ووٹ کی عمر 18 سے بڑھا کر 25 سال کرنے کی تجویز پر شدید ردعمل

کاشف عباسی ,May 18 ,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

اسلام آباد / کراچی: وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کی جانب سے ووٹ ڈالنے کی کم از کم عمر 18 سے بڑھا کر 25 سال کرنے کی تجویز سامنے آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں، قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ ناقدین نے اس تجویز کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کروڑوں نوجوان ووٹرز حقِ رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں۔

یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب رانا ثناء اللہ نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم کے تحت ووٹنگ کی عمر بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ انتخابات لڑنے کے لیے کم از کم عمر 25 سال مقرر ہے، اس لیے ووٹ ڈالنے کی عمر بھی اسی سطح پر لانے پر بحث ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا، “اگر کوئی شخص 25 سال سے پہلے الیکشن نہیں لڑ سکتا تو یا الیکشن لڑنے کی عمر 18 سال کی جائے یا پھر ووٹ ڈالنے کی عمر 25 سال ہونی چاہیے۔”

رانا ثناء اللہ کے مطابق 25 سال کی عمر کو سیاسی و سماجی بلوغت کی علامت سمجھا جاتا ہے اور نمائندگی اور ووٹ ڈالنا دونوں یکساں ذمہ داریاں ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ ابھی صرف ایک تجویز ہے اور اسے حکومت یا مسلم لیگ (ن) کی حتمی پالیسی نہ سمجھا جائے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس تجویز کو “سیاسی گھبراہٹ” قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی۔ پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ حکومت 18 سال کے نوجوانوں کو فوج میں بھرتی ہونے، شادی کرنے اور معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے قابل تو سمجھتی ہے، مگر انہیں اپنی حکومت منتخب کرنے کے حق سے محروم کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، “یہ وہی نوجوان ہیں جنہیں ملک کے دفاع کے لیے بالغ سمجھا جاتا ہے، لیکن ووٹ دینے کے لیے اچانک نابالغ قرار دیا جا رہا ہے۔”

قانونی ماہرین نے بھی اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ووٹنگ کی عمر 25 سال کی گئی تو تقریباً 23.7 فیصد ووٹرز، یعنی لگ بھگ 3 کروڑ نوجوان، انتخابی عمل سے باہر ہو جائیں گے، جو جمہوری نمائندگی کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی آئینی تبدیلی ملک میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پہلے ہی شدید اختلافات موجود ہیں

’اٹھائیسویں آئینی ترمیم‘ یا نیا قانون سازی پیکج؟ پسِ پردہ بڑی آئینی تبدیلیوں کی بازگشت

کاشف عباسی ,May 18 ,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

اسلام آباد: حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے اندرونی ذرائع نے عندیہ دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں اہم آئینی تبدیلیوں کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ حکومت کی جانب سے باضابطہ طور پر ’’28ویں آئینی ترمیم‘‘ کی تردید کی جا رہی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ گفتگو میں کہا تھا کہ ان کی جماعت کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کسی مجوزہ آئینی ترمیم کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا، جبکہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی یقین دہانی کرائی کہ کسی بھی آئینی تبدیلی سے قبل اتحادی جماعتوں سے مشاورت کی جائے گی۔

تاہم، حکمران اتحاد کے اندر موجود ذرائع کے مطابق پس پردہ مختلف آئینی اور انتظامی امور پر غور جاری ہے، جنہیں باضابطہ ’’آئینی ترمیم‘‘ کے بجائے ایک وسیع ’’قانون سازی پیکج‘‘ کی شکل دی جا سکتی ہے۔

سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم سے متعلق بعض شعبے دوبارہ مرکز کے دائرہ اختیار میں لانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ ان میں نصابِ تعلیم، آبادی بہبود، معدنیات و کان کنی اور بعض انتظامی شعبے شامل بتائے جا رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت بظاہر کسی بڑی آئینی تبدیلی کی تردید کر رہی ہے، تاہم پارٹی کے اندر یہ تاثر موجود ہے کہ ’’کچھ نہ کچھ ضرور پک رہا ہے‘‘۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس معاملے کو محتاط انداز میں آگے بڑھانا چاہتی ہے تاکہ اتحادی جماعتوں خصوصاً پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کے تحفظات کو مدنظر رکھا جا سکے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی کسی بڑے قانون سازی پیکج یا آئینی اصلاحات کی طرف بڑھتی ہے تو اس کے ملکی سیاست، وفاقی ڈھانچے اور صوبائی خودمختاری پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں

رویت ہلال کمیٹی کا ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کا اعلان، پاکستان میں عید الاضحیٰ 27 مئی کو ہوگی

محمود احمد May17,2026

کراچی: نیوز اینڈ نیوز

مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے پاکستان میں ذوالحجہ 1447 ہجری کا چاند نظر آنے کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں عید الاضحیٰ بدھ 27 مئی 2026 کو مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جائے گی۔

چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد نے کراچی میں اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کے مختلف حصوں سے چاند کی معتبر اور شرعی شہادتیں موصول ہوئیں، جن کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اتفاقِ رائے سے چاند نظر آنے کا فیصلہ کیا گیا۔

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس محکمہ موسمیات کراچی کے دفتر میں منعقد ہوا، جس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ محکمہ موسمیات اور سپارکو کے ماہرین نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں زونل رویت ہلال کمیٹیوں کی جانب سے موصول ہونے والی شہادتوں کا شرعی اور تکنیکی بنیادوں پر جائزہ لیا گیا۔

اعلان کے مطابق پاکستان میں یکم ذوالحجہ پیر 18 مئی 2026 کو ہوگی، جبکہ یومِ عرفہ 26 مئی بروز منگل ادا کیا جائے گا اور عید الاضحیٰ 27 مئی بروز بدھ منائی جائے گی۔

اس موقع پر مولانا عبدالخبیر آزاد نے پوری قوم کو عید الاضحیٰ کی مبارکباد دیتے ہوئے دعا کی کہ یہ بابرکت مہینہ پاکستان کے لیے امن، استحکام اور خوشحالی کا باعث بنے۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں سے چاند کی رویت کی متعدد معتبر شہادتیں موصول ہوئی تھیں، جن کی بنیاد پر حتمی اعلان کیا گیا۔

اٹھائیس ویں آئینی ترمیم کے فوری آثار نظر نہیں آ رہے، اعظم نذیر تارڑ

کاشف عباسی ,May 17 ,2026

لاہور: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ فی الحال انہیں مستقبل قریب میں 28 ویں آئینی ترمیم متعارف کرائے جانے کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے، تاہم اگر ایسی کوئی آئینی تبدیلی لائی گئی تو وہ اتحادی جماعتوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور اتفاق رائے سے ہی ممکن ہوگی۔

اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ایک کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئینی ترامیم کسی ایک جماعت کی خواہش پر نہیں بلکہ سیاسی اتفاق رائے سے ہی منظور ہوتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اتحادی شراکت داروں کو اعتماد میں لیے بغیر کسی بھی آئینی ترمیم کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔

وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری ہے، جبکہ کئی آئینی اور گورننس سے متعلق امور اب بھی زیر بحث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض معاملات کے حل کے لیے آئینی اصلاحات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، لیکن ہر قدم وسیع تر قومی اتفاق رائے کے تحت ہی اٹھایا جائے گا۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ قانون سازی ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے اور آئینی معاملات میں تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے 18 ویں آئینی ترمیم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی تمام سیاسی جماعتوں کے باہمی اتفاق اور مشاورت سے منظور ہوئی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر قانون نے بتایا کہ بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے، ہزارہ اور سرائیکی صوبوں کے قیام جیسے معاملات بھی مختلف حلقوں میں زیر بحث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ طویل عرصے سے بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے کیلئے آئینی اصلاحات کا مطالبہ کرتی آ رہی ہے۔

انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اتحادی حکومت کو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف انتظامی اور گورننس چیلنجز کا سامنا رہا ہے، جن کے حل کیلئے سیاسی ہم آہنگی اور متفقہ اصلاحات ناگزیر ہیں۔

بھارتی آرمی چیف کا بیان اشتعال انگیز اور خطے کے امن کیلئے خطرناک ہے، آئی ایس پی آر

منصور احمد ,May 17,2026

راولپنڈی: پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے بھارتی آرمی چیف کے حالیہ بیان کو اشتعال انگیز، غیر ذمہ دارانہ اور خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور ایٹمی صلاحیت رکھنے والی اہم ریاست ہے، جس کے خلاف دھمکی آمیز زبان ناقابل قبول ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت آج تک پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کر سکا، جبکہ ہندوتوا سوچ نے جنوبی ایشیا کو متعدد بار جنگوں، کشیدگی اور بحرانوں کی طرف دھکیلا ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان کو جغرافیے سے مٹانے جیسے بیانات ذہنی دیوالیہ پن، جنگی جنون اور غیر سنجیدہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ کسی ایٹمی ہمسائے کو ختم کرنے کی بات کرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے، جبکہ ذمہ دار ایٹمی طاقتیں ہمیشہ تحمل، تدبر اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بھارت خطے میں دہشتگردی، عدم استحکام اور پروپیگنڈے کا ایک بڑا مرکز رہا ہے، جبکہ پاکستان کے خلاف مسلسل جارحانہ زبان اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت اپنے مذموم عزائم میں ناکام رہا ہے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق “معرکۂ حق” میں بھارت کی ناکامی دنیا کے سامنے واضح ہو چکی ہے اور اب بھارت کو خطے کو نئی جنگ یا کسی بڑے بحران کی طرف دھکیلنے سے باز رہنا چاہیے۔

آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کے نتائج محدود نہیں رہیں گے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی، علاقائی استحکام اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل سیکھنا ہوگا

کراچی صرافہ بازار چھاپہ معاملہ، ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کا نوٹس، 48 گھنٹوں میں رپورٹ طلب

محمود احمد May16,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز)
کراچی کے صرافہ بازار میں ایف آئی اے کے چھاپے کے دوران پیش آنے والے واقعے کا ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے نوٹس لے لیا۔

ڈی جی ایف آئی اے نے ڈائریکٹر کراچی زون کو واقعے کی مکمل انکوائری کے احکامات جاری کرتے ہوئے اڑتالیس گھنٹوں میں جامع رپورٹ طلب کر لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی صدر میں ایف آئی اے کی جانب سے جیولرز کی دکانوں پر چھاپے مارے گئے، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔

کارروائی کے دوران ایک جیولر اور دکان میں موجود دیگر افراد کے ساتھ مبینہ تشدد اور ناروا سلوک کے الزامات بھی سامنے آئے، جس پر تاجر برادری نے شدید احتجاج کیا اور سڑک بلاک کر دی۔

واقعے کے بعد صرافہ بازار اور تاجر تنظیموں کی جانب سے ایف آئی اے کی کارروائی کے طریقہ کار پر سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ چھاپے کے دوران اختیار کیے گئے طریقہ کار اور سامنے آنے والے تمام الزامات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی اہلکار کی غفلت، اختیارات سے تجاوز یا بدسلوکی ثابت ہوئی تو متعلقہ افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

.ادھر تاجر برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار اہلکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے

حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 5، 5 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان

کاشف عباسی ,May 16 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز):
حکومت نے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں پانچ، پانچ روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کر دیا ہے، جس کا اطلاق فوری طور پر آئندہ ہفتے کے لیے ہوگا۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث مقامی سطح پر بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی ایکس ڈپو قیمت چار سو نو روپے اٹھاون پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل قیمت چار سو چودہ روپے اٹھاون پیسے فی لیٹر تھی۔

اسی طرح پٹرول کی نئی ایکس ڈپو قیمت چار سو نو روپے اٹھہتر پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جو پہلے چار سو چودہ روپے چھیہتر پیسے تھی۔

حکومتی ذرائع کے مطابق دونوں مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً ایک اعشاریہ دو فیصد کمی کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل ٹرانسپورٹ اور مال برداری میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں کمی سے مہنگائی کے دباؤ میں کچھ حد تک کمی آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیں رواں برس اپریل میں پانچ سو بیس روپے پینتیس پیسے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھیں، تاہم اب اس میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرط پر حکومت نے گزشتہ ہفتے دونوں مصنوعات پر اوسطاً اسی روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی بحال کی تھی۔

اس وقت پٹرول پر پٹرولیم لیوی ایک سو سترہ روپے اکتالیس پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر بیالیس روپے ساٹھ پیسے فی لیٹر عائد ہے۔

جنگی صورتحال کے باوجود معاشی استحکام کے لیے حکومت پُرعزم، وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی ,May 15 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز)
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت جنگی صورتحال اور عالمی معاشی دباؤ کے باوجود ملک میں معاشی استحکام یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے، جبکہ قومی معیشت کی بہتری کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور جنگی صورتحال نے پاکستان سمیت پورے خطے کی معیشت کو متاثر کیا ہے، تاہم حکومت اپنی اقتصادی پالیسیوں کے ذریعے استحکام برقرار رکھنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران معاشی ٹیم نے بھرپور محنت کی، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور ملک میں معاشی استحکام ممکن ہوا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی توانائی بحران اور جنگی اثرات کے باعث مختلف ممالک کو ایندھن کی قلت اور کفایت شعاری جیسے اقدامات کرنا پڑے، لیکن پاکستان نے مشکل حالات میں بھی معیشت کو سنبھالنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک مشکل اور طویل سفر ہے، تاہم وہ قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو اپنے چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کو مضبوط معاشی طاقت بنانے کے لیے قومی یکجہتی اور مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملک بھر میں گندم کی خرید و فروخت سے متعلق مسائل کا بھی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد اس معاملے کی تحقیقات اور حل کے لیے کابینہ کی خصوصی کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں حج آپریشنز کے لیے احتسابی نظام قائم کرنے کی بھی منظوری دی گئی تاکہ وزارت مذہبی امور اور نجی حج آپریٹرز کی نگرانی کے ذریعے حجاج کرام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

کابینہ نے وزارت داخلہ کی سفارش پر فراش ٹاؤن میں کم لاگت رہائشی منصوبے کی تعمیر و ترقی کا کام کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سپرد کرنے کی منظوری بھی دی۔

