اب تک پھنس جانے والی 220 ڈولفنز کو کامیابی سے ریسکیو کیا جا چکا؛ جدید ایمبولینس 200 کلومیٹر کے علاقے میں خدمات انجام دے گی، وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کا تقریب سے مقتدر خطاب

منصور احمد, JULY 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے انڈس بلائنڈ ڈولفن (اندھی ڈولفن) کی بقا اور تحفظ کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت تمام شراکت داروں کے مابین مربوط اور اجتماعی اقدامات پر زور دیا ہے۔ اسلام آباد میں ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک مقتدر تقریب کے دوران انہوں نے جدید ترین ‘انڈس ڈولفن ریسکیو ایمبولینس’ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار اس نایاب نسل کو بچانے کے لیے وفاقی حکومت، حکومتِ سندھ، حکومتِ پنجاب اور ڈبلیو ڈبلیو ایف نے مل کر غیر معمولی کام کیا ہے، جس کی بدولت اب تک دریا کے مختلف حصوں میں پھنس جانے والی 220 نایاب ڈولفنز کو کامیابی سے ریسکیو کیا جا چکا ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے انڈس بلائنڈ ڈولفن کی تاریخی و ماحولیاتی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ منفرد آبی حیات دریائے سندھ کی قدیم ترین تاریخ کا حصہ ہے، جو یہاں آباد ہونے والی انسانی تہذیبوں سے بھی پہلے سے اس دریا کا مسکن ہے۔ انہوں نے اس غلط فہمی کو دور کیا کہ یہ ڈولفن کسی بیماری یا حادثے کی وجہ سے نابینا ہے، بلکہ قدرتی ارتقائی عمل کے تحت اس کی آنکھیں فعال نہیں ہیں اور یہ پانی میں راستہ تلاش کرنے اور شکار کرنے کے لیے آواز کی لہروں (ایکو لوکیشن) کا استعمال کرتی ہے۔ وفاقی وزیر نے اصرار کیا کہ یہ نایاب ڈولفن محض ایک جاندار نہیں بلکہ دریائے سندھ کے پورے ماحولیاتی نظام اور وادی سندھ کی عظیم تہذیبی وراثت کی ایک مقتدر علامت ہے۔

وفاقی وزیر نے ماضی کی سنگین صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ 1970ء کی دہائی میں انڈس ڈولفن کی تعداد تشویشناک حد تک کم ہو کر صرف 1200 کے لگ بھگ رہ گئی تھی، تاہم مشترکہ مہم اور بروقت تزویراتی فیصلوں نے اسے معدوم ہونے سے بچا لیا۔ انہوں نے چین کے دریائے یانگ زی کی ناپید ہو جانے والی ‘بائیجی ڈولفن’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک نسل کو بچایا نہ جا سکا، مگر پاکستان نے اجتماعی عزم کا مظاہرہ کر کے اپنی نایاب ڈولفن کا تحفظ یقینی بنایا ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے اعلان کیا کہ نو متعارف کرائی گئی جدید ریسکیو ایمبولینس دریائے سندھ کے تقریباً 200 کلومیٹر کے طویل ماحولیاتی علاقے میں چوبیس گھنٹے ہنگامی خدمات انجام دے گی، جبکہ اس پورے مشن میں دریا کے کناروں پر آباد 1500 سے زائد مقامی ماہی گیروں اور خاندانوں کو بھی شراکت دار بنایا جا رہا ہے۔

اپنے خطاب کے آخر میں ڈاکٹر مصدق ملک نے موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج، درجہ حرارت میں اضافہ اور گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا محض تقدیر کا فیصلہ نہیں بلکہ ہمارے اپنے فیصلوں کا نتیجہ ہیں، جس کی وجہ سے حالیہ برسوں کے تباہ کن سیلابوں میں 4 کروڑ سے زائد افراد متاثر اور ہزاروں لقمہ اجل بنے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت دریائے سندھ کو ‘لیونگ انڈس’ (زندہ دریائے سندھ) کے طور پر محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور عوام کو بھی اپنی قدرتی وراثت اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے اپنی اجتماعی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی۔

ملک کے بیشتر حصوں میں گرمی اور شدید حبس کا راج برقرار؛ آئندہ 24 گھنٹوں میں کشمیر، بالائی خیبرپختونخوا اور شمال مشرقی پنجاب میں بارش کا امکان

روزینہ اسماعیل, JULY 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید گرم اور حبس زدہ رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔ تاہم، شام یا رات کے اوقات میں کشمیر، بالائی خیبرپختونخوا، شمال مشرقی پنجاب اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ مقتدر موسمیاتی رپورٹ کے مطابق، موجودہ موسمی صورتحال کے پیشِ نظر بحیرۂ عرب سے مرطوب ہوائیں ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں، جبکہ کمزور مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ ملک کے شمالی علاقوں پر موجود ہے۔ فی الوقت کسی قسم کا الرٹ یا انتباہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے محکمہ موسمیات نے واضح کیا کہ ملک کے بیشتر حصوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا، تاہم اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار، جنوبی پنجاب، شمالی بلوچستان، بالائی خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بادل برسے۔ گزشتہ روز سب سے زیادہ بارش پنجاب میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد (ایئرپورٹ 69 ملی میٹر) میں ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ جوہرآباد میں 56، ملتان (ایئرپورٹ 49، سٹی 17)، قصور 40، سرگودھا سٹی 36، ڈیرہ غازی خان 20، کوٹ ادو 12، بہاولپور سٹی 03، منڈی بہاؤالدین 02، جبکہ چکوال، خانیوال اور بہاولپور ایئرپورٹ پر 01 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ بلوچستان کے علاقے بارکھان میں 04، گلگت بلتستان کے علاقے گوپس میں 03، جبکہ خیبر پختونخوا کے تفریحی مقامات کالام اور کاکول میں 01 ملی میٹر بارش ہوئی۔

منگل کے روز ملک بھر میں ریکارڈ کیے گئے درجہ حرارت کے مطابق صوبہ بلوچستان کا شہر سبی 46 ڈگری سینٹی گریڈ کے ساتھ گرم ترین علاقہ رہا۔ اس کے علاوہ نوکنڈی اور دالبندین میں 44 ڈگری، جبکہ تربت، نور پور تھل، بھکر اور دادو میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ شہریوں کو شدید حبس اور گرمی کی لہر کے پیشِ نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور پانی کا استعمال زیادہ رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔

51ویں بین الاقوامی سیرت النبی ﷺ کانفرنس آئندہ ماہ ربیع الاول میں شایانِ شان انداز میں منعقد کی جائے گی، وفاقی وزیر سردار محمد یوسف

منصور احمد, JULY 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف کی زیرِ صدارت منگل کے روز ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں 51ویں بین الاقوامی سیرت النبی ﷺ کانفرنس کی تیاریوں، انتظامات اور دیگر متعلقہ انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے اعلان کیا کہ آئندہ ماہِ ربیع الاول کے دوران 51ویں بین الاقوامی سیرت النبی ﷺ کانفرنس کا انعقاد انتہائی شایانِ شان اور مقتدر انداز میں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ مذہبی امور کو اس سال اس بابرکت کانفرنس کے انعقاد کا عظیم اعزاز حاصل ہو رہا ہے، جو نئی نسل کو اسلامی تعلیمات اور سیرتِ طیبہ ﷺ کی روشنی سے روشناس کرانے میں اہم ترین کردار ادا کرے گی۔

وفاقی وزیر نے تزویراتی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس مقتدر کانفرنس میں ملک بھر کے ممتاز و جید علماء کرام، مقتدر مذہبی شخصیات، محققین، سکالرز اور دنیا کے مختلف ممالک سے تشریف لانے والے معزز مندوبین شرکت کریں گے، جس سے بین الاقوامی سطح پر سیرت النبی ﷺ کے آفاقی پیغام کو فروغ ملے گا۔ اجلاس میں وزارتِ مذہبی امور کے ایڈیشنل سیکرٹری مرزا علی محسود سمیت دیگر اعلیٰ ترین مقتدر افسران نے بھی شرکت کی اور وفاقی وزیر کو کانفرنس کے سیکیورٹی اور انتظامی امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔

دریں اثناء، وفاقی وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف نے حج 2027ء کی ڈیجیٹلائزیشن کے عمل پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس ڈیجیٹل سسٹم کو عازمینِ حج کی سہولت کے لیے مزید مؤثر اور سہل بنایا جائے۔ انہوں نے لاہور حاجی کیمپ کی جاری تعمیراتی سرگرمیوں کو ہنگامی بنیادوں پر جلد از جلد مکمل کرنے پر بھی سخت زور دیا۔ مزید برآں، سردار محمد یوسف نے اسلام آباد حاجی کیمپ میں قائم قرآن ری سائیکلنگ پلانٹ کو مکمل طور پر فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس حساس اور اہم ترین منصوبے کو فوری طور پر عملی طور پر مؤثر بنایا جائے تاکہ مقدس قرآنی اوراق کے شایانِ شان احترام کے ساتھ موزوں ترین سائنسی طریقے سے ری سائیکلنگ اور تلفی کو یقینی بنایا جا سکے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کی امیدوار کی ملاقات، پاکستان کے امن کردار کو سراہا

کاشف عباسی , JULY 14,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے معزز عہدے کی امیدوار مشیل باشلیٹ جیریا نے ایک اہم اور مقتدر ملاقات کی ہے۔ منگل کے روز وزارتِ خارجہ سے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق، ملاقات میں عالمی و علاقائی سلامتی، کثیر الجہتی تعاون اور اقوامِ متحدہ کے مستقبل کے ڈھانچے پر تزویراتی تبادلہ خیال کیا گیا۔

موقر ملاقات کے دوران نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کے فروغ، بین الاقوامی قانون کی بالادستی اور بین الاقوامی معاہدوں کے احترام کے لیے پاکستان کے دیرینہ اور غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے عالمی ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں اقوامِ متحدہ کے کلیدی کردار پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ اس عالمی ادارے کو اب ترقی پذیر ممالک کی مخصوص ضروریات، معاشی مسائل اور ترجیحات کے مطابق خود کو مؤثر اور جوابدہ بنانا ہوگا۔

سینیٹر اسحاق ڈار نے پائیدار عالمی امن کے قیام کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر ان کی روح کے مطابق مکمل اور دیانتدارانہ عمل درآمد پر زور دیا، تاکہ دیرینہ بین الاقوامی تنازعات کا پُرامن حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے عالمی رہنما کے سامنے بالخصوص جموں و کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ مسائل کے منصفانہ، پائیدار اور فوری حل کی اہمیت کو مقتدر انداز میں اجاگر کیا۔

سیکرٹری جنرل کے عہدے کی امیدوار مشیل باشلیٹ جیریا نے خطے میں امن و استحکام کے پائیدار فروغ کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور دیگر عالمی اقدامات کے لیے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان کی گراں قدر خدمات، قربانیوں اور نمایاں ترین کردار کی بھرپور تعریف کی اور پائیدار ترقی کے لیے پاکستان کے عزم کو سراہا۔

بلوچستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف گھیرا تنگ: پاک فوج، ایف سی اور پولیس کا مشترکہ ‘آپریشن شعبان’ کامیابی سے جاری

منصور احمد, JULY 14,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردوں اور شر پسند عناصر کے خلاف مقتدر کارروائیوں کا سلسلہ مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کے زیرِ اہتمام شروع کیا گیا مشترکہ ’’آپریشن شعبان‘‘ اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کامیابی سے جاری ہیں، جن کے نتیجے میں 5 جولائی سے اب تک مجموعی طور پر 121 خارجی دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، سیکیورٹی فورسز کی فتنہ الخوارج کے خلاف علاقے میں موثر اور مربوط کارروائیاں مسلسل جاری ہیں جن کا مقصد صوبے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔

موقر تفصیلات کے مطابق، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے خارجیوں کے ٹھکانوں کو جدید زمینی اور فضائی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کی بدولت دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو بھاری اور ناقابلِ تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حالیہ موثر کارروائیوں کے دوران مزید 4 خارجی دہشتگردوں کے جہنم واصل ہونے کی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد صرف ’’آپریشن شعبان‘‘ کے تحت مارے جانے والے دہشتگردوں کی مجموعی تعداد 83 ہو گئی ہے، جبکہ دیگر انٹیلی جنس آپریشنز کو ملا کر یہ تعداد 121 تک پہنچ چکی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع نے اس مقتدر عزم کا اعادہ کیا ہے کہ بلوچستان کی دھرتی سے آخری دہشتگرد کے مکمل خاتمے تک آپریشن شعبان بلا تعطل جاری رہے گا۔

وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال کی یو این ڈی پی کے ایڈمنسٹریٹر الیگزینڈر ڈی کرو سے نیویارک میں ملاقات

محمود احمد, JULY 14,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، پروفیسر احسن اقبال نے نیویارک میں واقع یو این ڈی پی کے مرکزی ہیڈ کوارٹر میں یو این ڈی پی کے ایڈمنسٹریٹر الیگزینڈر ڈی کرو سے ایک اہم اور تزویراتی ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے دوران پاکستان اور اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے مابین برسوں پر محیط دیرینہ شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جبکہ پاکستان کی کلیدی ترقیاتی ترجیحات بشمول ماحولیاتی لچک ، مصنوعی ذہانت کے لیے تیاری، گورننس میں اصلاحات، پائیدار ترقی کے اہداف کی لوکلائزیشن، ابتدائی بچپن کی نشوونما اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو آگے بڑھانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔

موقر ملاقات کے دوران وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی تعاون کو پاکستان کی قومی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا، ادارہ جاتی استعداد کار کو مضبوط بنانا اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں تیزی لانے کے لیے جدید اور اختراعی شراکت داریوں کو متحرک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے یو این ڈی پی کے ساتھ مل کر ان شعبوں میں مربوط حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی جو پاکستان کے مستقبل کے معاشی و سماجی استحکام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس موقع پر، وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے یو این ڈی پی کے ایڈمنسٹریٹر الیگزینڈر ڈی کرو کو پاکستان کا دورہ کرنے کی باضابطہ دعوت بھی دی۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور یو این ڈی پی کے مابین یہ تعاون مستقبل میں ملک کے ترقیاتی اہداف کو مزید مقتدر اور مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

اقوامِ متحدہ میں قومی بیانیہ پیش؛ سب کے لیے ایک پائیدار، لچکدار اور منصفانہ مستقبل کی تعمیر کے لیے عالمی تعاون اور مشترکہ ذمہ داری کو ناگزیر قرار دے دیا

محمود احمد, JULY 14,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ پائیدار ترقی سے متعلق مقتدر ‘اعلیٰ سطحی سیاسی فورم’ میں پاکستان کی بھرپور نمائندگی کی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اس اہم فورم پر پاکستان کا قومی بیانیہ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے پائیدار ترقی کے لیے اقوامِ متحدہ کے طے کردہ ‘ایجنڈا 2030’ پر پاکستان کے غیر متزلزل اور تزویراتی عزم کا اعادہ کیا۔

اپنے مقتدر خطاب کے دوران پروفیسر احسن اقبال نے جامع اور پائیدار قومی ترقی کے لیے حکومتِ پاکستان کے عزم کو تفصیلی طور پر اجاگر کیا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ دنیا بھر میں ایک زیادہ پائیدار، لچکدار اور یکساں مواقع سے لیس منصفانہ مستقبل کی تعمیر کے لیے بین الاقوامی تعاون، باہمی اعتماد اور مشترکہ ذمہ داری کے اصولوں پر کاربند رہنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان چیلنجز کے باوجود عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے ہر ممکن تزویراتی کوششیں جاری رکھے گا۔

نیویارک میں پاک-ناروے وزراء کی ملاقات: ماحولیاتی لچک، پائیدار ترقی اور تعلیم کے شعبوں میں تزویراتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

محمود احمد, JULY 14,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، پروفیسر احسن اقبال نے نیویارک میں ناروے کے وزیر برائے بین الاقوامی ترقی مسٹر آسمنڈ گروور آکرسٹ سے ایک مقتدر ملاقات کی ہے۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ناروے کے مابین ماحولیاتی لچک (کلائمیٹ ریزیلینس)، پائیدار ترقی اور انسانی وسائل کی ترقی (ہیومن کیپیٹل ڈویلپمنٹ) کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید مستحکم اور نتیجہ خیز بنانے کے تزویراتی طریقوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

موقر ملاقات کے دوران وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے اس اہم حقیقت کو اجاگر کیا کہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 1 فیصد سے بھی کم حصہ ڈالنے کے باوجود پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے شدید ترین متاثر ہونے والے دنیا کے چند سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماضی میں آنے والے تباہ کن سیلابوں نے پائیدار ترقی کے اہداف کی جانب پاکستان کی پیشرفت کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس نے موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے دوچار ممالک کی مدد کے لیے مخصوص عالمی مالیاتی میکانزم (گلوبل فنانسنگ میکانزم) کی اشد ضرورت کو مزید تقویت دی ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے ناروے کی سمندری مہارتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ‘بلیو اکانومی’ (آبی معیشت) کے شعبے میں شراکت داری کے نئے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا، اور پاکستان کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے اور ابتدائی بچپن کی نشوونما کو آگے بڑھانے کے لیے بہترین طریقوں اور تجربات کے تبادلے پر بھی بات چیت کی۔ ناروے کے وزیر برائے بین الاقوامی ترقی نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ مقتدر تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور جلد ہی پاکستان کا دورہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، جسے وفاقی وزیر احسن اقبال نے خوش آئند قرار دیا۔

یمن کی خودمختاری کا احترام اور سعودی عرب کی سلامتی ناگزیر ہے، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان کا مقتدر مؤقف

محمود احمد, JULY 14,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ (یمن) کی انتہائی حساس صورتحال پر پاکستان کا مقتدر اور اصولی مؤقف پیش کر دیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے اجلاس سے تزویراتی خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل خالد خیاری اور قائم مقام اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اندریکا رتواٹے کی تفصیلی بریفنگز پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان، اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مقاصد اور اصولوں کے عین مطابق یمن کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

سفیر عثمان جدون نے اپنے مقتدر خطاب میں سب سے پہلے برادر ملک سعودی عرب کی سلامتی کو ہدف بنانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، مملکتِ سعودی عرب پر حوثیوں کی جانب سے کیے گئے حالیہ بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے برادر مملکت سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اسلام آباد کی غیر متزلزل حمایت کا عزم دہرایا۔ پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ ایسے وقت میں جب یہ خطہ مسلسل بڑھتی ہوئی کشیدگی اور باہم مربوط متعدد بحرانوں سے دوچار ہے، تمام متعلقہ فریقوں کو اپنے اختلافات باہمی بات چیت، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کے پختہ عزم کے ذریعے ہی حل کرنے ہوں گے۔

