حج رجسٹریشن میں ڈیجیٹل انقلاب؛ صرف 15 دنوں میں رجسٹرڈ عازمین کی تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کر گئی

روزینہ اسماعیل, JULY 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 جولائی 2026ء

وزارتِ مذہبی امور نے بتایا ہے کہ رواں حج سیزن کے لیے رجسٹریشن کے آغاز کے محض پندرہ دنوں کے اندر رجسٹرڈ عازمینِ حج کی مجموعی تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ گزشتہ روز ریکارڈ 12 ہزار 880 عازمین نے گھر بیٹھے اپنی ڈیجیٹل حج رجسٹریشن کا عمل کامیابی سے مکمل کیا۔ منگل کے روز وزارتِ مذہبی امور کے مقتدر ترجمان عمر بٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، حج پورٹل یا مخصوص موبائل ایپلی کیشن ’’پاک حج‘‘ کے ذریعے رجسٹریشن کا یہ مقتدر عمل سائلین کے لیے نہایت آسان اور باسہولت بنا دیا گیا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ یہ نظام وزیراعظم کے وژن کے مطابق ‘ڈیجیٹل پاکستان’ کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کی جانب ایک انتہائی اہم اور تزویراتی قدم ہے۔

وزارتِ مذہبی امور نے اپنے اگلے انقلابی مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ مستقبل قریب میں حج کے تمام تر واجبات بھی مکمل طور پر آن لائن وصول کیے جائیں گے۔ نیشنل آئی ٹی بورڈ کا تیار کردہ یہ جدید ‘حج مینجمنٹ سسٹم’ عازمینِ حج اور وزارت کے درمیان بلا تعطل رابطے کا ایک آسان اور شفاف ترین ذریعہ بن چکا ہے۔ اب تک کے مقتدر اعداد و شمار کے مطابق، مجموعی عازمین میں سے ایک لاکھ 87 ہزار افراد نے سرکاری حج سکیم جبکہ 63 ہزار افراد نے پرائیویٹ حج سکیم کا انتخاب کیا ہے۔ رجسٹرڈ ہونے والے عازمینِ حج کی تعلیمی قابلیت بھی مقتدر حد تک نمایاں ہے، جن میں 3 ہزار پی ایچ ڈی ہولڈرز، 45 ہزار ماسٹرز اور 60 ہزار بیچلرز ڈگری کے حامل اعلیٰ تعلیم یافتہ شہری شامل ہیں۔ عمر کے لحاظ سے دیکھا جائے تو 33 سے 44 سال کی عمر کے عازمینِ حج 76 ہزار کی ریکارڈ تعداد کے ساتھ سب سے نمایاں گروپ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرِصدارت اہم اجلاس؛ کثیرالجہتی اقدامات میں پاکستان کی جاری شمولیت کا تفصیلی جائزہ

منصور احمد, JULY 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 جولائی 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مختلف کثیرالجہتی اقدامات میں پاکستان کی جاری فعال شمولیت اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی ہے۔ منگل کے روز دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم کو مستقبل قریب میں منعقد ہونے والے مختلف اعلیٰ سطح کے بین الاقوامی پروگراموں اور کانفرنسوں کی تیاریوں کی اب تک کی پیش رفت سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔

سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کثیرالجہتی تعاون کے فروغ کے لیے پاکستان کے مسلسل اور پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، مختلف بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے اصولی و تزویراتی مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کے حوالے سے وزارتِ خارجہ کے حکام کو ضروری اور مقتدر ہدایات جاری کیں۔ اسلام آباد میں منعقدہ اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ، سپیشل سیکرٹری (اقوامِ متحدہ)، ایڈیشنل سیکرٹری (ایشیا پیسیفک) اور وزارتِ خارجہ کے دیگر سینئر سفارتی حکام نے شرکت کی۔

