عالمی امن کیلئے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار قابلِ تحسین ہے، شرجیل میمن

محمود احمد May27,2026

حیدرآباد / نیوز اینڈ نیوز

سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے اہم اور مؤثر کردار ادا کیا ہے، جبکہ معاشرے میں نفرتوں کے خاتمے اور رواداری کے فروغ کی اشد ضرورت ہے۔

حیدرآباد کے علاقے راول ہاؤس ٹنڈوجام میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر تمام حجاج کرام اور عالمِ اسلام کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی انسانیت کو ایثار، قربانی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ہر شے قربان کرنے کا درس دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عیدالاضحیٰ محبت، بھائی چارے اور اتحاد کا پیغام دیتی ہے، اس لیے تمام اختلافات بھلا کر خوشیوں کو مل جل کر منانا چاہیے۔

شرجیل انعام میمن نے سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق گردش کرنے والی خبریں محض قیاس آرائیاں ہیں، حکومت سے اس حوالے سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کراچی ہمیشہ سندھ کا حصہ تھا، ہے اور رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ختم نہیں ہوگا کیونکہ یہ پروگرام غریب اور مستحق خواتین کی مالی معاونت کا اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عیدالاضحیٰ کے فوراً بعد حیدرآباد میں لطیف آباد تا حیدر چوک روٹ کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا۔

پانی کے مسائل سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کیلئے مقامی انتظامیہ بھرپور اقدامات کر رہی ہے، جبکہ ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے پر بھی مسلسل کام جاری ہے۔ ان کے مطابق منصوبے کا آغاز حکومت سندھ نے کیا تھا اور وزیراعلیٰ سندھ سمیت متعلقہ حکام ہر ہفتے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اشیائے ضروریہ اور تعمیراتی لاگت میں اضافے کے باعث بعض مشکلات ضرور پیش آئیں، تاہم حکومت نے منصوبے کی بروقت تکمیل کیلئے کنٹریکٹر کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی۔

منشیات کے خلاف جاری مہم کے حوالے سے شرجیل میمن نے کہا کہ منشیات ایک خطرناک ناسور ہے جو نوجوان نسل اور پورے خاندان کو تباہ کر دیتا ہے، اسی لیے پولیس منشیات فروش عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں کر رہی ہے۔ انہوں نے میڈیا پر بھی زور دیا کہ وہ اس سماجی برائی کے خاتمے کیلئے حکومت کا ساتھ دے۔

خواتین کو بااختیار بنانے کے اقدامات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ خواتین کو پنک اسکوٹیز فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ڈرائیونگ ٹریننگ اور لائسنس کی سہولیات بھی مہیا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اس اسکیم سے قبل صرف 150 خواتین کے پاس ڈرائیونگ لائسنس تھا، جبکہ اب 25 ہزار خواتین لائسنس کیلئے درخواستیں دے چکی ہیں۔

شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ غیر قانونی تجاوزات کے باعث ٹریفک کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر ترقیاتی منصوبوں کے مخالف ہیں، تاہم حکومت سندھ عوامی فلاح اور ترقی کے سفر کو ہر صورت جاری رکھے گی۔

دہشتگردی کے خلاف قومی اتحاد ناگزیر، شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، گورنر بلوچستان

منصور احمد ,May 27,2026

کوئٹہ / نیوز اینڈ نیوز

گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد، باہمی یکجہتی اور مشترکہ قومی سوچ کو مزید مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ دہشتگردی اور ملک دشمن سازشوں کا مقابلہ صرف متحد قوم ہی کر سکتی ہے۔

عیدالاضحیٰ کے موقع پر گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے گورنر ہاؤس کوئٹہ کی مسجد میں نمازِ عید ادا کی، اس موقع پر صوبائی وزیر محمد خان لہڑی، صوبائی سیکرٹریز، ایڈووکیٹ جنرل عدنان اور دیگر اعلیٰ حکام بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ نمازِ عید کے بعد امتِ مسلمہ، پاکستان کی سلامتی، ترقی، استحکام اور قومی اتحاد کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

بعدازاں گورنر بلوچستان نے اراکینِ پارلیمنٹ، سرکاری افسران اور عوام الناس سے ملاقات کی اور انہیں عیدالاضحیٰ کی مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عید قربان ہمیں ایثار، قربانی، بھائی چارے اور اتحاد کا درس دیتی ہے، یہی جذبہ آج کے حالات میں قومی ضرورت بن چکا ہے۔

جعفر خان مندوخیل نے کوئٹہ کے علاقے چمن پھاٹک میں ہونے والے دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں نے وطنِ عزیز پاکستان کے دفاع، امن اور سالمیت کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔

گورنر بلوچستان نے کہا کہ دہشتگرد عناصر پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، تاہم پوری قوم اپنی بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں سیاسی، سماجی اور قومی سطح پر اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے عوام محبِ وطن ہیں اور صوبے میں امن، ترقی اور خوشحالی کیلئے حکومت تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ عوام کو محفوظ اور پُرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ وفاق سے مشاورت کے بعد ہوگا، مراد علی شاہ

May27,2026,حیدرآباد / نیوز اینڈ نیوز

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق حتمی فیصلہ وفاقی حکومت سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا، جبکہ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دباؤ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔

عیدالاضحیٰ کے موقع پر اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت ایک عوام دوست بجٹ پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس میں غریب اور متوسط طبقے کے مسائل کو مدنظر رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے، اسی لیے حکومت کی ترجیح ہے کہ عام شہری پر کم سے کم مالی بوجھ ڈالا جائے۔

سید مراد علی شاہ نے 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے زیر گردش تمام باتیں صرف میڈیا کی حد تک ہیں، نہ کوئی باضابطہ مجوزہ ترمیم سامنے آئی ہے اور نہ ہی صوبوں یا شہروں کی تقسیم سے متعلق کوئی سنجیدہ تجویز زیر غور ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ میں نئے اضلاع بنانے کا بھی کوئی منصوبہ نہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی شفاف اور معیاری تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے سیوھن بیوٹیفکیشن پلان میں ناقص میٹریل کے استعمال کا سخت نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری سندھ کو تمام ترقیاتی منصوبوں کی خود نگرانی کی ہدایت جاری کی ہے تاکہ عوامی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے اور منصوبے بہتر معیار کے مطابق مکمل ہوں۔