جناب صدر کو مخاطب کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے زور دیا کہ یمن میں جامع، شمولیتی اور پائیدار امن صرف ایک ایسے سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے جو یمنیوں کی اپنی قیادت اور ملکیت میں ہو، اور جسے اقوامِ متحدہ کی مکمل معاونت حاصل ہو۔ انہوں نے رواں سال کے اوائل میں قیدیوں کے تبادلے سے متعلق ہونے والے معاہدے کو ایک مثبت تزویراتی پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی مذاکرات ٹھوس نتائج دے سکتے ہیں، اس لیے تمام فریقوں کو اب ملک گیر پائیدار جنگ بندی اور جامع سیاسی تصفیے کے لیے تعمیری مذاکرات جاری رکھنے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یمن کے عوام کئی برسوں سے تنازع، معاشی تنگی اور بنیادی خدمات کے مسمار ہونے کا سامنا کر رہے ہیں، اور کشیدگی میں مزید اضافہ صرف انسانی مصائب بڑھانے کا سبب بنے گا۔

پاکستانی مندوب نے حوثیوں کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے عملے، انسانی ہمدردی کے اہلکاروں اور سفارتی عملے کی مسلسل من مانی حراست اور اقوامِ متحدہ کے دفاتر و اثاثوں پر غیر قانونی قبضے کی بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے ان اقدامات کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تمام زیرِ حراست بین الاقوامی اہلکاروں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا اور زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کے عملے، تنصیبات اور اثاثوں کے مراعات و استثنیٰ کا ہر حال میں مکمل احترام کیا جائے۔ آخر میں، انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام، مکالمے اور باہمی افہام و تفہیم کے فروغ کے لیے کی جانے والی تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

ملکی آبادی 25 کروڑ 72 لاکھ تک پہنچ گئی، ایک تہائی نوجوان آبادی؛ 76 فیصد نوجوان پرامید لیکن 53 فیصد معاشی مشکلات اور عدم مساوات کے باعث پریشان، یو این ایف پی اے کی رپورٹ

منصور احمد, JULY 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) نے عالمی یومِ آبادی کے موقع پر پاکستان کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تزویراتی رپورٹ جاری کی ہے جس میں زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کو اپنے مستحکم اور روشن مستقبل کے لیے نوجوان نسل کو ترقی کے مرکز میں رکھنا ہوگا۔ مقتدر رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی مجموعی آبادی اس وقت تقریباً 25 کروڑ 72 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جس میں سے ایک تہائی (تقریباً 33 فیصد) آبادی 10 سے 24 سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ رپورٹ میں ایک مثبت پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے 76 فیصد نوجوانوں نے تمام تر چیلنجز کے باوجود اپنے روشن مستقبل کے حوالے سے گہری امید کا اظہار کیا ہے۔

تاہم، رپورٹ کے تشویشناک پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ملک کے 53 فیصد نوجوان سلامتی (سیکیورٹی)، معاشی تنگی، روزگار کی کمی اور معاشرتی عدم مساوات کے باعث شدید ذہنی و نفسیاتی پریشانی کا شکار ہیں۔ رپورٹ میں بالخصوص دیہی علاقوں کے نوجوانوں اور لڑکیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو انٹرنیٹ اور جدید ڈیجیٹل سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے سے قاصر ہیں۔ اس کے علاوہ، مقتدر رپورٹ میں پاکستان میں کم عمری کی شادیوں کے سنگین مسئلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس فرسودہ رسم کے مکمل خاتمے کے لیے قومی سطح پر فوری اور مؤثر قانونی اقدامات اٹھانے کی تزویراتی سفارش کی گئی ہے۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یو این ایف پی اے کے پاکستان میں مقتدر نمائندے ڈاکٹر لوائے شبانے نے واضح کیا کہ پاکستان کے پائیدار استحکام کے لیے تعلیم، بنیادی صحت، بہتر غذائیت اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود میں سرمایہ کاری اب ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوانوں کو جدید ہنر سکھانے اور عالمی بیرونی منڈیوں (گلوبل مارکیٹس) تک ان کی رسائی کو یقینی بنانے سے نہ صرف ان کی ذاتی آمدنی اور بچت میں اضافہ ہوگا، بلکہ اس سے ملک کا معیارِ زندگی اور مجموعی خوشحالی بھی بہتر ہوگی۔ ڈاکٹر لوائے شبانے کا کہنا تھا کہ تعلیم ہی پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور مضبوط مستقبل کی اصل بنیاد ہے، اور انسانی وسائل (ہیومن ریسورس) کی مقتدر ترقی اور نوجوانوں کو اپنی پوشیدہ صلاحیتیں بروئے کار لانے کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہی پاکستان کے روشن اور مستحکم مستقبل کی واحد ضمانت ہے۔

صنفی ڈیجیٹل فرق کے خاتمے میں پاکستان دنیا کا تیز ترین ملک بن گیا، وفاقی وزیرِ آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کا او آئی سی کانفرنس سے مقتدر خطاب

منصور احمد, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے واضح کیا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی)، سائبر سکیورٹی، پبلک ڈیٹا سسٹمز اور ڈیجیٹل ریگولیشن کی ترقی میں خواتین کو فیصلہ سازی کے عمل میں بامعنی مقام ملنا چاہیے۔ وزارتِ انسانی حقوق کے زیرِ اہتمام وفاقی دارالحکومت میں جاری خواتین سے متعلق نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس کے اہم سیشن سے تزویراتی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان نے موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی ڈیجیٹل فرق (مردوں اور عورتوں کے درمیان فرق) کو کم کرنے میں دنیا بھر میں تیز ترین ترقی ریکارڈ کی ہے۔ جی ایس ایم اے کی مقتدر رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے ڈیجیٹل شمولیت، خاص طور پر موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں دنیا کی سب سے بڑی اور تاریخی بہتری ریکارڈ کی ہے۔