ایس ایم ایز کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات ضروری ہیں، وزیراعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی , JULY 07,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی برآمدات میں تیز رفتار اضافے کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایس ایم ایز) کو بینکوں سے قرضوں کی فراہمی میں ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایس ایم ایز کی ترقی کی راہ میں حائل دیرینہ رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تزویراتی اقدامات اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ سمیڈا ملکی نوجوانوں اور ویمن انٹرپرینیورز (خواتین کاروباریوں) کو چھوٹے و درمیانے درجے کی نئی صنعتیں لگانے میں فعال معاونت فراہم کرے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز یہاں اسلام آباد میں سمیڈا کی کارکردگی اور فروغ کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس مقتدر اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک، معاونِ خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے ذاتی طور پر شرکت کی، جبکہ چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور صنعت کے مقتدر ماہرین نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کر کے اپنی آراء کا اظہار کیا۔ اجلاس کے دوران سمیڈا حکام کی جانب سے ملک بھر میں ایس ایم ایز کی سہولت اور استعداد کار بڑھانے کے لیے اٹھائے گئے مختلف اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے بریفنگ کا جائزہ لینے کے بعد خصوصی ہدایت کی کہ ایس ایم ایز کی صنعتوں کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے، بالخصوص ملکی کسانوں کی اجناس و پھلوں کی جدید پراسیسنگ (ویلیو ایڈیشن) کے لیے انہیں تکنیکی آگاہی اور آسان شرائط پر قرضے فراہم کرنے کے حوالے سے تمام تر سہولیات یکجا کی جائیں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ کمرشل بینکوں کی جانب سے چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو قرضوں کی آسان فراہمی کے حوالے سے خصوصی اور پرکشش پراڈکٹس کی تیاری کی حوصلہ افزائی کی جائے، جبکہ نئے کاروباریوں کو فزیبلٹی رپورٹس کی تیاری اور دیگر ابتدائی مراحل میں مکمل پیشہ ورانہ مدد فراہم کی جائے۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور تمام کمرشل بینکوں کے ساتھ مل کر ایک جامع اور فول پروف لائحہ عمل مرتب کرنے کی بھی ہدایت دی تاکہ ایس ایم ایز کی قرضوں تک رسائی کو ہر سطح پر آسان بنایا جا سکے۔ اجلاس کو مقتدر حکام نے بتایا کہ پاکستانی ایس ایم ایز کی عالمی منڈی تک رسائی اور ملکی برآمدات کو بڑھانے کے لیے رواں برس 700 سے زائد ایس ایم ایز کی 16 بین الاقوامی ایونٹس میں شرکت کو یقینی بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے 35 بڑے شہروں میں ایس ایم ایز کو مالی ضابطوں، ٹیکسیشن اور کاروبار کی جدید تکنیک کے حوالے سے خصوصی ٹریننگ بھی دی گئی ہے۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا ایکشن؛ بلوچستان اور پنجاب میں غیرملکی امداد سے جاری منصوبوں میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار

منصور احمد, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کی ذیلی کمیٹی نے بلوچستان اور پنجاب میں غیرملکی امداد سے جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں میں غیرمعمولی تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنانے اور تاخیر کے باعث لاگت میں ہونے والے ہولناک اضافے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لینے کی سخت ہدایت کی ہے۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، ذیلی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس پیر کے روز اسلام آباد میں سینیٹر سید وقار مہدی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں پنجاب اور بلوچستان میں غیرملکی مالیاتی معاونت سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی اور سرسری جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران بلوچستان کے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ (پی اینڈ ڈی) کے اعلیٰ حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں غیرملکی امداد کی بدولت 11 مختلف اہم شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے مقتدر اراکین کو آگاہ کیا کہ سال 2015ء سے لے کر اب تک غیرملکی معاونت سے مجموعی طور پر 45 بڑے منصوبے شروع کیے گئے، جن میں سے اب تک صرف 14 مکمل ہو سکے ہیں جبکہ باقی ماندہ منصوبے تاحال مختلف تعطل اور مراحل کا شکار ہیں۔ سینیٹر سید وقار مہدی نے حکام سے استفسار کیا کہ ان اہم ترقیاتی منصوبوں میں اتنی طویل تاخیر کی بنیادی اور اصل وجوہات کیا ہیں؟ جس پر محکمہ پی اینڈ ڈی کے حکام نے بتایا کہ منصوبوں میں تاخیر کی پانچ بڑی وجوہات ہیں، جن میں بعض اوقات ڈونر ایجنسیوں سے متعلق پیچیدہ معاملات بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس موقع پر سینیٹر روبینہ خالد نے سخت سوال اٹھایا کہ کیا حکام کا مطلب یہ ہے کہ عالمی بینک (ورلڈ بینک) کی جانب سے منصوبوں میں تاخیر کی جاتی ہے؟ انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) میں ان کا تجربہ یہ رہا ہے کہ عالمی بینک کے مالی تعاون سے چلنے والے منصوبوں میں کبھی بھی کسی قسم کی تاخیر کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

بلوچستان کے ایڈیشنل سیکرٹری پلاننگ نے معاملے کی مقتدر وضاحت کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اصل مسئلہ بیرونی ڈونر ایجنسیوں کا نہیں بلکہ خود ملکی سرکاری اداروں کی جانب سے خریداری (پروکیورمنٹ) کا عمل بروقت مکمل نہ ہونے کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غیرملکی امداد سے چلنے والے منصوبوں میں بین الاقوامی سخت قواعد و ضوابط کے مطابق پروکیورمنٹ کا عمل درکار ہوتا ہے، جسے ہمارے متعلقہ محکمے اکثر مقررہ وقت میں مکمل کرنے سے قاصر رہتے ہیں، جس کے باعث پورے منصوبے تاخیر کی نذر ہو جاتے ہیں۔ سینیٹر سید وقار مہدی نے جب منصوبوں میں تاخیر کے باعث لاگت میں ہونے والے اضافے کا پوچھا تو حکام نے ایک حیران کن مثال دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں محض 24 کلومیٹر طویل ایک سڑک کے منصوبے کی ابتدائی لاگت 54 کروڑ روپے طے کی گئی تھی، جو محکموں کی سستی اور تاخیر کے باعث اب بڑھ کر 2 ارب روپے سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ ذیلی کمیٹی نے اس غیرمعمولی مالیاتی نقصان اور لاگت میں اضافے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو غیرملکی امداد سے جاری تمام منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار کو فوری بہتر بنانے، پروکیورمنٹ کے پورے نظام کو فول پروف و موثر بنانے اور عوامی وسائل کے مزید ضیاع کی روک تھام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات اٹھانے کا مقتدر حکم جاری کیا۔

پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور پنجاب و خیبر پختونخوا کے نشیبی علاقے زیرِ آب آنے کا خدشہ؛ بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے مرطوب ہوائیں بالائی علاقوں میں داخل

کاشف عباسی , JULY 06,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں مون سون بارشوں کے تناظر میں ایک ہنگامی انتباہ جاری کیا ہے، جس کے مطابق پیر کی رات اور منگل کے روز متوقع موسلادھار بارشوں کے باعث بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے حساس پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خدشہ ہے۔ مقتدر الرٹ کے مطابق، ان شدید بارشوں کے نتیجے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ، لاہور اور فیصل آباد کے نشیبی و شہری علاقے زیرِ آب (اربن فلڈنگ) آ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تیز آندھی، جھکڑ چلنے اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات خصوصاً سولر پینلز، بجلی کے کھمبوں اور بل بورڈز کو شدید نقصان پہنچنے کا بھی اندیشہ ہے۔

محکمہ موسمیات کے ماہرین کے مطابق، موجودہ موسمی صورتحال کے پیشِ نظر بحیرہ عرب سے نم آلود اور مرطوب ہوائیں مسلسل ملک کے بالائی علاقوں کا رخ کر رہی ہیں، جبکہ خلیجِ بنگال سے بھی مرطوب ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ آج رات سے شمال مشرقی علاقوں میں داخل ہونے کا واضح امکان ہے۔ اس کے ساتھ ہی مغربی ہواؤں کی ایک لہر ملک کے بالائی حصوں پر پہلے سے موجود ہے، جو کل سے وسطی علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر حصوں میں موسم شدید مرطوب رہنے کی توقع ہے، تاہم کشمیر، بالائی خیبرپختونخوا، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار اور جنوب مشرقی سندھ میں چند مقامات پر تیز ہواؤں، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، جبکہ اس دوران چند مقامات پر موسلادھار بارش اور ژالہ باری کی بھی پیشگوئی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کل منگل کے روز کشمیر، خیبر پختونخوا، پنجاب، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں کہیں کہیں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بادل برسیں گے، جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں موسم گرم اور حبس زدہ رہے گا، تاہم جنوبی اضلاع میں دن کے اوقات میں مقتدر حد تک شدید گرمی پڑے گی۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہا، تاہم شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اور بالائی خیبر پختونخوا میں چند مقامات پر بارش ریکارڈ کی گئی۔ سب سے زیادہ بارش پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں 27، سیالکوٹ ایئرپورٹ پر 22، دیر میں 22، کاکول میں 16، پٹن میں 15 اور مظفر آباد سٹی میں 14 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ پیر کے روز ملک میں سب سے زیادہ درجہ حرارت سبی اور دادو میں 48 ڈگری سینٹی گریڈ، جبکہ جیکب آباد، نوکنڈی اور دالبندین میں 47 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا بڑا انقلابی قدم؛ پورٹل اور موبائل ایپ ’انویسٹ پاک‘ کا باضابطہ آغاز

کاشف عباسی , JULY 06,026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے پیر کے روز ایک خصوصی ویب پورٹل اور موبائل ایپلی کیشن ایکو سسٹم ’’انویسٹ پاک‘‘ کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس جدید ترین ڈیجیٹل پورٹل کو حکومتِ پاکستان کے تمسکات (سرکاری سیکیورٹیز) میں مکمل طور پر ڈیجیٹل انداز میں سرمایہ کاری کے لیے ریٹیل (انفرادی) اور کارپوریٹ صارفین کی ضروریات کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ پورٹل کے تزویراتی آغاز کے ساتھ ہی اسٹیٹ بینک نے ایک جامع ملک گیر میڈیا مہم کا بھی آغاز کیا ہے تاکہ ریاستی ڈیٹ مارکیٹ میں خوردہ صارفین کی وسیع تر شرکت کی حوصلہ افزائی کی جا سکے اور اس حوالے سے عوامی آگاہی کو بڑھایا جائے۔ اسٹیٹ بینک کے کراچی دفتر میں منعقدہ اس باوقار افتتاحی تقریب کی میزبانی گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کی جبکہ تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب تھے۔

