جائے گا۔ قبل ازیں، راجہ پرویز اشرف کی آمد پر فیصل میر اور ڈاکٹر عائشہ نے ان کا شاندار استقبال کیا اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔

اسلام آباد میں او آئی سی کی خواتین سے متعلق 9 ویں وزارتی کانفرنس کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے انتظامات کا جائزہ لیا

کاشف عباسی , JULY 10,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 12 اور 13 جولائی کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی خواتین سے متعلق 9 ویں وزارتی کانفرنس کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی کے آٹھویں اجلاس کی صدارت کی ہے۔ جمعہ کو دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اجلاس کے دوران اس بین الاقوامی کانفرنس کے پروقار انعقاد کے لیے حتمی تیاریوں کا تفصیلی اور تزویراتی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران سیکرٹری انسانی حقوق نے کانفرنس کے مجموعی پروگرام، غیر ملکی وفود کی سہولت، سفارتی پروٹوکول، فول پروف سکیورٹی، لاجسٹکس، میڈیا انتظامات اور بین الوزارتی مؤثر رابطہ کاری سے متعلق کیے گئے انتظامات پر ایک جامع بریفنگ دی، تاکہ کانفرنس کا انعقاد مکمل خوش اسلوبی اور کامیابی کے ساتھ یقینی بنایا جا سکے۔ نائب وزیرِاعظم سینیٹر اسحاق ڈار نے متعلقہ کونسل اور حکام کی محنت اور کاوشوں کو مقتدر الفاظ میں سراہتے ہوئے خصوصی ہدایت کی کہ دنیا بھر سے اس اہم کانفرنس میں شرکت کے لیے آنے والے معزز وفود کے قیام کو ہر ممکن حد تک آرام دہ اور خوشگوار بنایا جائے اور انہیں روایتی پاکستانی مہمان نوازی کے مطابق بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔

اس اعلیٰ سطحی تزویراتی اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف، وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، سیکرٹری خارجہ، سیکرٹری انسانی حقوق اور متعلقہ وزارتوں کے دیگر سینئر اور مقتدر حکام نے بھی شرکت کی اور انتظامات کو فول پروف بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

وفاقی وزیر احسن اقبال کی صدارت میں گلیشیائی جھیلوں کے ٹوٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کا جائزہ؛ جان و مال اور انفراسٹرکچر کا تحفظ اولین ترجیح

منصور احمد, JULY 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر قائم کردہ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا دوسرا اہم ترین اجلاس نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں مون سون 2026 کے دوران شہریوں کے جان و مال اور قومی انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے مقتدر و مربوط حکمت عملی اپنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے ویڈیو لنک کے ذریعے کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، چیئرمین این ڈی ایم اے اور متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کے مقتدر نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران ایمرجنسی رسپانس کمیٹی نے مون سون 2026 کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے اب تک کی گئی تزویراتی تیاریوں اور ہنگامی ردعمل کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر صوبائی اداروں کے نمائندوں کی جانب سے مون سون کے دوران ممکنہ سیلابی و دیگر خطرات سے نمٹنے اور بالخصوص شمالی علاقہ جات میں محفوظ سیاحت کو یقینی بنانے کے حوالے سے کی گئی انتظامی تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ مقتدر حکام کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں حالیہ درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کے باعث شمالی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (گلوف)، لینڈ سلائیڈنگ اور پہاڑی ملبے کے بہاؤ کے شدید خدشات موجود ہیں، جس کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات اٹھانا انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے۔

وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے اجلاس سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے بہترین پیشگی منصوبہ بندی، بروقت اقدامات اور تمام اسٹیک ہولڈرز و انتظامی اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کی ضرورت پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی سطح پر مؤثر رابطہ کاری اور بروقت ردعمل کے تزویراتی نظام کو مزید فعال اور مضبوط بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناگہانی یا ہنگامی صورتحال میں انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے کے نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔ این ڈی ایم اے کے حکام نے تمام وفاقی و صوبائی اداروں کے تعاون سے ملک بھر میں جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکنہ مقتدر اقدامات اٹھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کیس: وفاقی آئینی عدالت کا 10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری، نسلہ ٹاور مسماری کے عدالتی احکامات واپس