وفاقی وزیر نے تزویراتی اعداد و شمار کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ جب انہوں نے عہدہ سنبھالا تو پاکستان میں صنفی ڈیجیٹل فرق 35 فیصد تھا، جو 2025ء میں کم ہو کر 25 فیصد رہ گیا اور اب 2026ء کی حالیہ مقتدر رپورٹ میں مزید گر کر صرف 8 فیصد پر آ گیا ہے۔ اس غیر معمولی پیشرفت نے پاکستان کو موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق کو ختم کرنے والا دنیا کا تیز ترین ملک بنا دیا ہے، جہاں گزشتہ دو سالوں کے دوران خواتین میں موبائل انٹرنیٹ اپنانے کی شرح 33 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد ہو گئی ہے۔ شزا فاطمہ خواجہ نے زور دے کر کہا کہ صرف انٹرنیٹ تک رسائی (کنیکٹیویٹی) ہی کافی نہیں ہے، بلکہ کامیابی کا اصل معیار یہ ہے کہ آیا دور دراز اور دیہی علاقوں میں رہنے والی خواتین ٹیکنالوجی کا استعمال سیکھنے، کمانے، ڈیجیٹل ادائیگیاں حاصل کرنے اور کامیاب کاروباری شخصیت (انٹرپرینیور) بننے کے لیے کر رہی ہیں یا نہیں۔

وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ حکومت کے ڈیجیٹل تبدیلی کے اقدامات نے کم آمدنی والے خاندانوں کی خواتین کو ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کے ذریعے باعزت طریقے سے مالی امداد فراہم کر کے بااختیار بنایا ہے۔ رمضان سبسڈی پروگرام کو وزیر اعظم کی ہدایت پر ڈیجیٹل ادائیگیوں پر منتقل کیا گیا، جس کے تحت سب سے کم آمدنی والی آبادی میں ایک ماہ کے اندر 8 لاکھ ڈیجیٹل والٹس بنائے گئے اور اس سال مزید 9 لاکھ خواتین ڈیجیٹل مالیاتی نظام کا حصہ بنی ہیں۔ حکومت نے نجی شعبے کے تعاون سے ملک بھر میں خواتین کو 10 ملین (ایک کروڑ) مفت سم کارڈز بھی تقسیم کیے ہیں تاکہ وہ ڈیجیٹل معیشت میں سرگرم حصہ دار بن سکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خواتین کے پاس سستا انٹرنیٹ، ڈیجیٹل مہارت یا آن لائن ہراساں کیے جانے سے تحفظ نہ ہو تو ٹیکنالوجی عدم مساوات کو گہرا بھی کر سکتی ہے، اس لیے مشین لرننگ ماڈلز اور اے آئی الگورتھم میں خواتین کے تجربات کی عکاسی ہونی چاہیے تاکہ ان کی محرومی کو روکا جا سکے۔

پاکستانی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر آئی ٹی نے محترمہ فاطمہ جناح، سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید، بیگم کلثوم نواز اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو ان کی جرات اور ترقیاتی قیادت پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے او آئی سی کے برادر ممالک پر زور دیا کہ وہ ان خواتین کی حوصلہ افزائی کریں جو ٹیکنالوجی میں رکاوٹوں کو توڑ رہی ہیں، اور عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے تجربات کا تبادلہ کرنے اور خواتین کو ڈیجیٹل بااختیار بنانے کے لیے عملی شراکت داری قائم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

لینڈ سلائیڈنگ اور طغیانی کا خطرہ: محکمہ موسمیات کا بالائی علاقوں کے لیے ہائی الرٹ اور شدید بارشوں کا انتباہ

روزینہ اسماعیل, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں جاری حالیہ موسمی تبدیلیوں کے پیشِ نظر ایک مقتدر انتباہ جاری کیا ہے، جس کے مطابق پیر اور منگل کے روز ہونے والی موسلادھار بارشوں کے باعث بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر کے حساس پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ (تودے گرنے) اور مقامی و برساتی ندی نالوں میں شدید طغیانی کا سنگین خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کی تزویراتی رپورٹ کے مطابق، موجودہ صورتحال میں بحیرۂ عرب سے آنے والی مضبوط مرطوب ہوائیں مسلسل ملک کے بالائی اور زیریں علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں، جبکہ اسی دوران ایک طاقتور مغربی لہر بھی ملک کے مختلف حصوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

موقر پیشگوئی کے مطابق، آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم عام طور پر گرم اور مرطوب رہنے کی توقع ہے، تاہم کشمیر، بالائی خیبر پختونخوا، جنوب مشرقی پنجاب، بالائی سندھ اور گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کا امکان ہے۔ کل بروز منگل بھی ملک کے بیشتر حصوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا، جبکہ کشمیر، بالائی خیبر پختونخوا، شمال مشرقی پنجاب اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ مقتدر حکام نے پہاڑی علاقوں کے مکینوں اور سیاحوں کو سفری احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے موسمی احوال کا احاطہ کرتے ہوئے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ بالائی پنجاب، بلوچستان، بالائی خیبر پختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں کے ساتھ چند مقامات پر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ دیگر علاقوں میں موسم گرم رہا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، سب سے زیادہ بارش پنجاب کے علاقے اوکاڑہ میں 29 ملی میٹر، سیالکوٹ (ایئرپورٹ) میں 01 ملی میٹر، بلوچستان کے علاقے بارکھان میں 13 ملی میٹر، ژوب اور خضدار میں 02 ملی میٹر، گلگت بلتستان کے علاقے بابوسر میں 08 ملی میٹر، گوپس میں 04 ملی میٹر، بنجی میں 03 ملی میٹر، سکردو اور چلاس میں 02 ملی میٹر، استور میں 01 ملی میٹر، آزاد کشمیر کے علاقے گڑھی دوپٹہ میں 05 ملی میٹر، جبکہ خیبر پختونخوا کے علاقے مالم جبہ میں 02 ملی میٹر اور کالام میں 01 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

او آئی سی خواتین کانفرنس: مسلم امہ اور پاکستان کی پائیدار ترقی خواتین کو بااختیار بنانے سے مشروط ہے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا خطاب