افتتاحی تقریب میں اسٹیٹ بینک کی مقتدر سینئر قیادت، ملک بھر کے بینکوں کے صدور، ممتاز کارپوریٹ اداروں، سرمایہ کار کمپنیوں، میوچل فنڈز کے سربراہان اور بینکاری و مالیاتی صنعت کی نمایاں شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے وزیراعظم کے ڈیجیٹل لحاظ سے فعال اور مالی شمولیت پر مبنی معیشت کے وژن کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی کے فروغ میں اسٹیٹ بینک کے سرگرم اور تزویراتی کردار کو بے حد سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ’انویسٹ پاک‘ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مقتدر نظام کو جمہوری بنانے کی سمت میں ایک فیصلہ کن اقدام ہے جس کے ذریعے عام شہریوں، خصوصاً نوجوانوں، کارپوریٹ اور دیگر اداروں کو محفوظ ترین ریاستی سرمایہ کاری کے مواقع تک براہِ راست ڈیجیٹل رسائی فراہم کی گئی ہے۔ اس اقدام سے باضابطہ مالیاتی شعبے میں عوام کی شرکت زیادہ آسان، زیادہ شمولیتی اور معاشرے کے ہر طبقے کے لیے قابلِ رسائی ہو جائے گی۔ نجی شعبے کو قرض دینے پر اس اقدام کے مثبت اثرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھنے سے بینکوں کو اپنی بنیادی ذمہ داری یعنی نجی شعبے کو قرضے دینے پر توجہ مرکوز کرنے اور پیداواری معاشی سرگرمیوں کی اعانت کرنے میں بھرپور مدد ملے گی۔

اپنے استقبالیہ خطاب میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ ’انویسٹ پاک‘ پاکستان کے مالیاتی منظرنامے کے ارتقاء میں ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پلیٹ فارم اسٹیٹ بینک کے سٹریٹجک وژن 2028ء کے تحت ہر شخص تک مالی خدمات کو آسان، پائیدار اور ڈیجیٹل طریقے سے پہنچانے کے مقتدر عزم کی عکاس ہے۔ گورنر نے انویسٹ پاک کو محض ایک ٹیکنالوجی پلیٹ فارم نہیں بلکہ ایک دیرینہ خواب کی تعبیر قرار دیا جس کا مقصد سرکاری تمسکات کی ایک ایسی مارکیٹ کا قیام ہے جو جامع، موثر اور ہر چھوٹے بڑے سرمایہ کار کے لیے قابلِ رسائی ہو۔ انہوں نے کہا کہ انویسٹ پاک کا آغاز پاکستان بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے ڈیجیٹل رسائی اور انہیں مالی طور پر بااختیار بنانے کے ایک نئے دور کا نقطہ آغاز ثابت ہوگا۔ ملک گیر میڈیا مہم کے حوالے سے گورنر نے کہا کہ صرف ٹیکنالوجی سے رویوں میں تبدیلی نہیں آتی، بلکہ آگاہی اس تبدیلی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا اور ایف ایم ریڈیو کے ذریعے ایک مربوط آگاہی مہم چلائے گا تاکہ سرکاری تمسکات میں سرمایہ کاری پر بات چیت گھر گھر میں ہونے لگے۔

گورنر نے اعادہ کیا کہ اسٹیٹ بینک خودکاریت، شفافیت اور بہترین بین الاقوامی روایات کو اپنا کر مارکیٹ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے عزم پر سختی سے قائم رہے گا۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ انویسٹ پاک کو ایک مشترکہ قومی اقدام کے طور پر اپنائیں۔ توقع ہے کہ اس پلیٹ فارم سے روایتی کاغذی کارروائی میں نمایاں کمی آئے گی، شفافیت میں اضافہ ہوگا اور گھروں و دفاتر سے سرکاری تمسکات تک بآسانی رسائی میں مدد ملے گی جس سے انفرادی سرمایہ کاروں، خواتین سرمایہ کاروں، چھوٹی بچت کرنے والوں اور کارپوریٹ اداروں کو یکساں فائدہ پہنچے گا۔ اس سسٹم میں شریک مالیاتی اداروں کو پاکستانی روپے اور آئی پی ایس کے متعدد اکاؤنٹس سنبھالنے کے لیے ایک ہمہ گیر انٹرفیس بھی فراہم کیا گیا ہے جس سے انہیں سہولت اور پورٹ فولیو کی بہتر وزیبیلیٹی دستیاب ہوگی۔ عوام میں اس کی قبولیت کو بڑھانے اور صارفین کے مسائل فوری حل کرنے کے لیے ویب پورٹل اور موبائل ایپ کے ساتھ ساتھ ایک خصوصی ’انویسٹ پاک کال سینٹر‘ اور آن لائن سپورٹ سسٹم بھی قائم کر دیا گیا ہے۔

بلدیہ ٹاؤن فیکٹری سانحہ؛ سپریم کورٹ نے محمد زبیر عرف چریا اور عبدالرحمان عرف بھولا کو بری کر دیا؛ فوجداری انصاف میں سزا محض قیاس آرائی یا شبہات پر نہیں دی جا سکتی