منصور احمد, JULY 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

وفاقی آئینی عدالت نے کراچی میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق مقدمے کا 10 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے نسلہ ٹاور کی مسماری کا سبب بننے والے سپریم کورٹ کے 21 دسمبر 2018 اور 22 جنوری 2019 کے احکامات باقاعدہ واپس لے لیے ہیں۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں جاری کیے گئے اس مقتدر فیصلے میں واشگاف طور پر قرار دیا گیا ہے کہ عدالتیں اپنے سامنے موجود اصل تنازع تک ہی محدود رہیں اور غیر ضروری معاملات میں مداخلت سے گریز کریں۔ تحریری فیصلے کے مطابق، سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی طور پر لیاری کی ایک غیر قانونی عمارت سے متعلق اپیل زیر سماعت تھی، تاہم عدالت نے اس مقدمے کا دائرہ کار پہلے پورے لیاری اور پھر تزویراتی طور پر پورے کراچی شہر تک وسیع کر دیا۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ سپریم کورٹ نے زیر سماعت مقدمے سے آگے بڑھ کر غیر قانونی شادی ہالز، شاپنگ سینٹرز، مارکیٹس اور کراچی ماسٹر پلان کے خلاف تعمیرات کو مسمار کرنے جیسے وسیع احکامات جاری کیے، جو عدالتی اختیارات سے تجاوز کے مترادف تھے۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے مقتدر فیصلے میں قرار دیا کہ بلڈنگ قوانین اور تعمیرات سے متعلق جملہ معاملات صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جبکہ آئین اور قانون سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) اور سندھ حکومت کو غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنے کا قانونی پابند بناتے ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کراچی میں غیر قانونی تعمیرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر قانونی نظام اور متعلقہ انتظامی ادارے پہلے سے موجود ہیں، اس لیے مروجہ قانون کے مطابق انہی اداروں کو اپنی تزویراتی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہییں۔ عدالت نے مزید کہا کہ صرف ایس بی سی اے کی ابتدائی رپورٹ کی بنیاد پر کسی بھی عمارت کو مسمار کرنے کا یکطرفہ حکم نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ہر شہری کا یہ بنیادی آئینی حق ہے کہ اس کے خلاف کوئی بھی کارروائی مکمل قانونی تقاضوں اور شفاف طریقہ کار کے مطابق عمل میں لائی جائے۔

عدالتی فیصلے میں تزویراتی طور پر واضح کیا گیا کہ وفاقی آئینی عدالت کسی بھی غیر قانونی تعمیر کو جائز قرار نہیں دے رہی، بلکہ یہ اصول طے کر رہی ہے کہ ایسی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے لیے قانون اور ضابطہ پہلے سے موجود ہے، جس پر صرف متعلقہ اداروں کو ہی عملدرآمد کرنا چاہیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ اصل مقدمہ لیاری کی ایک مخصوص عمارت سے متعلق تھا، جو فریقین کے مطابق اب غیر مؤثر ہو چکا ہے، لہٰذا سپریم کورٹ کی جانب سے اس مقدمے میں جاری کیے گئے تمام سابقہ احکامات واپس لیتے ہوئے کیس کو باقاعدہ نمٹا دیا گیا ہے۔ اس تحریری فیصلے کے ساتھ جسٹس سید ارشد حسین شاہ نے ایک اضافی نوٹ بھی تحریر کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور عوامی سہولیات کا تحفظ ریاست کی اولین اور مقتدر ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پارکس، کھیل کے میدان، گرین بیلٹس، فٹ پاتھ، ساحل اور دیگر عوامی مقامات کو غیر قانونی قبضوں اور غیر قانونی تبدیلیوں سے ہر صورت محفوظ بنایا جائے۔

اقوامِ متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر من و عن عملدرآمد کے لیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے، وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی , JULY 10,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں کی پاسداری، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر من و عن عملدرآمد اور عالمی امن، سلامتی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے بین الاقوامی قوانین اور کثیرالجہتی معاہدوں کے احترام کے حوالے سے پاکستان کے مستقل اور غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔ جمعہ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے امیدوار میکی سال نے یہاں وزیراعظم ہاؤس میں ایک اہم تزویراتی ملاقات کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے میکی سال کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کے لیے پاکستان کے پائیدار عزم کو دہرایا اور عالمی امور کو مقتدر انداز میں چلانے کے لیے اقوامِ متحدہ کے مرکزی کردار کے لیے پاکستان کی مضبوط اور اصولی حمایت کا واضح اظہار کیا۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اقوامِ متحدہ کی آئندہ آنے والی قیادت، ادارے کے تین بنیادی اور اہم ترین ستونوں، یعنی عالمی امن و سلامتی، اقتصادی ترقی اور انسانی حقوق کو متوازن انداز میں آگے بڑھانے کے لیے اپنا مؤثر تزویراتی کردار ادا کرے گی۔

ملاقات کے دوران، سیکریٹری جنرل کے امیدوار میکی سال نے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور دیگر شعبوں کے لیے پاکستان کی دیرینہ، تاریخی اور گراں قدر خدمات کو مقتدر الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے عالمی امن کے فروغ اور بین الاقوامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جاری کوششوں میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے تعمیری اور مثبت کردار کی تعریف کی، اور اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی استحکام کے لیے پاکستان کا کردار ہمیشہ تزویراتی اہمیت کا حامل رہا ہے۔