منچھر جھیل کی بحالی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ محکمہ آبپاشی اس اہم منصوبے پر متحرک ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ جھیل کو دوبارہ اس کی اصل حالت میں بحال کیا جائے، تاکہ ماحولیاتی بہتری کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کو بھی فائدہ پہنچ سکے۔

بلوچستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ملک دشمن قوتیں پاکستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد عناصر بیرونی سرپرستی میں کارروائیاں کر رہے ہیں اور ان کا مقصد ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے، تاہم پوری قوم اور سیکیورٹی ادارے ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے متحد ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ حکومت عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں کی شفاف تکمیل اور صوبے میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

کالام: اندراب جھیل جانے والے جیپ ٹریک کی بحالی تیسرے روز بھی جاری

کاشف عباسی ,May 26 ,2026

کالام/ نیوز اینڈ نیوز

لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیئرز سے متاثرہ راستے کی بحالی کیلئے بھاری مشینری متحرک، عیدالاضحیٰ سے قبل روڈ کھولنے کی ہدایت

کالام: معروف سیاحتی مقام اندراب جھیل جانے والے جیپ ایبل ٹریک کی بحالی کا کام تیسرے روز بھی تیزی کے ساتھ جاری ہے، جہاں حالیہ لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی گلیشیئرز کے باعث آمدورفت شدید متاثر ہوگئی تھی۔

اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی (یو ایس ڈی اے) کے ترجمان کے مطابق سیکرٹری سیاحت خیبرپختونخوا سعادت حسن اور ڈائریکٹر جنرل اپر سوات ڈویلپمنٹ اتھارٹی شوذب عباس کی خصوصی ہدایات پر بحالی آپریشن مسلسل جاری ہے، جبکہ ادارے کی بھاری مشینری مختلف مقامات پر پتھر، ملبہ اور برفانی گلیشیئرز ہٹانے میں مصروف ہے۔

ترجمان سعید الرحمان نے بتایا کہ تقریباً 27 کلومیٹر طویل جیپ ایبل روڈ متعدد مقامات پر متاثر ہوئی تھی، جس کے باعث سیاحوں کی آمدورفت معطل ہوگئی تھی۔ تاہم بحالی ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں تاکہ راستے کو جلد از جلد بحال کیا جا سکے۔

ڈی جی یو ایس ڈی اے شوذب عباس نے کہا کہ اندراب جھیل سوات کے خوبصورت اور اہم سیاحتی مقامات میں شمار ہوتی ہے، اس لیے عیدالاضحیٰ اور آنے والے سیاحتی سیزن سے قبل روڈ کی مکمل بحالی کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایت کی کہ بحالی کے کام میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ سیاحوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی گڈ گورننس پالیسی کے تحت سیاحتی مقامات تک محفوظ اور بہتر رسائی فراہم کرنے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، جبکہ علاقے میں سیاحت کے فروغ اور مقامی معیشت کی بہتری کیلئے بھی اقدامات جاری ہیں۔

ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر برقرار، سندھ کے کئی شہر 48 ڈگری تک پہنچ گئے، عید پر بھی ہیٹ ویو کا خدشہ

منصور احمد ,May 26,2026

اسلام آباد/ نیوز اینڈ نیوز

ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر برقرار ہے جبکہ سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے کئی اضلاع میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں گرمی کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے اور عیدالاضحیٰ کے دوران بھی ہیٹ ویو برقرار رہنے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں سورج آگ برسا رہا ہے، جس کے باعث شہری شدید حبس اور گرمی سے پریشان ہیں۔ سندھ کے اضلاع دادو اور شہید بینظیر آباد میں سب سے زیادہ گرمی ریکارڈ کی گئی جہاں درجہ حرارت 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔

اسی طرح لاڑکانہ، نوابشاہ اور جیکب آباد میں بھی پارہ 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ پنجاب کے مختلف شہروں فیصل آباد، لاہور، ملتان، رحیم یار خان، بہاولپور اور بہاولنگر میں بھی شدید گرم اور خشک موسم برقرار ہے

دوسری جانب محکمہ موسمیات نے گلگت بلتستان اور کشمیر کے مختلف علاقوں میں مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہنے، تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ مری، گلیات اور گردونواح میں بھی موسم نسبتاً بہتر رہنے کی توقع ہے جہاں وقفے وقفے سے بادل چھائے رہ سکتے ہیں۔

ماہرین موسمیات کے مطابق موجودہ گرمی کی لہر کے باعث ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے خدشات بڑھ گئے ہیں، خصوصاً بزرگ افراد، بچوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

محکمہ موسمیات نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، زیادہ پانی پئیں، ہلکے رنگ کے کپڑے استعمال کریں اور دوپہر کے اوقات میں خاص احتیاط برتیں تاکہ شدید گرمی کے منفی اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔

عیدالاضحیٰ پر عوام کیلئے بڑی سہولت، گیس لوڈشیڈنگ میں نرمی، نیا شیڈول جاری

کاشف عباسی ,May 26 ,2026

لاہور/ نیوز اینڈ نیوز

: عیدالاضحیٰ کے موقع پر ملک بھر کے گھریلو صارفین کیلئے خوشخبری سامنے آگئی، کیونکہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی نے عید کے تینوں دن گیس فراہمی کے خصوصی شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے لوڈشیڈنگ میں بڑی نرمی کر دی ہے۔

گیس کمپنیوں کے مطابق عید قربان کے دوران شہریوں کو کھانا پکانے، قربانی کے گوشت کی تیاری اور مہمان داری میں سہولت فراہم کرنے کیلئے گیس کی سپلائی طویل اوقات تک بحال رکھی جائے گی۔