منصور احمد, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک مقتدر فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ملکی فوجداری نظامِ انصاف میں کسی بھی ملزم کو محض قیاس آرائی، عمومی قسم کے الزامات یا مضبوط شبہات کی بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی، بلکہ استغاثہ پر قانونی طور پر لازم ہے کہ وہ مبینہ جرم کو ہر معقول شک سے بالاتر ہو کر قابلِ اعتماد اور ناقابلِ تردید شواہد سے ثابت کرے۔ عدالتی رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ مقتدر تحریری فیصلے کے مطابق، معزز جج جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے کراچی کے مشہور بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی کیس میں 39 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے مرکزی ملزمان محمد زبیر عرف چریا اور عبدالرحمان عرف بھولا کو تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری سانحہ بلاشبہ ملکی تاریخ کے المناک ترین اور افسوسناک ترین واقعات میں سے ایک تھا، جس میں 264 قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور درجنوں معصوم افراد شدید زخمی ہوئے، تاہم ایسے حساس اور بڑے مقدمات میں بھی قانون کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ سزا صرف اور صرف مضبوط، ٹھوس اور قابلِ اعتماد ثبوتوں کی بنیاد پر ہی دی جائے۔ تحریری فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ واقعے کی ابتدائی معلوماتی رپورٹ (ایف آئی آر) میں فیکٹری مالکان اور انتظامیہ کو حفاظتی انتظامات میں مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا، تاہم تقریباً اڑھائی سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو جان بوجھ کر کیمیکل کی مدد سے آگ لگانے کی ایک بالکل نئی کہانی سامنے لائی گئی، جسے استغاثہ بعد میں معتبر عدالتی شواہد سے ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔

سپریم کورٹ نے اپنے مقتدر فیصلے میں مزید قرار دیا کہ ملزم عبدالرحمان عرف بھولا کا بعد میں واپس لیا گیا عدالتی اعترافِ جرم کسی بھی آزاد اور مضبوط شہادت سے ثابت نہیں ہو سکا، جبکہ اس کا یہ بیان گرفتاری کے 9 روز بعد ریکارڈ کیا گیا تھا اور اس غیر معمولی تاخیر کی بھی کوئی قابلِ قبول قانونی وضاحت عدالت کے سامنے پیش نہیں کی گئی۔ عدالتِ عظمیٰ نے تکنیکی پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فرانزک شواہد سے بھی یہ ثابت نہیں ہو پایا کہ فیکٹری میں آگ لگانے کے لیے کسی مخصوص کیمیکل کا استعمال کیا گیا تھا۔ اسی طرح ہولناک سانحے میں معجزاتی طور پر زخمی ہونے والے عینی شاہدین نے بھی ملزمان کے خلاف عدالت میں کوئی براہِ راست بیان قلمبند نہیں کرایا، جبکہ فیکٹری میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی اصل ریکارڈنگ بھی عدالت کے سامنے پیش نہیں کی گئی، جو استغاثہ کے بنائے گئے مقدمے میں ایک بہت بڑا اور اہم ترین خلاء ہے۔

عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے میں دوٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت یا کسی مخصوص طبقے کو عمومی الزامات یا محض مفروضوں کی بنیاد پر موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا، کیونکہ فوجداری مقدمات کا سنہری اصول ہے کہ ہر الزام کا ثبوت ٹھوس، قانونی طور پر قابلِ قبول اور مقررہ معیار پر پورا اترنے والے شواہد سے فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کے آخر میں قرار دیا کہ چونکہ استغاثہ ملزمان کے خلاف اپنا مقدمہ معقول شک سے بالاتر ہو کر ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، لہٰذا مروجہ قانون کے مطابق دونوں ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے عزت کے ساتھ بری کیا جاتا ہے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے کی امیدوار ماریا فرنانڈا ایسپینوسا کی اہم ملاقات

منصور احمد, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے باوقار عہدے کی مضبوط امیدوار اور ایکواڈور کی سابق وزیرِ خارجہ ماریا فرنانڈا ایسپینوسا نے پیر کے روز یہاں اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات کی ہے۔ دفترِ خارجہ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے معزز مہمان کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور کثیرالجہتی تعاون کے فروغ سمیت عالمی امور میں اقوامِ متحدہ کے مرکزی کردار کو مستقبل میں مزید مضبوط اور فعال بنانے کے لیے پاکستان کی جانب سے بھرپور حمایت کا پختہ اعادہ کیا۔

سینیٹر اسحاق ڈار نے اس اہم موقع پر امید ظاہر کی کہ اقوامِ متحدہ کے آئندہ منتخب ہونے والے سیکرٹری جنرل عالمی ادارے کے ڈھانچے میں انتہائی ضروری اصلاحات متعارف کرائیں گے اور سلامتی کونسل کی دیرینہ التواء کا شکار قراردادوں، بالخصوص مظلوم فلسطین اور جموں و کشمیر سے متعلق مقتدر قراردادوں پر مؤثر و منصفانہ عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے، جو اس وقت مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے خطوں میں پائیدار عالمی امن کے قیام کے لیے نہایت ناگزیر ہیں۔

نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے ملکی عزم کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی مقاصد اور زریں اصولوں کے فروغ، بین الاقوامی قانون اور سفارتی معاہدات کے مکمل احترام سمیت عالمی امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے فعال بین الاقوامی تعاون کو آگے بڑھانے میں اپنا مثبت اور تاریخی کردار ہمیشہ کی طرح جاری رکھے گا۔ دونوں رہنماؤں نے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا بڑا اقدام؛ پروٹیکٹریٹ آف امیگریشن کے پورے نظام کو ڈیجیٹل کرنے اور نوجوانوں کے لیے بیرونِ ملک روزگار کی تلاش تیز کرنے کی سخت ہدایت