دریں اثنا ایک الگ اجلاس میں وزیراعظم نے حکام کو ہدایت کی کہ شہروں کے بے ہنگم پھیلاؤ کو روکا جائے اور افقی تعمیرات کے بجائے بلند و بالا عمارتوں اور عمودی توسیع کو فروغ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بڑے شہروں میں جدید طرز کی بلند عمارتوں کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ زمین کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔

ملک کی معاشی صورتحال سنگین، مشکلات میں کمی نہیں اضافہ نظر آ رہا ہے، بلاول بھٹو زرداری

محمود احمد May14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز)
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال انتہائی سنگین ہے اور عوام کو مہنگائی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں معاشی مشکلات میں مزید اضافہ نظر آ رہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے جمعرات کے روز پاکستان پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے تعلق رکھنے والے پارٹی ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس میں خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری بھی شریک ہوئیں۔

اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بغیر آئینی ترمیم اور بجٹ کی منظوری ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان رابطے جاری رہتے ہیں، تاہم حکومت نے نئی آئینی ترمیم کے معاملے پر اب تک پیپلز پارٹی سے کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم میں پیپلز پارٹی کا کردار سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے صوبوں کے حقوق کم نہیں ہونے دیے بلکہ مزید اختیارات دلوائے، جبکہ بلوچستان کی سینیٹ میں نمائندگی بھی بڑھائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں اور پیپلز پارٹی نے وفاقی و صوبائی سطح پر مسلسل ان مسائل کو اٹھایا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب وزیراعظم نے عوام کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا تو پیپلز پارٹی نے اس کا خیر مقدم کیا، جبکہ موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کو ریلیف دینے کے فیصلے کی تمام صوبوں نے حمایت کی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے بے نظیر مزدور کارڈ کے ذریعے لاکھوں کسانوں کی مدد کی ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران انہوں نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ پر پاکستان کے مؤقف کا دفاع کیا، جبکہ جنگ کے بعد وزیراعظم نے ان سے امن کمیٹی کی قیادت کی درخواست کی۔

انہوں نے کہا کہ ایران امریکہ کشیدگی کے معاملے پر بھی پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت کا مکمل ساتھ دیا کیونکہ قومی معاملات پر تمام پاکستانی متحد ہو جاتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ ہو بھی جائے تو معاشی مشکلات فوری طور پر ختم نہیں ہوں گی، اس لیے حکومت کو آئندہ بجٹ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھ کر بنانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سینئر کمیٹی بجٹ تجاویز حکومت کے سامنے پیش کرے گی، جس کے لیے راجہ پرویز اشرف، سلیم مانڈوی والا، شیری رحمان اور نوید قمر پر مشتمل چار رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

نیب ترامیم کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی تاریخی طور پر نیب کے خاتمے کی حامی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی مجبوریوں کے باعث نئی ترامیم میں ساتھ دیا، تاہم اگر وعدے پورے نہ کیے گئے تو پارٹی اپنے فیصلوں پر نظرثانی کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور یہ ملک کے مفاد میں بنائی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران کے ساتھ پاکستان اور پیپلز پارٹی کے تعلقات کئی نسلوں پر محیط ہیں، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔

انہوں نے ایران پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے بعد سب سے زیادہ میزائل حملے متحدہ عرب امارات پر ہوئے، جن کی بھی مذمت کرتے ہیں۔

آخر میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل خطے میں امن کے قیام کی کوششوں میں کامیاب ہوں گے۔

تیزی سے بڑھتی آبادی ملکی ترقی کیلئے بڑا چیلنج ہے، وزیراعظم شہباز شریف

محمود احمد May14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز):
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی قومی وسائل پر دباؤ بڑھا رہی ہے اور یہ ملکی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت بڑھتی ہوئی آبادی اور اس کے تدارک سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آبادی پر قابو پانے، عوامی بہبود اور قومی سطح پر پالیسی سازی کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں آبادی سے متعلق پالیسی سازی کے لیے نیشنل پاپولیشن کونسل کے قیام کا فیصلہ کیا گیا، جس کی سربراہی وزیراعظم خود کریں گے۔ کونسل میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان بھی شامل ہوں گے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ عوامی آگاہی مہم میں علمائے کرام اور کمیونٹی رہنماؤں کی شمولیت یقینی بنائی جائے تاکہ آبادی کے مسئلے سے متعلق شعور بیدار کیا جا سکے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مؤثر اور مربوط قومی حکمت عملی تشکیل دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسائل اور آبادی میں توازن ہی پائیدار ترقی کی ضمانت ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت آگاہی مہم، صحت اور تعلیم کی سہولیات میں بہتری اور متوازن ترقی کے ذریعے آبادی میں اضافے کی رفتار کو قابو میں لانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔

اجلاس میں “حکومت کے تمام اداروں کی مشترکہ حکمت عملی” اپنانے پر بھی زور دیا گیا تاکہ آبادی کے بہتر نظم و نسق کو یقینی بنایا جا سکے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں آبادی کی شرح نمو دو اعشاریہ پانچ فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو ایک بڑا قومی چیلنج ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ تمام صحت مراکز میں خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات فراہم کرنے سے آبادی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ سماجی تحفظ کے پروگراموں کو خاندانی منصوبہ بندی سے منسلک کیا جائے گا جبکہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانا بھی آبادی کے مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال، وزیر مملکت برائے قومی صحت ملک مختار احمد بھرتھ سمیت اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سینٹرل سلیکشن بورڈ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز):
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سینٹرل سلیکشن بورڈ کے ترقیوں سے متعلق فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے اکیس افسران کو ترقی کے لیے دوبارہ زیرِ غور لانے کا تفصیلی حکم نامہ جاری کر دیا۔

عدالت نے پولیس سروس، پاکستان انتظامی سروس اور سول سروس سے تعلق رکھنے والے اکیس افسران کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے گریڈ بیس اور اکیس میں ترقی سے محروم رہنے والے افسران کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے سینٹرل سلیکشن بورڈ کو ہدایت کی کہ ترقی کے قواعد دو ہزار انیس کے مطابق ان افسران کے مقدمات کا نئے سرے سے جائزہ لیا جائے۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزاروں کے مقدمات کا جائزہ مروجہ طریقہ کار کے مطابق لیا جائے اور اگر کسی افسر کے بارے میں منفی رائے دی جائے تو اس کی واضح وجوہات بھی ریکارڈ کا حصہ بنائی جائیں۔

درخواست گزار افسران میں ڈاکٹر مطاہر شاہ، اقبال احمد شیخ، شکیل احمد شکیل، مرزا ناصر علی، مطیع الرحمن ممتاز، ولایت خان، سید علی عدنان زیدی، محمد زاہد، ممتاز علی بوہیو، محمد امین قریشی، عتیق الرحمٰن، محمد اسلم جَمرو، ڈاکٹر محمد اختر عباس، نثار احمد خان، بلال احمد بٹ، ساجد حسین آرائیں اور ارباب قیصر احمد شامل ہیں۔

جبکہ ناصر خان، اسرار احمد خان، مجاہد اکبر خان اور آغا محمد یوسف نے ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔

اسحاق ڈار کی زیر صدارت ٹیکس پالیسی کمیٹی کا اجلاس، متوازن اور ترقی دوست اقدامات پر زور

منصور احمد ,May 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز):نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزیرِاعظم کی جانب سے قائم ٹیکس پالیسی کمیٹی کا فالو اپ اجلاس میں ہوا، جس میں مختلف پاور کے لیے ٹیکس پالیسیوں اور تجاویز پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں ٹیکس نیٹ کو مزید آگے بڑھانے اور قومی مصنوعات میں سرمایہ کاری کے اقدامات پر زور دیا گیا جبکہ معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے برابر اور دوست ترقی کی پالیسیوں کو ترجیح دینے کی کوشش کی گئی۔

شراکت داروں نے بات پر اتفاق کیا کہ آپ کے اختیارات اس کے ذریعے پہنچ جائیں گے جو مصنوعات میں یقینی بنانے کے ساتھ ٹیکس کے قوانین پر پابندی لگانے والے افراد پر اضافی رقم نہ ڈالیں۔

اجلاس میں فیڈرل آف نیونیو (آر) کے ذمہ دار اداروں کے حکام کے نائب صدر کی کمپنی، جبکہ وزارتِ اعلیٰ اور دیگر متعلقہ اداروں کو حسب ضرورت بورڈ کے لیے کام تیز کرنے کے لیے بھی چلایا جانا چاہیے۔

بلوچستان: دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں میجر سمیت 5 اہلکار شہید، 7 دہشت گرد ہلاک

کاشف عباسی ,May 14 ,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز): ضلع بارکھان کے علاقے نوشام میں دہشت گردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے مطابق، اس کارروائی میں میجر توصیف احمد سمیت پانچ سیکیورٹی اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔

دہشت گردوں کا خاتمہ اور اسلحہ کی برآمدگی آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق، پاک فوج اور فرنٹیئر کور (ایف سی) بلوچستان کے دستوں نے بدھ کی صبح ریاست دشمن گروہ ‘فتنۃ ہندوستان’ کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا سراغ لگا کر انہیں گھیرے میں لیا، جس کے نتیجے میں سات دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

مٹی کے بیٹوں کی عظیم قربانی ترجمان کے مطابق، اس شدید جھڑپ کے دوران میجر توصیف احمد اور دیگر چار اہلکاروں نے وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ ‘فتنۃ ہندوستان’ ان عسکریت پسند گروہوں کے لیے استعمال ہونے والا نام ہے جو بلوچستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کا عزم ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے

پاکستان میرین اکیڈمی کو ‘ڈگری ایوارڈنگ انسٹیٹیوٹ’ کا درجہ دینے کا فیصلہ، بل جلد اسمبلی میں پیش ہوگا، وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری

منصور احمد ,May 14,2026

اسلام آباد/کراچی (نیوز اینڈ نیوز): وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے پاکستان میرین اکیڈمی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکیڈمی کو ڈگری دینے والے ادارے کا درجہ دینے کے لیے بل جلد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

اکیڈمی کا دورہ اور اہم بریفنگ کراچی میں پاکستان میرین اکیڈمی کے دورے کے موقع پر وفاقی وزیر کو قائم مقام کمانڈنٹ محمد آصف فاروق نے ادارے کی ترقی اور جاری تربیتی پروگرامز پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ اکیڈمی کو ڈگری ایوارڈنگ انسٹیٹیوٹ بنانے کے حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور قانونی منظوری کے لیے بل جلد اسمبلی کے سامنے رکھا جائے گا۔

میری ٹائم سیکٹر میں اصلاحات اور تربیت بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ وزیر اعظم کے میری ٹائم اصلاحاتی اقدامات کے تحت کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ اتھارٹی کے اہلکاروں کو فائر فائٹنگ اور نومبر 2025 میں ہونے والے ‘نیوی ٹرینر پروفیشنل 5000’ جیسے اہم کورسز کی خصوصی تربیت فراہم کی گئی ہے۔ مزید برآں، اکیڈمی کے 14 انسٹرکٹرز کو کوالیفائیڈ ٹرینرز کا درجہ مل چکا ہے جس سے تربیتی معیار میں مزید بہتری آئی ہے۔

ترقیاتی منصوبوں کے لیے خطیر فنڈز اکیڈمی میں جاری ترقیاتی کاموں کے لیے 42 کروڑ 10 لاکھ روپے کی مالی معاونت کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اتھارٹی اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے ‘کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی’ (CSR) فنڈز کے ذریعے حاصل کی جائے گی۔

بلوچستان کے طلبہ کے لیے خصوصی ہدایات وفاقی وزیر نے ہدایت دی کہ اکیڈمی کے تربیتی پروگرامز کا دائرہ کار بلوچستان کے طلبہ تک بڑھایا جائے اور اس سلسلے میں ‘نیوٹیک’ (NAVTTC) اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بھی مدد لی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اکیڈمی کی اپ گریڈیشن کا مقصد عالمی ضروریات کے مطابق ہنر مند افرادی قوت تیار کرنا ہے تاکہ پاکستان کا میری ٹائم شعبہ بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کر سکے۔

بجلی کے بلوں میں ‘ان ٹارگٹڈ کراس سبسڈی’ ختم کرنے کا فیصلہ، کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفین پر بوجھ بڑھے گا

محمود احمد May13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز): وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اور کڑی شرط تسلیم کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے، جس کے تحت بجلی کے بلوں پر دی جانے والی ‘ان ٹارگٹڈ کراس سبسڈی’ کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں یکم جنوری 2027 سے تمام صارفین سے بجلی کی اصل اور پوری قیمت وصول کی جائے گی، جس سے کم بجلی استعمال کرنے والے طبقے کے بلوں میں بڑے اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

حکومتی منصوبے کے مطابق، اب سبسڈی صرف ان مستحق صارفین تک محدود رہے گی جو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت رجسٹرڈ ہوں گے۔ ماہانہ 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے پر ملنے والی رعایت کا یکم جنوری 2027 سے خاتمہ کر دیا جائے گا اور ریلیف کا نیا نظام متعارف کرایا جائے گا۔ اس نئے طریقہ کار کے تحت صارفین کو اپنے بجلی کے بل پر موجود ‘کیو آر کوڈ’ کے ذریعے بی آئی ایس پی میں رجسٹریشن کروانا ہوگی، جس کے بعد صرف اہل افراد کو ہی مالی معاونت مل سکے گی۔

حکام نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال سے 500 ارب روپے سے زائد کی پاور سبسڈی بی آئی ایس پی کو منتقل کر دی جائے گی۔ اس اقدام کا ایک بڑا مقصد ان افراد کو روکنا ہے جو بڑے گھروں میں ایک سے زائد میٹر لگوا کر سستی بجلی کی سہولت حاصل کر رہے تھے۔ پاور ڈویژن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک سے زائد میٹرز کی وجہ سے ‘پروٹیکٹڈ صارفین’ کی تعداد ایک کروڑ سے بڑھ کر 2 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جسے اب درست کیا جائے گا۔