سوئی ناردرن گیس کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق پنجاب، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد کے صارفین کو عید کے پہلے، دوسرے اور تیسرے دن صبح 6 بجے سے رات 11 بجے تک مسلسل گیس فراہم کی جائے گی۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد عید کے دنوں میں گھریلو صارفین کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے۔

دوسری جانب سندھ اور بلوچستان میں گیس سپلائی کرنے والی سوئی سدرن گیس کمپنی نے بھی خصوصی پلان ترتیب دیا ہے۔ کمپنی ذرائع کے مطابق عید کے پہلے اور دوسرے دن صبح ساڑھے 7 بجے سے رات 12 بجے تک گیس کی فراہمی جاری رہے گی، جبکہ تیسرے روز صبح ساڑھے 7 بجے سے رات 10 بجے تک سپلائی بحال رکھی جائے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے دوران گیس کی طلب میں غیر معمولی اضافے کے باوجود سپلائی سسٹم کو مستحکم رکھنے کیلئے خصوصی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ مختلف علاقوں میں پریشر برقرار رکھنے کیلئے تکنیکی ٹیمیں بھی ہائی الرٹ رہیں گی۔

گیس کمپنیوں نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ گیس کا غیر ضروری استعمال نہ کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ تمام علاقوں میں بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

چیئرمین واپڈا کا تربیلا ڈیم کا دورہ، تربیلا ففتھ ایکسٹینشن منصوبے کی پیشرفت کا جائزہ، ٹی فور ایل ایل او ٹیسٹنگ کا مشاہدہ

منصور احمد ,May 26,2026

تربیلا/ نیوز اینڈ نیوز

چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے تربیلا ڈیم کا تفصیلی دورہ کیا جہاں انہیں زیرِ تعمیر تربیلا ففتھ ایکسٹینشن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی، جبکہ انہوں نے تربیلا فورth ایکسٹینشن منصوبے کے لو لیول آؤٹ لیٹ (ایل ایل او) کی ٹیسٹنگ اور کمیشننگ کا بھی مشاہدہ کیا۔

دورے کے دوران چیئرمین ارسا امجد سعید، ارسا ٹیکنیکل کمیٹی کے اراکین، واپڈا کے ممبر واٹر اور ممبر پاور بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

چیئرمین واپڈا کو تربیلا ففتھ ایکسٹینشن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے مختلف حصوں پر ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا، جن میں انٹیک اسٹرکچر، کنیکٹنگ ٹنل، پین اسٹاک، لو لیول آؤٹ لیٹ، پاور ہاؤس، ٹیل ریس کلورٹ، ٹیل ریس کینال اور سوئچ یارڈ شامل ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کے تمام حصوں پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے تاکہ مقررہ مدت میں منصوبہ مکمل کیا جا سکے۔

چیئرمین واپڈا نے منصوبے پر کام کرنے والی ٹیم، کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ کام کے معیار اور حفاظتی اصولوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے منصوبے کو جلد مکمل کیا جائے۔

حکام کے مطابق تربیلا ففتھ ایکسٹینشن منصوبے کی پیداواری صلاحیت 1530 میگاواٹ ہے، جبکہ اس منصوبے کیلئے ورلڈ بینک 390 ملین امریکی ڈالر اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک 300 ملین امریکی ڈالر فراہم کر رہے ہیں۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد تربیلا ڈیم کی مجموعی بجلی پیداوار 4888 میگاواٹ سے بڑھ کر 6418 میگاواٹ ہو جائے گی۔

اس سے قبل چیئرمین واپڈا نے تربیلا فورth ایکسٹینشن منصوبے کے لو لیول آؤٹ لیٹ کی ٹیسٹنگ اور کمیشننگ کا جائزہ لیا، جس کا مقصد خریف سیزن میں ارسا کی جانب سے پانی کی فراہمی کی ضروریات پوری کرنا ہے۔

دورے کے دوران چیئرمین کو بتایا گیا کہ تربیلا فورth ایکسٹینشن منصوبہ، جو ورلڈ بینک کی مالی معاونت سے مکمل کیا گیا، مارچ 2018 میں بجلی کی پیداوار شروع کر چکا ہے اور اب تک قومی گرڈ کو 33.254 ارب یونٹس بجلی فراہم کر چکا ہے۔

بعد ازاں چیئرمین واپڈا کو تربیلا ڈیم اور خانپور ڈیم کے آپریشن اور مینٹیننس کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق تربیلا ڈیم اب تک زرعی شعبے کیلئے 419 ملین ایکڑ فٹ سے زائد ذخیرہ شدہ پانی فراہم کر چکا ہے، جبکہ قومی گرڈ کو 586 ارب یونٹس کم لاگت، ماحول دوست اور صاف توانائی بھی مہیا کی جا چکی ہے۔

واپڈا کے مطابق تربیلا ڈیم نے 1974 سے اب تک پاکستان کو تقریباً 460 ارب امریکی ڈالر کے معاشی فوائد فراہم کیے ہیں۔

کوئٹہ میں ہولناک خودکش حملہ، شٹل ٹرین کو نشانہ بنایا گیا، 14 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

کاشف عباسی ,May 25 ,2026

کوئٹہ/نیوز اینڈ نیوز

: صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک اور ہولناک دہشت گرد حملے نے شہر کو دہلا کر رکھ دیا، جہاں اتوار کے روز ایک خودکش بمبار نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی شٹل ٹرین سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 14 افراد جاں بحق جبکہ 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

پولیس اور سکیورٹی حکام کے مطابق حملہ چمن ریلوے کراسنگ کے قریب اس وقت کیا گیا جب شٹل ٹرین 350 سے زائد مسافروں کو لے کر کوئٹہ ریلوے اسٹیشن جا رہی تھی، جہاں سے مسافروں نے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس میں سفر کرنا تھا۔

دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ ٹرین کی کئی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں جبکہ اردگرد کھڑی متعدد گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ دھماکے کے مقام پر ایک بڑا گڑھا پڑ گیا اور قریبی رہائشی علاقوں میں بھی شدید نقصان پہنچا۔ کئی گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ بعض عمارتوں میں آگ بھڑک اٹھی۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد ہر طرف دھواں، چیخ و پکار اور بھگدڑ مچ گئی۔ ریسکیو اہلکاروں اور شہریوں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ کئی افراد کو ملبے اور تباہ شدہ بوگیوں سے نکالنے کے لیے بھاری مشینری استعمال کی گئی۔

اس افسوسناک حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم سکیورٹی ادارے واقعے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق دھماکے کے بعد شہر بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ ریلوے اسٹیشن، اہم شاہراہوں اور حساس تنصیبات کے اطراف اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب ملک بھر کی سیاسی و سماجی شخصیات نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی اور حملے میں ملوث عناصر کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔

متعدد قتل کے مقدمات میں مسلسل عمر قید کی سزائیں برقرار، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

کاشف عباسی ,May 24 ,2026

اسلام آباد/نیوز اینڈ نیوز

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ایک سے زائد افراد کے قتل کے مقدمات میں عمر قید کی سزاؤں کو بیک وقت چلانا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے، کیونکہ اس سے متعدد جانیں لینے کے جرم کی سنگینی کم ہو جاتی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایک شخص اور کئی افراد کے قتل کو ایک ہی نوعیت کا جرم تصور نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جسٹس محمد ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں مقدمے کی سماعت کی، جبکہ بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔ عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے اُس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں قیدی قیصر عباس کو دو خواتین کے قتل کے جرم میں دو الگ الگ عمر قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں اور حکم دیا گیا تھا کہ دونوں سزائیں یکے بعد دیگرے پوری کی جائیں گی۔

مقدمے کے مطابق قیصر عباس پر الزام تھا کہ اس نے جون 2011 میں لاہور کے علاقے علامہ اقبال ٹاؤن میں فائزہ بی بی اور ابیہ کو قتل کیا۔ پراسیکیوشن کے مطابق وقوعے سے ایک ماہ قبل مقتولہ فائزہ بی بی اور ملزم کی بہن کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، جس کی رنجش پر یہ قتل کیے گئے۔

ٹرائل کورٹ نے شواہد اور گواہوں کی بنیاد پر ملزم کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302(b) کے تحت دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے بھی سزا برقرار رکھی، جس کے خلاف ملزم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔

سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا مؤکل سزا کے خلاف نہیں بلکہ صرف اس بات کا خواہاں ہے کہ دونوں عمر قید کی سزائیں ایک ساتھ چلائی جائیں۔ وکیل نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 35(a) اور ماضی کے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک مقدمے میں ایک سے زیادہ عمر قید کی سزائیں مسلسل نہیں چل سکتیں۔

دوسری جانب سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جرم انتہائی سنگین اور سفاکانہ نوعیت کا تھا، اس لیے کسی رعایت کی گنجائش موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر متعدد قتل کے مقدمات میں سزائیں بیک وقت چلائی جائیں تو اس سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی اور جرم کی شدت کم محسوس ہوگی۔

اپنے تفصیلی فیصلے میں جسٹس محمد ہاشم کاکڑ نے قرار دیا کہ قانون کا بنیادی مقصد نہ صرف جرم کی سزا دینا بلکہ معاشرے میں انصاف اور توازن برقرار رکھنا بھی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر کئی افراد کے قتل پر صرف ایک ہی سزا مؤثر رہ جائے تو یہ اضافی جرائم کی اہمیت کو ختم کرنے کے مترادف ہوگا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ ہر انسانی جان کی الگ حیثیت اور وقعت ہے، لہٰذا متعدد قتل کے مقدمات میں ہر جرم کی سزا کو الگ انداز میں نافذ ہونا چاہیے تاکہ قانون کی عملداری اور انصاف کا تقاضا پورا ہو سکے۔

پام وسٹا ہاؤسنگ اسکینڈل کا مرکزی ملزم متحدہ عرب امارات سے گرفتار، پاکستان حوالگی کی تیاری شروع

کاشف عباسی ,May 23 ,2026

لاہور/ نیوز اینڈ نیوز

: اربوں روپے کے پام وسٹا ہاؤسنگ اسکینڈل میں مطلوب مرکزی ملزم محمد قاسم خان کو متحدہ عرب امارات میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گرفتاری انٹرپول، پاکستانی حکام اور متحدہ عرب امارات کی متعلقہ ایجنسیوں کے باہمی تعاون سے عمل میں آئی، جبکہ ملزم کو ابوظہبی میں حراست میں لے کر مقامی حکام کے سامنے پیش کیا گیا۔

قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور کے مطابق محمد قاسم خان ایک بڑے مالیاتی اور ہاؤسنگ فراڈ کیس میں مطلوب تھا، جس میں شہریوں کو جعلی ہاؤسنگ منصوبے، منافع کے جھوٹے وعدوں اور غیرقانونی پلاٹوں کی فروخت کے ذریعے اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد اس کی بیرونِ ملک نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی تھی۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے ملزم کی حوالگی کے لیے باضابطہ قانونی دستاویزات طلب کر لی ہیں تاکہ اسے پاکستانی حکام کے حوالے کیا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور قانونی رابطے تیز کر دیے گئے ہیں اور جلد حوالگی کا عمل مکمل ہونے کا امکان ہے۔

نیب حکام کے مطابق پام وسٹا ہاؤسنگ اسکینڈل میں کم از کم 295 متاثرین سامنے آئے، جنہیں مجموعی طور پر ایک ارب 40 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔ متاثرین کا مؤقف ہے کہ ہاؤسنگ سوسائٹی کے پاس محدود اراضی ہونے کے باوجود سینکڑوں اضافی پلاٹ فروخت کیے گئے، جبکہ سرمایہ کاری پر غیرمعمولی منافع کے لالچ دے کر شہریوں سے بھاری رقوم وصول کی گئیں۔