منصور احمد, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واضح کیا ہے کہ مسلم امہ اور پاکستان کی پائیدار ترقی خواتین کو ہر سطح پر بااختیار بنانے اور انہیں زندگی کے تمام شعبوں میں مساوی مواقع فراہم کرنے سے مشروط ہے، کیونکہ دینِ اسلام خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا ضامن ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے ’اپنا روزگار پروگرام‘ ان کا ایک دیرینہ خواب ہے جس کی تکمیل سے ملک میں حقیقی معاشی انقلاب آئے گا۔ وہ پیر کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی نویں وزارتی کانفرنس برائے خواتین کے اہم سیشن سے خصوصی خطاب کر رہی تھیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کانفرنس میں شریک 57 ممالک کے معزز مندوبین اور عالمی رہنماؤں کو پاکستان آمد پر والہانہ خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک اور مہمان نواز قوم کی دھرتی ہے، اور او آئی سی کے اس مقتدر پلیٹ فارم سے خواتین کے حقوق پر آواز اٹھانا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔

اپنے تزویراتی خطاب میں مریم نواز نے حکومت کی جانب سے خواتین کی مالی شمولیت، اعلیٰ تعلیم اور کاروبار کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے پختہ عزم کو دہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت طالبات کے لیے اسکالرشپس اور لیپ ٹاپس کی شفاف فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے تاکہ ہماری بیٹیاں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہو کر ڈیجیٹل معیشت میں اپنا مؤثر اور مقتدر کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے صوبے میں جاری فلاحی اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ’اپنی چھت، اپنا گھر‘ اسکیم سے غریب شہری تیزی سے مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے ’اپنا روزگار پروگرام‘ پر ترجیحی بنیادوں پر کام جاری ہے جو کہ خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مسلم دنیا میں خواتین کی سیاسی و سماجی قیادت کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو مسلم اُمہ کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں جنہوں نے مسلم دنیا میں خواتین کی سیاسی اور سماجی نمائندگی کے فروغ اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک تاریخی اور ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس مقتدر عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان خواتین کے لیے محفوظ، سازگار اور مساوی ماحول کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھے ہوئے ہے کیونکہ خواتین کی ترقی کے بغیر کوئی بھی مہذب معاشرہ اور ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔

مون سون کے ممکنہ خطرات: وفاقی وزیر مصدق ملک کی تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور خیبر پختونخوا میں محفوظ سیاحت یقینی بنانے کی ہدایت

کاشف عباسی , JULY 13,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے مون سون کی حالیہ لہر کے تناظر میں تمام متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور ضلعی و یونین کونسل کی سطح پر باہمی رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنانے کی مقتدر ہدایت جاری کر دی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ تفصیلی اعلامیے کے مطابق، وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر این ڈی ایم اے اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے درمیان مون سون 2026ء کی تیاریوں کا ایک اہم اور تزویراتی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کی زیر صدارت ہونے والے اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا اور دیگر متعلقہ مقتدر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کے حکام نے مون سون کے دوران ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صوبائی تیاریوں، ریسکیو آپریشنز کے پلان، ہنگامی منصوبہ بندی اور وسائل کی دستیابی کے حوالے سے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر صوبے میں سیلابی صورتحال، شہری و دریائی سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ (تودے گرنے) اور گلیشائی جھیلوں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والے سیلاب کے خطرات اور ان کے تدارک کے لیے کیے گئے اب تک کے تزویراتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر مصدق ملک نے زور دے کر کہا کہ مون سون کے اس سیزن کے دوران خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں محفوظ سیاحت کے فروغ اور سیاحوں کے لیے سفری سہولیات کی بلاتعطل فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کیے جائیں۔ انہوں نے حکام کو سخت ہدایات دیں کہ مون سون کی بارشوں اور ممکنہ خطرات سے بچاؤ کے لیے بڑے پیمانے پر عوامی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں اور املاک کو محفوظ رکھا جا سکے۔

او آئی سی خواتین کانفرنس: اسلامی دنیا کی خوشحالی کے لیے خواتین کی ترقی اور معاشی شمولیت کو تزویراتی ضرورت قرار دے دیا گیا

روزینہ اسماعیل, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جاری نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی معزز مندوبین نے مسلم ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مضبوط بنانے اور تعلیم، اقتصادی ترقی اور قیادت میں خواتین کی شرکت کو بڑھانے کے لیے جامع پالیسیوں کو فروغ دینے کی اشد ضرورت پر زور دیا ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے واضح کیا کہ خواتین کی مقتدر ترقی اسلامی دنیا میں پائیدار، جامع ترقی اور طویل مدتی معاشی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔

موقر تفصیلات کے مطابق، نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس کے اہم سیشن سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کی ترقی کی تنظیم (ڈبلیو ڈی او) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارہ الشورا نے رکن ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون کو مضبوط بنانے اور تعلیم، اقتصادی ترقی اور فیصلہ سازی کی قیادت میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے تنظیم کی جانب سے کی جانے والی مسلسل کوششوں اور فریم ورک پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ اسی طرح، آٹھویں او آئی سی وزارتی کانفرنس کی خواتین کی مشاورتی کونسل کی صدر، سفیر نائلہ گبر نے گزشتہ وزارتی کانفرنس کے بعد ہونے والی تزویراتی پیشرفت کا احاطہ کیا اور او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان مضبوط ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے اس رفتار کو مستقل برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مسلم امہ میں خواتین کی تعلیم، معاشی بااختیار سازی اور قیادت میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی ترقی کے بغیر اسلامی دنیا میں طویل مدتی خوشحالی کا خواب ادھورا ہے۔

کانفرنس سے مصر کی قومی کونسل برائے خواتین کی صدر امل عمار نے بھی مقتدر خطاب کیا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں قوموں کی حقیقی خوشحالی انسانوں، بالخصوص خواتین میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے ہی شروع ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ مسلم دنیا میں پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور سماجی انصاف کے اہداف کے حصول کے لیے خواتین کو ہر سطح پر بااختیار بنانا اب محض ایک آپشن نہیں بلکہ ایک ناگزیر سٹریٹجک ضرورت بن چکی ہے جس پر تمام رکن ممالک کو مل کر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا ایک روزہ دورۂ دوحہ، امیرِ قطر سے والد کے انتقال پر دلی تعزیت اور یکجہتی کا اظہار