کاشف عباسی , JULY 06,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پروٹیکٹریٹ آف امیگریشن کے تمام تر روایتی نظام کو فوری طور پر ڈیجیٹل کرنے اور بیرونِ ملک قائم پاکستانی سفارتخانوں کو بین الاقوامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع سے آگاہی فراہم کرنے کے لیے اقدامات تیز کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افرادی قوت انتہائی باصلاحیت ہے اور حکومت ان کو بین الاقوامی معیار کی فنی تعلیم اور عالمی مارکیٹ تک رسائی دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملکی نوجوانوں کو روزگار مہیا کرنے کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس پیر کے روز اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق ملک، عطاء اللہ تارڑ، چوہدری سالک حسین، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، چیئرمین نیوٹیک راجا قمر الاسلام، چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے سمندر پار پاکستانی سفارتخانوں کو ہدایت کی کہ وہ پاکستانی افرادی قوت کے لیے موزوں روزگار کے مواقع کی تلاش کے عمل میں تیزی لائیں، جبکہ افرادی قوت بالخصوص نوجوانوں کو سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت، نیوٹیک اور یوتھ پروگرام کے تحت مختلف اہم ہنر اور بین الاقوامی زبانوں کے کورسز مع تصدیق شدہ اسناد فراہم کرنا یقینی بنائیں۔ وزیراعظم نے پاکستانی اسناد کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مختلف ممالک سے روابط مضبوط کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جن ترقی یافتہ ممالک میں پاکستانی ہنرمند افراد کے لیے روزگار کی گنجائش موجود ہے، وہاں کی مقامی زبان کی تعلیم اور سرٹیفیکیشنز کو لازمی بنایا جائے۔ انہوں نے نیوٹیک کے تحت تکنیکی و فنی تربیت کے اداروں کی مجموعی کارکردگی اور مخصوص ممالک کے لیے قائم کیے جانے والے مراکز کی پیشرفت پر تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم کو افرادی قوت بالخصوص نوجوانوں کے لیے اندرون و بیرونِ ملک روزگار کے مواقع پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں حکام نے بتایا کہ حکومت کے ڈیجیٹل یوتھ ہب میں اب تک 8 لاکھ سے زائد نوجوان کامیابی سے رجسٹر ہو چکے ہیں۔ اس وقت بیرونِ ملک تعمیرات، زراعت، سیاحت، صحت، ٹرانسپورٹ، بائیوٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، نرسنگ، ادویہ سازی، اشیائے خوردونوش کی تیاری اور جہاز سازی کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع دستیاب ہیں۔ بریفنگ کے مطابق، ان تمام اہم شعبوں میں پاکستانیوں کو کھپانے کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام باقاعدگی سے جاری ہیں، جبکہ سمندر پار متعین پاکستانی سفارتخانے مختلف ممالک میں میسر ملازمتوں اور ان کے لیے درکار اہلیت کا تمام تر ڈیٹا ڈیجیٹل یوتھ ہب پورٹل پر باقاعدگی سے فراہم کریں گے تاکہ نوجوانوں کو براہِ راست رسائی حاصل ہو سکے۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے محتسب سیکرٹریٹ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط

منصور احمد, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے محتسب سیکرٹریٹ کے درمیان پیر کے روز ایک اہم اور تزویراتی مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط کیے گئے ہیں۔ اس تاریخی معاہدے کا بنیادی مقصد خواتین کے حقوق، خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ، پارلیمانی نظام میں ان کی موثر شمولیت کے فروغ، مقامِ کار پر خواتین کو ہراسگی سے تحفظ فراہم کرنے والے سال 2010ء کے قانون کے موثر نفاذ، جائے ملازمت پر تحفظ اور پارلیمانی روابط سے متعلق تمام اہم امور میں باہمی ادارہ جاتی تعاون، رابطہ کاری اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، اس مفاہمتی یادداشت کے تحت معلومات کے تبادلے، ملازمین کی استعداد کار میں اضافے، باہمی مشاورت اور تکنیکی معاونت کے لیے ایک جامع مشترکہ فریم ورک وضع کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس امر کو بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ دونوں مقتدر اداروں کے آئینی دائرہ اختیار، ادارہ جاتی خودمختاری اور پارلیمانی مراعات کا مکمل احترام ہر سطح پر برقرار رکھا جائے۔ اس اہم معاہدے کے تحت خواتین کی پارلیمانی کاکس کے ساتھ تعاون کے دائرے کو بھی مزید وسعت دی جائے گی تاکہ عوامی آگاہی میں اضافہ، قانون سازی پر موثر عمل درآمد اور باہمی مکالمے کے ذریعے خواتین کے حقوق کی نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ مفاہمتی یادداشت دونوں مقتدر اداروں کے اس مشترکہ عزم کی عکاس ہے کہ مربوط کوششوں کے ذریعے خواتین کے حقوق، بہتر طرزِ حکمرانی اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ اس مقتدر تقریب کے دوران قائم مقام سیکرٹری قومی اسمبلی سعید احمد اور محتسب حکومتِ خیبر پختونخوا بیرسٹر رباب مہدی نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس موقع پر سیکریٹری برائے خصوصی اقدامات سید شمعون ہاشمی، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور صوبائی محتسب خیبر پختونخوا کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ؛ والدین کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی بیٹی کی درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر مسترد