متاثرین نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے ایک منظم پونزی اسکیم کے تحت لوگوں کو سرمایہ کاری پر منافع کی ادائیگی کے وعدے کیے، تاہم بعد ازاں منصوبہ بند طریقے سے رقم لے کر غائب ہو گئے۔ متعدد متاثرہ شہری گزشتہ دو برس سے نیب لاہور کے باہر احتجاج اور انصاف کے مطالبات کرتے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پام وسٹا ہاؤسنگ اسکیم کے دو دیگر ڈائریکٹرز محمود طارق اور عامر عظیم کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ محمد قاسم خان بیرونِ ملک سے مبینہ طور پر اپنے نیٹ ورک کو چلا رہا تھا۔

نیب لاہور کے ایک سینئر پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر بڑھتے ہوئے قانونی تعاون اور انٹرپول کے مؤثر کردار کے باعث مالیاتی جرائم میں ملوث افراد کے لیے بیرونِ ملک پناہ لینا اب مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق پنجاب بھر میں جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور سرمایہ کاری فراڈ کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کیا جا رہا ہے۔

نشتر اسپتال میں ایچ آئی وی اسکریننگ رپورٹ کے بغیر آپریشن، سینئر رجسٹرار سمیت 10 طبی عملہ معطل

کاشف عباسی ,May 23 ,2026

لاہور/ نیوز اینڈ نیوز

نشتر اسپتال کی انتظامیہ نے ایک مریض کا ایچ آئی وی اسکریننگ ٹیسٹ موصول ہونے سے قبل آپریشن کیے جانے کے معاملے پر سخت کارروائی کرتے ہوئے سینئر رجسٹرار، پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹروں اور ایک چارج نرس سمیت 10 طبی اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے، جبکہ محکمہ صحت پنجاب نے بھی ذمہ دار افراد کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کر دی ہے۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق 19 مئی کو وارڈ نمبر 5 کے آپریشن تھیٹر نمبر 17 میں ایک مریض کی پیٹ کی سرجری اس وقت کی گئی جب اس کی ایچ آئی وی اسکریننگ رپورٹ ابھی موصول نہیں ہوئی تھی۔ اس معاملے کو اسپتال کی جانب سے سنگین غفلت، بدانتظامی اور حفاظتی ایس او پیز کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

معطل کیے جانے والوں میں ڈاکٹر نعیم اختر، ڈاکٹر علی جان، ڈاکٹر ایفا قمر، ڈاکٹر سید محمد آصف، ڈاکٹر عبیر فاطمہ، ڈاکٹر ابوذر، ڈاکٹر عمر، ڈاکٹر سامعہ اور چارج نرس رضا زہرا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سینئر رجسٹرار سرجری ڈاکٹر فاریہ احمد اور میڈیکل آفیسر ڈاکٹر شہباز انور کو بھی ناقص انتظامی امور اور غفلت کے الزامات پر معطل کر دیا گیا ہے۔

محکمہ صحت پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ڈاکٹروں کی تربیتی پروگرامز بھی عارضی طور پر روک دیے ہیں، جن میں ایف سی پی ایس اور ایم ایس جنرل سرجری پروگرام شامل ہیں۔ تمام معطل اہلکاروں کو اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

اسپتال کے ترجمان راؤ نوشاد کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ متعلقہ مریض آپریشن تھیٹر میں آخری مریض تھا، اس لیے استعمال ہونے والے آلات کسی دوسرے مریض پر استعمال نہیں کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے بعد تمام آلات اور آپریشن تھیٹر کو مکمل طور پر جراثیم سے پاک کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق مریض کا ابتدائی ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آیا تھا، جس کے بعد نمونے مزید تصدیق کے لیے لاہور بھجوائے گئے ہیں اور پی سی آر رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دیگر مریضوں کو ایچ آئی وی منتقل ہونے کے خدشات کی خبریں تاحال غیر مصدقہ ہیں۔

واقعے کی تحقیقات کے لیے چار رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جس کی سربراہی ڈاکٹر لبنیٰ اعظم کر رہی ہیں۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ ذمہ داروں کا تعین کر کے اپنی رپورٹ فوری طور پر پیش کرے۔

یاد رہے کہ ماضی میں بھی نشتر اسپتال کو انفیکشن کنٹرول اور ڈائلیسز یونٹ میں مبینہ غفلت کے باعث تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پنجاب کے وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے واضح کیا ہے کہ مریضوں کے علاج میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کر دی

محمود احمد May22,2026

پٹرول 6 روپے اور ڈیزل 6 روپے 80 پیسے سستا، نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگا

لاہور : نیوز اینڈ نیوز

وفاقی حکومت نے عوام کو جزوی ریلیف دیتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 6 روپے 80 پیسے کمی کی گئی ہے۔

حکومتی فیصلے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 403 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 402 روپے 78 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔ وزارت خزانہ کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے کیا جائے گا۔

یہ مسلسل دوسرا موقع ہے جب حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے بھی پٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں 5،5 روپے فی لیٹر کمی کی گئی تھی، تاہم عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود عوام اب بھی ایندھن کی بلند قیمتوں سے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری جانب پٹرولیم مصنوعات پر عائد پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں نمایاں ردوبدل بھی سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے ڈیزل پر لیوی میں اضافہ جبکہ پٹرول پر لیوی میں کمی کی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ڈیزل پر عائد لیوی میں 9 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل پر لیوی کی مجموعی شرح 42 روپے 60 پیسے سے بڑھ کر 52 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اس کے برعکس پٹرول پر لیوی میں 9 روپے 24 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی، جس کے بعد پٹرول پر نئی لیوی 108 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کو ریونیو حاصل کرنے کے بڑے ذرائع میں شامل کر چکی ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے کے باوجود عوام کو مکمل ریلیف منتقل نہیں کیا جاتا۔

رپورٹس کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی فروخت قیمت کا ایک بڑا حصہ مختلف ٹیکسز، ڈیوٹیز، لیوی اور مارجنز پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ اصل درآمدی قیمت اس سے کہیں کم ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