کاشف عباسی , JULY 13,026

دوحہ (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے مقتدر ملاقات کر کے ان کے والد گرامی کے انتقال پر دلی تعزیت اور گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ تفصیلی اعلامیے کے مطابق، وزیر اعظم پیر کے روز ایک روزہ اہم دورے پر دوحہ پہنچے، جہاں انہوں نے ریاست قطر کے امیر کے والد شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے انتقال پر حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے قطر کی اعلیٰ قیادت اور برادر عوام سے بالمشافہ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس تزویراتی دورے میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ موجود تھے۔

ملاقات کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے مرحوم امیرِ والد کی دوراندیش قیادت، مدبرانہ بصیرت اور قطر کی غیرمعمولی ترقی کے ساتھ ساتھ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے پاکستان کے لیے مرحوم امیرِ والد کی گرمجوشی، شفقت اور دیرینہ محبت کو یاد کرتے ہوئے ان کے پاکستان کے متعدد یادگار دوروں کو بھی انتہائی قدر و منزلت سے یاد کیا۔ وزیر اعظم نے گہرے صدمے کی اس گھڑی میں قطر کی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی غیرمتزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور شاہی خاندان سمیت قطر کے برادر عوام کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف، سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف، نائب وزیر اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور پاکستانی وفد کا ذاتی طور پر دوحہ آ کر تعزیت کرنے پر صمیمِ قلب سے شکریہ ادا کیا اور اس مقتدر جذبے کو دونوں برادر ممالک اور عوام کے درمیان قائم گہرے اور تزویراتی برادرانہ تعلقات کا منہ بولتا مظہر قرار دیا۔

او آئی سی خواتین وزارتی کانفرنس: وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت (فوسپاہ) کی بھرپور شرکت اور اہم عالمی ملاقاتیں

روزینہ اسماعیل, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

سیکرٹریٹ برائے وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت (فوسپاہ) نے جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین میں بھرپور اور تزویراتی شرکت کی ہے۔ کانفرنس کے موقر موقع پر وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت فوزیہ وقار نے او آئی سی وومن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ڈبلیو ڈی او) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، قونصلر سارہ اسماعیل الشورا سے ایک مقتدر ملاقات کی، جس میں مسلم ممالک میں خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ہراسیت کے خاتمے کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ فوزیہ وقار نے کانفرنس میں شریک نامور پارلیمانی رہنماؤں اور حقوقِ نسواں کی نمایاں شخصیات سے بھی اہم ملاقاتیں کیں، جن میں شائستہ پرویز ملک، صائرہ ترار، نزہت صادق، صبا صادق، ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور مہناز عزیز شامل ہیں۔ ان مقتدر ملاقاتوں نے ادارہ جاتی تعاون، پالیسی مکالمے اور خواتین کے حقوق و تحفظِ کار کے حوالے سے علاقائی رابطہ کاری کو مضبوط بنانے کے لیے فوسپاہ کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کی ہے۔

کانفرنس کے دوران فوسپاہ کی ٹیم نے مارکیٹ پلیس میں ایک مخصوص انفارمیشن ڈیسک بھی قائم رکھا، جہاں مقامی و بین الاقوامی وفود، معززین اور شرکا سے اہم ملاقاتیں کی گئیں۔ اس معلوماتی ڈیسک پر ٹیم نے فوسپاہ کے دائرہ اختیار اور مینڈیٹ سے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کیں اور رکن ممالک میں صنفی انصاف اور تحفظِ کار کے فروغ کے لیے پیشہ ورانہ مکالمے کو کامیابی سے آگے بڑھایا۔ مزید برآں، فوسپاہ کے اعلیٰ حکام نے او آئی سی سیکرٹریٹ کی خواتین ٹیم، مختلف او آئی سی اداروں کے نمائندوں اور رکن ممالک کے سرکاری وفود سے وسیع پیمانے پر تزویراتی بات چیت کی۔ ان مربوط کاوشوں نے اہم ادارہ جاتی روابط کو مزید مستحکم کیا ہے اور عالمِ اسلام میں خواتین کے سماجی، اقتصادی اور سیاسی حقوق کے فروغ سے متعلق اجتماعی عزم اور مکالمے کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان میں ریبیز کے خاتمے کے لیے بڑا فیصلہ: وفاقی وزیر صحت نے قومی فریم ورک کی تیاری کی اصولی منظوری دے دی

کاشف عباسی , JULY 13,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال سے دی انڈس ہاسپٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ڈاکٹر عبدالباری خان نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اہم ملاقات کی ہے۔ اس مقتدر ملاقات کے دوران پاکستان میں ریبیز (الکَلَب/باؤلے کتے کے کاٹنے کی بیماری) کی روک تھام اور اس کے مؤثر کنٹرول کے لیے قومی سطح پر فوری و تزویراتی اقدامات اٹھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انڈس ہاسپٹل کے وفد نے وفاقی وزیر کو ملک میں ریبیز کی موجودہ تشویشناک صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت ریبیز کی نگرانی کا کوئی مؤثر قومی نظام موجود نہیں ہے، تاہم دستیاب اندازوں کے مطابق ملک میں ہر سال تقریباً 5 ہزار افراد ریبیز کے باعث اپنی جان کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ لاکھوں افراد سالانہ کتوں کے کاٹنے کا شکار ہوتے ہیں، جن میں بچوں، دیہی علاقوں کے مکینوں اور شہری مضافات کی محروم آبادی کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پاکستان میں ریبیز کے بڑھتے ہوئے اس بوجھ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے “قومی ریبیز پریوینشن اینڈ کنٹرول فریم ورک” کی تیاری کی اصولی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے مقتدر حکام کو ہدایت کی کہ اس مقصد کے لیے ملک میں جلد از جلد ایک “نیشنل ٹیکنیکل ورکنگ ایڈوائزری گروپ” تشکیل دیا جائے جو اس قومی فریم ورک کو مرتب کرنے کی قیادت کرے گا۔ وزیر صحت نے واضح کیا کہ ریبیز ایک مکمل طور پر قابلِ تدارک بیماری ہے اور عوام کو اس کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک جامع ملک گیر آگاہی مہم کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے بالخصوص وزیراعلیٰ سندھ کی قیادت میں جاری صوبہ بھر کی انسدادِ ریبیز مہم کو سراہا اور اس سلسلے میں دی انڈس ہاسپٹل اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کی تکنیکی معاونت کو قابلِ قدر قرار دیا۔ مصطفیٰ کمال نے عزم کا اظہار کیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اور تمام تکنیکی شراکت دار باہمی تعاون سے پاکستان میں ریبیز سے ہونے والی ان اموات کے خاتمے کے لیے مؤثر تزویراتی اقدامات کریں گے۔