کاشف عباسی , JULY 06,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

لاہور ہائیکورٹ نے والدین کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی ایک بیٹی کی درخواست کو قانونی طور پر ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مستقل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ کے معزز جج جسٹس جواد ظفر نے درخواست گزار ایمان فاطمہ کی جانب سے دائر کردہ اپیل پر تفصیلی سماعت کی، جس میں تحفظِ امن کے عہدیدار (جسٹس آف پیس) کی جانب سے والدین پر مقدمے کے اندراج کی درخواست مسترد کیے جانے کے پرانے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

مقتدر عدالتی کارروائی کے دوران درخواست گزار ایمان فاطمہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ اپنے خاوند سے شدید ناچاقی اور لڑائی جھگڑے کے بعد وہ عارضی طور پر اپنے والدین کے گھر منتقل ہو گئی تھی اور اس کٹھن دورانئے میں اس نے اپنے شوہر سے جہیز اور قیمتی زیورات کی واپسی کے لیے فیملی کورٹ میں ایک مقدمہ بھی دائر کیا تھا۔ تاہم، بعد ازاں دونوں فریقین اور میاں بیوی میں باقاعدہ صلح ہو گئی، جس کے بعد وہ دوبارہ اپنے خاوند کے گھر جا کر ہنسی خوشی رہنے لگی۔ درخواست گزار کے مطابق اس صلح کے بعد جب وہ اپنے والدین کے گھر سے اپنے زیورات واپس لینے گئی تو انہوں نے زیورات لوٹانے سے صاف انکار کر دیا۔ اسی تنازع پر تحفظِ امن کے عہدیدار نے دس جون دو ہزار چھبیس کو والدین کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی بیٹی کی پہلی درخواست کو خارج کر دیا تھا۔ ہائیکورٹ میں دائر اس نئی درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ نچلی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر والدین کے خلاف چوری یا امانت میں خیانت کا مقدمہ درج کرنے کا مقتدر حکم جاری کیا جائے۔

لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج نے وکلاء کے تفصیلی دلائل سننے اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد درخواست گزار ایمان فاطمہ کی اپنے ہی والدین کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی اس استدعا کو قانون کے مقتدر اصولوں کے منافی اور ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا اور نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

پاکستان ریلوے نے دو بڑے ٹرین حادثات کی تحقیقاتی رپورٹ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں پیش کر دی؛ نو ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز

منصور احمد, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

پاکستان ریلوے نے مارچ دو ہزار چھبیس میں ہونے والے دو بڑے ٹرین حادثات کی حتمی انکوائری رپورٹ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے سامنے پیش کر دی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں دونوں ہائی پروفائل حادثات کی بنیادی وجوہات انسانی غفلت اور تکنیکی خرابیوں کو قرار دیتے ہوئے مجموعی طور پر 9 ذمہ دار ملازمین کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق، ملک بھر میں ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 135 چھوٹے بڑے ٹرین حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 34 حادثات ریلوے ٹریک کی سنگین خرابی کی وجہ سے پیش آئے جبکہ کل حادثات کا 35 فیصد حصہ بغیر عملے کے ریلوے کراسنگز پر ہونے والے حادثات پر مشتمل ہے۔

رپورٹ کے مقتدر مندرجات کے مطابق، مہراب پور کے مقام پر شالیمار ایکسپریس اور مال گاڑی میں ہونے والا ہولناک تصادم ڈرائیور کی سنگین غفلت اور سگنل توڑنے کے باعث ہوا، جس میں ایک ملازم جاں بحق اور متعدد بوگیاں الٹ گئیں۔ ریلوے حکام نے اس حادثے میں ڈرائیور فیاض محمد، اسسٹنٹ ڈرائیور آصف سعید، سینئر ٹرین ایگزامنرز آصف حسین اور ولی اللہ خان سمیت ہیڈ ٹرین ایگزامنر عمران نثار کو براہِ راست، جبکہ سٹیشن ماسٹر اسد اللہ کو بالواسطہ طور پر ذمہ دار نامزد کیا ہے۔ دوسری جانب، لودھراں-بہاولپور سیکشن پر تیزگام ایکسپریس کو پیش آنے والا دوسرا بڑا حادثہ تکنیکی مانیٹرنگ میں کوتاہی کا نتیجہ تھا، جہاں ڈائننگ کار کی فرنٹ ٹرالی میں نقص کے باعث ٹرین کی 8 کوچز پٹری سے اتریں اور متعدد مسافر زخمی ہوئے۔ اس فٹنس غفلت پر ثاقب غفور اور منہاس انور کو براہِ راست، جبکہ ہیڈ عمران شریف کو بالواسطہ ذمہ دار قرار دے کر ایکشن شروع کر دیا گیا ہے۔