حکومت اگست تک اس نئے سبسڈی سسٹم کا تجرباتی معائنہ (ٹیسٹنگ) کرے گی، جبکہ اس کا مکمل نفاذ جنوری 2027 سے ہوگا۔ علاوہ ازیں، پاکستان نے آئی ایم ایف سے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی تحفظ (کلائمیٹ ترجیح) کے بجٹ کو 30 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔ اس نئے سسٹم کے بعد بجلی کے بل براہِ راست صارفین کی مالی حیثیت سے منسلک کر دیے جائیں گے۔

وزیرِ داخلہ سندھ کی انمول پنکی کو ‘بہادری’ کی سند: عدالت سے نہ بھاگنے پر شکریہ ادا کر کے سب کو حیران کر دیا

محمود احمد May13,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز): صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کوکین ڈیلر انمول پنکی کی عدالت میں پیشی کے دوران پولیس کے ناقص انتظامات اور کمزور کسٹڈی پر شدید مایوسی اور شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے نظام کے لیے لمحہ فکریہ قرار دے دیا ہے۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انتہائی طنزیہ انداز میں کہا کہ جس طرح کی پولیس کسٹڈی دیکھی گئی، اس پر وہ ملزمہ کے شکر گزار ہیں کہ وہ عدالت سے بھاگی نہیں، ورنہ وہاں فرار ہونے سے روکنے کے لیے خاطر خواہ انتظامات موجود نہ تھے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بطور سربراہِ محکمہ انہیں اس صورتحال پر شدید شرمندگی ہے کہ کیا اس طرح سے نظام چلایا جائے گا۔

انہوں نے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی جے آئی ٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے جس میں ایڈیشنل آئی جی، انٹیلی جنس کے نمائندے اور بیورو کریٹس شامل ہوں گے، جو اس بات کا جائزہ لیں گے کہ پولیس کا چالان کتنا مضبوط تھا اور کوتاہی کہاں ہوئی۔ ضیاء الحسن لنجار نے خاتون مجسٹریٹ کی جانب سے ریمانڈ نہ دیے جانے پر بھی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے کیس میں 24 گھنٹے کا ریمانڈ بھی نہ ملنا سوالیہ نشان ہے، جس کے خلاف وہ باقاعدہ درخواست دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملزمہ انمول پنکی ایک ‘چلتی پھرتی منشیات کی فیکٹری’ ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ وہ کسی صورت رہا نہ ہو سکے۔ وزیر داخلہ نے مزید انکشاف کیا کہ کراچی منشیات کے گینگز کا گڑھ بن چکا ہے اور انمول پنکی کے علاوہ بھی کئی گروہ یہاں سرگرم ہیں جن کے خلاف انٹیلی جنس اور پولیس کی محنت سے کریک ڈاؤن جاری ہے، تاہم اس کیس میں جو بھی پولیس افسر ذمہ دار پایا گیا اس کے خلاف سخت کارروائی اور گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔

لکی مروت دھماکہ: دو پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد جاں بحق، 33 زخمی

کاشف عباسی ,May 13 ,2026

لکی مروت، نیوز اینڈ نیوز:
خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ میں منگل کے روز ایک مصروف بازار میں ہونے والے خوفناک بم دھماکے کے نتیجے میں دو ٹریفک پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم نو افراد جاں بحق جبکہ 33 افراد زخمی ہوگئے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق دھماکہ ایک رکشے میں نصب بارودی مواد پھٹنے سے ہوا، جس کے باعث بازار میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ دھماکے سے متعدد دکانوں اور رکشوں کو بھی نقصان پہنچا۔

ڈپٹی کمشنر لکی مروت حمید اللہ خان نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دہشت گردوں نے بارودی مواد ایک رکشے میں نصب کیا تھا۔ واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔

ضلعی پولیس افسر کے ترجمان قدرت اللہ خان کے مطابق شہید ہونے والے ٹریفک پولیس اہلکاروں کی شناخت عادل جان اور راحت اللہ کے نام سے ہوئی ہے۔

ٹی ایچ کیو ہسپتال کی انتظامیہ نے بتایا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے 33 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے پانچ کی حالت تشویشناک ہونے پر انہیں بنوں ہسپتال ریفر کر دیا گیا۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان شہداب خان کے مطابق دھماکے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں اور ایمبولینسز فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے کے قومی عزم کا اعادہ کیا اور متعلقہ حکام کو واقعے کی فوری تحقیقات کی ہدایت جاری کی

کسانوں کو کھاد کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت، وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی ,May 13 ,2026

اسلام آباد، نیوز اینڈ نیوز:
وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ کسانوں کو بروقت اور بلا تعطل کھاد کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے تاکہ ملک کی غذائی سلامتی کو محفوظ رکھا جا سکے۔