اس موقر موقع پر ڈاکٹر عبدالباری خان نے وفاقی وزیر کو (2024)” کی دستاویز پیش کی جو انڈس ہاسپٹل نیٹ ورک کی تکنیکی معاونت سے تیار کی گئی ہے۔ ملاقات کے اختتام پر وفاقی وزیر صحت نے نامور ماہرِ صحت مرحومہ پروفیسر نسیم صلاح الدین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور ان کے اہلِ خانہ سے تعزیت کی۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر نسیم صلاح الدین کی ریبیز کی روک تھام اور پاکستان میں عوامی صحت (پبلک ہیلتھ) کے فروغ کے لیے انجام دی جانے والی گراں قدر اور مقتدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری کی پاکستانی طالب علم جیانت کمار کو ہارورڈ بزنس مقابلے میں عالمی چیمپئن بننے پر مبارکباد

کاشف عباسی , JULY 13,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

خاتونِ اول اور رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے پاکستانی طالب علم جیانت کمار کو ہارورڈ کرمسن بزنس مقابلے میں عالمی چیمپئن بننے کے مقتدر اعزاز پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک تزویراتی پیغام میں خاتونِ اول نے کہا کہ اس شاندار اور بے مثال کامیابی سے نوجوان طالب علم نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام فخر سے روشن کر دیا ہے۔

موقر تفصیلات کے مطابق، کراچی گرامر اسکول سے تعلق رکھنے والے مقتدر طالب علم جیانت کمار نے ہارورڈ کرمسن بزنس مقابلے میں عالمی چیمپئن کا اعزاز حاصل کیا ہے، جو دنیا کے معتبر ترین پری کالج بزنس مقابلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس مقتدر مقابلے کے ججز پینل میں فارچیون 500 کمپنیوں کے اعلیٰ ترین انتظامی عہدیداران اور کاروباری ماہرین شامل ہوتے ہیں۔ دنیا بھر سے ایک ہزار سے زائد ماہر ٹیموں کے درمیان ہونے والے اس سخت ترین مقابلے میں، جہاں زیادہ تر عالمی ٹیمیں چار اراکین پر مشتمل تھیں، جیانت کمار نے کسی ٹیم کے بغیر بالکل اکیلے شرکت کرتے ہوئے یہ نمایاں اور تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ وہ اس عالمی مقابلے کے گلوبل فائنل کے لیے نہ صرف کوالیفائی کرنے والے بلکہ اسے جیتنے والے پہلے پاکستانی طالب علم بن گئے ہیں، جسے ملکی تاریخ میں پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا اور تاریخی اعزاز قرار دیا جا رہا ہے۔

عدلیہ میں ڈیجیٹل انقلاب: سپریم کورٹ نے تمام زیر التوا مقدمات کا ریکارڈ کامیابی سے ڈیجیٹلائز کر دیا

منصور احمد, JULY 13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدالتی اور انتظامی امور میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید موثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے ڈیجیٹل تبدیلی کے پروگرام میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے تمام زیر التوا مقدمات کا ریکارڈ کامیابی سے ڈیجیٹلائز کر کے ایک جامع ڈیجیٹل عدالتی نظام کی بنیاد رکھ دی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، عدالت نے 44 ہزار 995 زیر التوا مقدمات کی فائلیں سرچ ایبل او سی آر فارمیٹ میں سکین، بارکوڈ، ڈیجیٹل کیٹلاگ اور کیس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم سے منسلک کر دی ہیں۔ اس تزویراتی عمل کے دوران معمول کی عدالتی کارروائیاں بھی بغیر کسی تعطل کے جاری رہیں اور ڈیجیٹلائز کیے گئے مقدمات میں سے 11 ہزار 999 مقدمات کے فیصلے بھی سنائے جا چکے ہیں۔

موقر اعلامیے کے مطابق، سپریم کورٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام زیر التوا مقدمات کو معزز ججوں کی کمیٹی کے تیار کردہ منظم فریم ورک کے تحت دائرہ اختیار اور نوعیت کے مطابق درجہ بندی بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے قائم خصوصی کیٹیگرائزیشن سیل نے تمام مقدمات کی منظم درجہ بندی کی جس سے مقدمات کے موثر انتظام، اعداد و شمار پر مبنی منصوبہ بندی، بہتر سماعتی شیڈول اور عدالتی وسائل کی ترجیحی بنیادوں پر تقسیم ممکن ہو سکے گی۔ عدالتی ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کے ساتھ ساتھ متعدد جدید ڈیجیٹل سہولیات بھی متعارف کرائی گئی ہیں جن میں ای فائلنگ، کیو آر کوڈ سے تصدیق شدہ مصدقہ نقول، عدالتی خدمات کے لیے آن لائن درخواستیں، وکلاء کی ڈیجیٹل انرولمنٹ، ون لنک اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے عدالتی فیس کی الیکٹرانک ادائیگی، ویڈیو لنک کے ذریعے سماعتیں اور پبلک فیسیلی ٹیشن سینٹر کے تحت ایک مربوط آن لائن پلیٹ فارم پر 35 عوامی خدمات کی فراہمی شامل ہے۔

علاوہ ازیں، سپریم کورٹ کے انتظامی امور کو بھی حکومت کے ای آفس پلیٹ فارم پر منتقل کر دیا گیا ہے جس سے سرکاری کارروائی کاغذ سے پاک (پیپر لیس) نظام کے تحت انجام دی جا رہی ہے، جس سے انتظامی کارکردگی، شفافیت اور جوابدہی میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ سپریم کورٹ کے مطابق یہ مقتدر اصلاحات روایتی کاغذی نظام سے مکمل ڈیجیٹل عدالتی نظام کی جانب ایک بنیادی تبدیلی کی عکاس ہیں جس سے مقدمات کے موثر انتظام، اعداد و شمار پر مبنی فیصلوں اور شہریوں کو بہتر عدالتی خدمات کی فراہمی ممکن ہوگی۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالت مستقبل میں خودکار کیس مینجمنٹ، عدالتی تجزیاتی نظام اور نئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کے ذریعے انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