اقتصادی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ٹیکسوں اور لیوی میں مزید کمی کرے تو عوام کو حقیقی ریلیف مل سکتا ہے، تاہم موجودہ مالی حالات اور ریونیو اہداف کے باعث حکومت کے لیے ایسا کرنا آسان نہیں ہوگا۔

زیرِ حراست تشدد کے سب سے زیادہ کیسز پنجاب میں رپورٹ، لاہور ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع

ملک بھر میں 364 شکایات درج، مگر محدود مقدمات ہی ایف آئی آرز میں تبدیل ہو سکے

لاہور: نیوز اینڈ نیوز

لاہور: وفاقی تحقیقاتی ادارے نے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ زیرِ حراست تشدد اور مبینہ حراستی اموات سے متعلق سب سے زیادہ شکایات پنجاب سے موصول ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب میں ایسے کیسز کی تعداد نمایاں طور پر زیادہ ہے، تاہم ملک بھر میں موصول ہونے والی شکایات میں سے صرف محدود تعداد کو باقاعدہ فوجداری مقدمات میں تبدیل کیا جا سکا۔

عدالت میں جمع کرائے گئے اعداد و شمار کے مطابق 30 اپریل 2026ء تک وفاقی تحقیقاتی ادارے نے “تشدد اور حراستی اموات کی روک تھام و سزا قانون 2022ء” کے تحت ملک بھر میں مجموعی طور پر 364 انکوائریاں درج کیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں سب سے زیادہ 266 انکوائریاں شروع کی گئیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں 48، سندھ میں 33، اسلام آباد میں 15 اور بلوچستان میں 2 کیسز رپورٹ ہوئے۔

اعداد و شمار کے مطابق شکایات کی بڑی تعداد کے باوجود پنجاب اور سندھ میں باقاعدہ مقدمات کی تعداد برابر رہی، جہاں دونوں صوبوں میں 19،19 ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ خیبرپختونخوا اور اسلام آباد میں 6،6 مقدمات درج ہوئے، جبکہ بلوچستان میں سامنے آنے والی دونوں شکایات کو ایف آئی آرز میں تبدیل کر دیا گیا۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ زیرِ حراست تشدد کے متعدد کیسز ابھی مختلف مراحل میں ہیں، جن میں تحقیقات، شواہد جمع کرنے اور قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایسے کیسز میں متاثرین اور گواہوں کے تحفظ، آزادانہ تحقیقات اور شفاف عدالتی کارروائی انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت مقدمے کے دوران عدالت نے متعلقہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی تاکہ حراستی تشدد کی روک تھام کے لیے موجودہ اقدامات اور قانون پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جا سکے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست تشدد کے واقعات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں اور ان کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی، احتساب اور اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ تشدد سے پاک تفتیشی نظام ہی انصاف کے شفاف عمل کو یقینی بنا سکتا ہے

دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے متاثرین کو مزید 67 کروڑ 77 لاکھ روپے معاوضے کی ادائیگی

منصور احمد ,May 22,2026

اسلام آباد: نیوز اینڈ نیوز

منصوبے کے متاثرین کو مجموعی طور پر 64 ارب 24 کروڑ روپے سے زائد ادا کیے جا چکے ہیں

اسلام آباد: واپڈا نے دیامر بھاشا ڈیم منصوبے سے متاثرہ افراد کو معاوضے کی ادائیگی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ضلع اپر کوہستان کے علاقے ہربن کے متاثرین میں مزید 67 کروڑ 77 لاکھ روپے تقسیم کر دیے۔ یہ رقم زمینوں کے حصول اور دیگر املاک کے معاوضے کے طور پر ادا کی گئی۔

معاوضے کے چیک بوشی داس میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران متاثرین کے حوالے کیے گئے۔ تقریب میں دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے جنرل منیجر و پراجیکٹ ڈائریکٹر انجینئر ڈاکٹر نزاکت حسین، ڈپٹی کمشنر اپر کوہستان عزیز اللہ جان، ڈپٹی کمشنر دیامر لیفٹیننٹ محمد اویس عباسی (ریٹائرڈ)، تھور ہربن گرینڈ امن جرگہ کے اراکین، مقامی عمائدین، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور واپڈا کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حکام نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم منصوبہ ہے، جو ملک کی پانی، خوراک اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کے حقوق کا تحفظ حکومت اور واپڈا کی اولین ترجیح ہے اور اسی مقصد کے تحت شفاف انداز میں معاوضوں کی ادائیگی جاری رکھی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ہربن اور تھور کے قبائل کے درمیان زمین کی حدود سے متعلق کئی دہائیوں پرانا تنازع 2022ء میں تھور ہربن گرینڈ امن جرگہ کی کامیاب کوششوں سے حل ہوا تھا، جس کے بعد متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کی راہ ہموار ہوئی۔ اس جرگے نے خیبرپختونخوا کے ضلع اپر کوہستان اور گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے قبائل کے درمیان مذاکرات کے ذریعے امن معاہدہ کرایا تھا۔

واپڈا حکام کے مطابق ادارہ اب تک اپر کوہستان کی ضلعی انتظامیہ کو 4 ارب 48 کروڑ روپے سے زائد جبکہ ضلع دیامر کی انتظامیہ کو 59 ارب 76 کروڑ روپے سے زیادہ رقم منتقل کر چکا ہے۔ اس طرح دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے لیے زمینوں اور جائیدادوں کے حصول کی مد میں مجموعی ادائیگیاں 64 ارب 24 کروڑ روپے تک پہنچ چکی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 35 ہزار 924 ایکڑ اراضی درکار ہے، جس میں سے اب تک 33 ہزار 848 ایکڑ زمین حاصل کی جا چکی ہے۔ حاصل کی گئی زمین میں گلگت بلتستان کے 32 ہزار 428 ایکڑ جبکہ خیبرپختونخوا کے 1 ہزار 420 ایکڑ شامل ہیں۔

دیامر بھاشا ڈیم دریائے سندھ پر تعمیر کیا جا رہا ہے اور اسے پاکستان کے اہم ترین آبی و توانائی منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد 81 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا جبکہ 4 ہزار 500 میگاواٹ سستی، ماحول دوست اور کم لاگت بجلی قومی گرڈ میں شامل ہوگی۔

ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ ملک میں زرعی ترقی کے لیے بھی سنگ میل ثابت ہوگا کیونکہ اس سے مزید 12 لاکھ ایکڑ اراضی سیراب کی جا سکے گی۔ علاوہ ازیں دیامر بھاشا ڈیم ہر سال تقریباً 18 ارب یونٹ کم لاگت بجلی پیدا کرے گا، جس سے توانائی بحران میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔

خیبرپختونخوا کے 23 اضلاع میں خصوصی انسدادِ پولیو مہم کا آغاز، 46 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے

رپورٹ : ( نیوز اینڈ نیوز) پشاور: خیبرپختونخوا میں پولیو کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر خصوصی انسدادِ پولیو مہم شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ایمرجنسی آپریشنز سنٹر خیبرپختونخوا کے مطابق صوبے کے 23 مخصوص اضلاع میں یہ مہم چلائی جائے گی، جس کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے 46 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

حکام کے مطابق مہم کا مقصد صوبے کے حساس اور زیادہ خطرات والے علاقوں میں بچوں کو پولیو وائرس سے محفوظ بنانا اور بیماری کے مکمل خاتمے کو یقینی بنانا ہے۔ اس سلسلے میں محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان مکمل رابطہ اور تعاون جاری ہے۔

ایمرجنسی آپریشنز سنٹر کے مطابق یہ خصوصی مہم بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کے تمام اضلاع میں چلائی جائے گی، جبکہ ضلع ایبٹ آباد، تورغر، اپر کوہستان، لوئر کوہستان، کولائی پالس، باجوڑ، دیر لوئر، مہمند، مردان، نوشہرہ، پشاور، خیبر، کوہاٹ، ہنگو، کرم اور کرک بھی اس مہم میں شامل ہیں۔

حکام نے بتایا کہ ضلع پشاور اور ضلع خیبر میں انسدادِ پولیو مہم سات روز تک جاری رہے گی، جبکہ دیگر اضلاع میں یہ مہم چار دن تک جاری رکھی جائے گی تاکہ ہر بچے تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔

انسدادِ پولیو مہم کو مؤثر اور کامیاب بنانے کے لیے 22 ہزار 450 تربیت یافتہ پولیو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گی۔ اس کے علاوہ مہم کے دوران پولیو ورکرز کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے تقریباً 35 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

صوبائی حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں تاکہ انہیں عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پولیو ایک خطرناک مگر قابلِ تدارک بیماری ہے اور مشترکہ کوششوں سے ہی اس کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دہشتگردی کے خاتمے اور قومی خودمختاری کے دفاع کے عزم کا اعادہ

کاشف عباسی ,May 20,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

کوئٹہ: وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ، دہشتگردی کے مکمل خاتمے اور بلوچستان میں پائیدار امن و استحکام کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن قوتیں پراپیگنڈا، جعلی خبروں اور پراکسیز کے ذریعے پاکستان کی ترقی کا راستہ نہیں روک سکتیں۔

کوئٹہ کے دورے کے دوران وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج میں افسران اور فیکلٹی سے خطاب کیا۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی، جھوٹے بیانیے اور منفی پروپیگنڈا پاکستان کی ترقی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی مضبوطی، عوام کے اتحاد اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت کے باعث دشمن کے تمام عزائم ناکام ہوں گے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے افسران اور جوانوں کے بلند حوصلے، آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام کی ثابت قدم حمایت سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔

انہوں نے بلوچستان میں دیرپا امن کے لیے عوام دوست حکمتِ عملی، جامع ترقی، بہتر طرزِ حکمرانی اور ریاست و عوام کے درمیان مضبوط تعلق کو ناگزیر قرار دیا۔ آرمی چیف نے بلوچستان حکومت کی عوامی فلاح، سماجی و معاشی ترقی اور صوبے میں استحکام کے لیے جاری اقدامات کو بھی سراہا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو خطے میں “امن اور استحکام کے ضامن” ملک قرار دیا اور کہا کہ پاکستان نہ صرف اپنی سرحدوں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت اور قومی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

بعد ازاں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں، گورننس اصلاحات اور انسدادِ دہشتگردی اقدامات سے متعلق صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں قومی ایکشن پلان پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے معدنیاتی خطے کے لیے خصوصی سیکیورٹی کوریڈور قائم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی تاکہ سرمایہ کاری، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی سرگرمیوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف میں بجٹ اہداف پر اختلاف برقرار، اضافی ٹیکس اقدامات کا مطالبہ

منصور احمد ,May 19,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

اسلام آباد: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ، معاشی اہداف اور میکرو اکنامک فریم ورک پر مذاکرات جاری ہیں، تاہم دونوں فریقین کے درمیان کئی اہم امور پر اختلافات برقرار ہیں۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے وفاقی اور صوبائی سطح پر مزید ٹیکس وصولی کے اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے صوبوں کو آئندہ مالی سال کے دوران ریونیو میں تقریباً 40 فیصد اضافے کی ہدایت کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومتوں کے لیے زراعت، پراپرٹی، سروسز اور دیگر شعبوں سے تقریباً 400 ارب روپے اضافی ٹیکس جمع کرنے کا ہدف زیر غور ہے۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 4.1 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ آئی ایم ایف کا تخمینہ ہے کہ معاشی شرح نمو 3.5 فیصد تک محدود رہ سکتی ہے۔ رواں مالی سال حکومت نے 4.2 فیصد گروتھ ہدف مقرر کیا تھا، تاہم معاشی کارکردگی 3.7 فیصد رہی۔

حکومتی تخمینوں کے مطابق آئندہ مالی سال میں اوسط مہنگائی 8.6 فیصد رہنے کا امکان ہے، تاہم حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں پرائمری سرپلس کا ہدف جی ڈی پی کے 2 فیصد کے مساوی رکھنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