وزیراعظم نے وفاقی دارالحکومت میں غذائی تحفظ اور کھاد کے ذخائر سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے کی ضروریات پوری کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، کیونکہ قومی غذائی سلامتی کا انحصار مضبوط زرعی نظام پر ہے۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت دی کہ خلیجی ممالک سے سپلائی چین میں ممکنہ رکاوٹوں کے پیش نظر وسطی ایشیائی ممالک سے متبادل کھاد درآمد کرنے کے امکانات اور ہنگامی منصوبوں پر کام کیا جائے۔

شہباز شریف نے خریف اور ربیع سیزن کے لیے کھاد کے وافر ذخائر یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے مقامی سطح پر کھاد کی پیداوار بڑھانے کے منصوبوں کو تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نئے پلانٹس کی تنصیب سے مقامی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور درآمدی انحصار کم کیا جا سکے گا۔

وزیراعظم نے مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کی بھی ہدایت کی تاکہ کسانوں کا استحصال روکا جا سکے اور مارکیٹ میں کھاد کی فراہمی مستحکم رہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں کھاد کی سپلائی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور کسانوں کو بروقت فراہمی یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

منشیات فروش خاتون کو ’پروٹوکول‘ دینے پر تین پولیس اہلکار معطل

کاشف عباسی ,May 13 ,2026

کراچی، نیوز اینڈ نیوز:
کراچی میں ایک مشتبہ منشیات فروش خاتون کو بغیر ہتھکڑی عدالت میں پیش کرنے اور مبینہ طور پر ’’پروٹوکول‘‘ دینے پر تین پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سندھ حکومت نے سخت نوٹس لیا۔

پولیس کے مطابق مشتبہ خاتون انمول عرف پنکی کو گارڈن کے علاقے میں ایک مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ کارروائی پولیس اور ایک سول انٹیلی جنس ادارے نے مشترکہ طور پر کی، جس میں خاتون کے اپارٹمنٹ سے منشیات اور غیر قانونی اسلحہ برآمد کیا گیا۔

وائرل ویڈیو میں دیکھا گیا کہ خاتون کو بغیر ہتھکڑیوں کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جبکہ وہ دھوپ کا چشمہ لگائے اور ہاتھ میں پانی کی بوتل تھامے عدالت کی راہداری میں چل رہی تھی۔ ویڈیو میں تفتیشی افسر کو اس کے پیچھے چلتے اور رہنمائی کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا، جس پر سوشل میڈیا صارفین اور مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔

سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا، جس کے بعد تفتیشی افسر، گارڈن تھانے کے ایس ایچ او اور اسٹیشن انویسٹی گیشن افسر کو معطل کر دیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق انمول عرف پنکی مبینہ طور پر منشیات کی تیاری اور سپلائی کے ایک منظم نیٹ ورک میں ملوث تھی۔ تلاشی کے دوران اس کے فلیٹ سے ڈیڑھ کلوگرام کوکین، تقریباً 6.9 کلوگرام دیگر نشہ آور مواد اور ایک غیر قانونی 9 ایم ایم پستول برآمد کیا گیا۔

تفتیشی افسر نے عدالت سے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی تاکہ ملزمہ کے ساتھیوں، سپلائی نیٹ ورک اور مجرمانہ ریکارڈ کی مزید تحقیقات کی جا سکیں، تاہم عدالت نے خاتون کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور مقررہ مدت میں چالان پیش کرنے کی ہدایت جاری کی۔

پولیس کے مطابق ملزمہ کراچی کے پوش علاقوں کلفٹن، ڈی ایچ اے اور دیگر مقامات پر مخصوص رائیڈرز کے ذریعے آن لائن منشیات سپلائی کرتی تھی، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنے کے لیے خواتین رائیڈرز کا بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

دہلی اور کابل میں اب کوئی فرق نہیں رہا، دہشتگردی پر سخت مؤقف اپنائیں گے: خواجہ آصف

محمود احمد May13,2026

اسلام آباد، نیوز اینڈ نیوز:
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ دہلی اور کابل میں اس وقت کوئی تفریق نہیں رہی، پاکستان دہشتگردی کے مسئلے پر واضح اور دوٹوک مؤقف رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ کابل حکومت ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرے تاکہ دہشتگردی کا مؤثر سدباب کیا جا سکے، تاہم اگر تعاون نہ کیا گیا تو پھر وہی پالیسی اپنائی جائے گی جو بھارت کے حوالے سے اختیار کی گئی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان مسلسل دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے اور اس کے تانے بانے سرحد پار عناصر سے ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت افغانستان کو بارہا باور کرایا گیا ہے کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، لیکن اگر اس معاملے میں سنجیدہ پیش رفت نہ ہوئی تو پاکستان اپنے دفاع اور سلامتی کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان امن چاہتا ہے اور خطے میں استحکام کا خواہاں ہے، تاہم قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور اب کسی بھی قسم کی مداخلت یا سہولت کاری برداشت نہیں کی جائے گی۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ خطے میں امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں اور ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کریں۔