اقتصادی حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے ایک فیصد، یعنی تقریباً 4 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ درآمدات کا حجم 70 ارب ڈالر تک جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اگر برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا تو تجارتی خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ اسی تناظر میں حکومت آئندہ مالی سال میں بھی معیشت کو سہارا دینے کے لیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر پر انحصار جاری رکھے گی، جن کے 42 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کوئٹہ گیریژن کا دورہ، افسران کو جدید جنگی چیلنجز سے ہم آہنگ رہنے کی ہدایت

منصور احمد ,May 19,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

کوئٹہ: پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کوئٹہ گیریژن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج میں افسران اور فیکلٹی سے خطاب کرتے ہوئے بدلتے جنگی ماحول اور جدید تقاضوں کے مطابق مسلسل پیشہ ورانہ تیاری کی ضرورت پر زور دیا۔

پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کو اعلیٰ تربیتی معیار، فکری صلاحیت اور پیشہ ورانہ مہارت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ افسران اور جوانوں کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، ملٹی ڈومین آپریشنز اور جدید جنگی حکمت عملی سے ہم آہنگ رہنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل تیاری اور برتری برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ افسران اور جوان بدلتے ہوئے جنگی ماحول کے مطابق خود کو مسلسل تیار رکھیں۔

بلوچستان میں تعینات افسران اور جوانوں سے ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل نے ان کے بلند حوصلے اور آپریشنل تیاری کو سراہا اور کہا کہ پاکستانی عوام کی غیر متزلزل حمایت سے مسلح افواج دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کا سفر پروپیگنڈے، جعلی خبروں یا بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی سے نہیں روکا جا سکتا۔ “پاکستان دنیا میں اپنا بلند مقام حاصل کر رہا ہے اور پراکسیز و پروپیگنڈے کے ذریعے اس کی پیشرفت روکنے کی تمام کوششیں ناکام ہوں گی۔”

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان میں پائیدار امن و استحکام کے لیے عوامی فلاح، جامع ترقی اور بہتر طرزِ حکمرانی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے حکومت بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی اور عوامی بہبود کے لیے اقدامات کو سراہا۔

انہوں نے صوبے میں امن، استحکام اور ریاستی عملداری برقرار رکھنے میں سیکیورٹی فورسز کے کردار کی بھی تعریف کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کوئٹہ آمد پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا استقبال کمانڈر کوئٹہ کور نے کیا۔

بھارتی آرمی چیف کے اشتعال انگیز بیان پر پاک فوج کا سخت ردعمل، خطے کو نئی جنگ سے خبردار

کاشف عباسی ,May 18 ,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

اسلام آباد: پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے بھارتی آرمی چیف جنرل اپیندر دویدی کے حالیہ اشتعال انگیز بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارتی آرمی چیف نے ایک حالیہ انٹرویو میں پاکستان کے حوالے سے “تاریخ یا جغرافیہ کا حصہ بننے” جیسا اشتعال انگیز بیان دیا، جو نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

پاک فوج کے ترجمان نے خبردار کیا کہ بھارت جنوبی ایشیا کو ایک اور تنازع کی طرف دھکیلنے سے باز رہے، کیونکہ کسی بھی نئی جنگ کے نتائج پورے خطے کے لیے “تباہ کن” ثابت ہو سکتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور ایٹمی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے، جو ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور پُرامن بقائے باہمی کا خواہاں رہا ہے، تاہم ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر ممکن صلاحیت رکھتا ہے۔

آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بھارت آج تک پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کر سکا اور ہندوتوا سوچ نے جنوبی ایشیا کو بارہا جنگوں اور بحرانوں کی طرف دھکیلا ہے۔

بیان میں زور دیا گیا کہ “پاکستان کو جغرافیے سے مٹانے” جیسی دھمکیاں ذہنی دیوالیہ پن اور جنگی جنون کی عکاس ہیں، جبکہ ایک ایٹمی ہمسایہ ملک کے بارے میں اس قسم کی زبان انتہائی غیر ذمہ دارانہ طرزِ فکر کو ظاہر کرتی ہے۔

پاک فوج کے مطابق ذمہ دار ایٹمی ریاستیں تحمل، تدبر اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہیں، جبکہ بھارت ماضی میں خطے میں دہشتگردی، عدم استحکام اور پروپیگنڈے کا مرکز رہا ہے۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ “معرکۂ حق” میں بھارت کی ناکامی دنیا کے سامنے آ چکی ہے اور نئی اشتعال انگیزی دراصل پاکستان کو نقصان پہنچانے میں ناکامی کا اظہار ہے۔

بیان میں بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرے اور خطے کو کسی نئی جنگ یا بحران کی طرف دھکیلنے سے گریز کرے۔

وانا بازار خون میں نہا گیا: گلشن مارکیٹ دھماکے میں 3 افراد جاں بحق، 5 زخمی

منصور احمد ,May 18,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا بازار کی گلشن مارکیٹ میں پیر کے روز ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 5 افراد زخمی ہوگئے۔ دھماکہ پٹرول پمپ کے قریب پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

ذرائع کے مطابق دھماکہ مبینہ طور پر آئی ای ڈی کے ذریعے کیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز، پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے میں چیف آف ملک طارق موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جبکہ بعد ازاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 3 ہوگئی۔ جاں بحق افراد کی شناخت ملک طارق ولد بسم اللہ خان، ملک سرفراز ولد غلام رسول اور عبدالجبار ولد بارات خان کے ناموں سے ہوئی ہے۔

زخمی ہونے والوں میں سعید انور ولد قدرت اللہ، عمر ولد تاج محمد، راشد خان ولد پائی محمد، میر حسن ولد امان اللہ خان اور صابر ولد کل بازار شامل ہیں۔ تمام زخمیوں اور جاں بحق افراد کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ دھماکے کی نوعیت اور ذمہ دار عناصر کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ واقعے کے بعد وانا بازار کے متعدد حصے عارضی طور پر بند کر دیے گئے جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

مقامی عمائدین اور شہری حلقوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور ملوث عناصر کو فوری گرفتار کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