قائمہ کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ کے دوران چیئرمین ریلوے مظہر علی شاہ نے بتایا کہ ملک میں سالانہ 35 سے 38 ہزار ٹرینوں کی آمدورفت ہوتی ہے جس سے حادثات کی شرح محض 0.02 فیصد بنتی ہے، اور ریلوے انتظامیہ محدود وسائل کے باوجود اپنے محنتی عملے کی مدد سے انجنوں، بوگیوں اور ٹریکس کی بحالی کا کام انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو فراہم کردہ سالانہ اعداد و شمار کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ ٹریک کی خرابی اور بغیر عملے کے پھاٹکوں کے علاوہ، ریلوے سٹاف کی غفلت کے باعث 32 حادثات، رولنگ اسٹاک کی خرابیوں کی وجہ سے 30، تخریب کاری کے نتیجے میں 10، جبکہ باقی حادثات قدرتی آفات و دیگر وجوہات کے باعث پیش آئے۔ ریلوے انتظامیہ نے قائمہ کمیٹی کو پختہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ان تمام حادثات پر قابو پانے اور مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تزویراتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

تربیلا اور منگلا ڈیموں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ؛ بیراجوں پر پانی کے بہاؤ کی صورتحال مستحکم، مجموعی قابلِ استعمال ذخیرہ تسلی بخش

روزینہ اسماعیل, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک کے مختلف دریاؤں، بیراجوں اور بڑے آبی ذخائر میں پانی کی آمد، اخراج اور ذخیرے کے تازہ ترین اعدادوشمار جاری کر دیے ہیں۔ پیر کے روز جاری کردہ سرکاری رپورٹ کے مطابق، دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 49 ہزار 700 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 57 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج 54 ہزار 600 کیوسک، جبکہ خیرآباد پل پر پانی کی آمد اور اخراج 2 لاکھ 18 ہزار کیوسک رہا۔ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 39 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 20 ہزار کیوسک جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 70 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 41 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ملک کے اہم بیراجوں کے اعدادوشمار کے مطابق، جناح بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 33 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 26 ہزار 400 کیوسک، چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 33 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 3 ہزار کیوسک رہا۔ تونسہ بیراج میں پانی کی آمد ایک لاکھ 92 ہزار 900 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 70 ہزار 600 کیوسک، گدو بیراج میں پانی کی آمد ایک لاکھ 55 ہزار 400 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 14 ہزار 200 کیوسک، سکھر بیراج میں پانی کی آمد ایک لاکھ 6 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 53 ہزار 400 کیوسک، جبکہ کوٹری بیراج میں پانی کی آمد 38 ہزار کیوسک اور اخراج صفر ریکارڈ کیا گیا۔ تریموں بیراج میں پانی کی آمد 35 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 20 ہزار کیوسک جبکہ پنجند بیراج میں پانی کی آمد 14 ہزار 600 کیوسک اور اخراج صفر رہا۔

آبی ذخائر کی صورتحال کے مطابق، تربیلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1480.52 فٹ ہے، جبکہ اس کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ اور انتہائی سطح 1550 فٹ ہے؛ یہاں آج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.101 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ منگلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1166.05 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ اس کا کم از کم لیول 1050 فٹ اور انتہائی سطح 1242 فٹ ہے؛ یہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.391 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اسی طرح چشمہ بیراج کے ذخیرے میں پانی کی موجودہ سطح 646.40 فٹ ہے، جبکہ اس کا کم از کم لیول 638.15 فٹ اور انتہائی سطح 649 فٹ ہے؛ یہاں آج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.189 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو زراعتی مقاصد کے لیے انتہائی معاون ہے۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیرِ اہتمام 51 ویں انٹرنیشنل نتھیا گلی سمر کالج کا باضابطہ آغاز؛ پانچ براعظموں کے 20 ممالک سے ممتاز سائنسدان پاکستان پہنچ گئے

منصور احمد, JULY 06,2026

نتھیا گلی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کے زیرِ اہتمام 51 ویں سالانہ بین الاقوامی نتھیا گلی سمر کالج 2026 کا باضابطہ اور مقتدر آغاز ہو گیا ہے، جس کے باعث پاکستان ایک بار پھر عالمی سائنسی برادری کی توجہ کا محور بن چکا ہے۔ اس تاریخی سائنسی میلے میں شرکت کے لیے دنیا کے پانچ براعظموں کے 20 ممالک سے ممتاز اور مایہ ناز سائنسدان پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کی قائم کردہ یہ مقتدر عالمی سائنسی روایت گزشتہ پانچ دہائیوں سے مسلسل جاری ہے، جو پاکستان کے تزویراتی اور سائنسی وقار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس سال سمر کالج میں 45 عالمی شہرت یافتہ سائنسدان مصنوعی ذہانت ، جدید صنعت، صحت، زراعت، کوانٹم ٹیکنالوجی اور توانائی جیسے جدید ترین سائنسی موضوعات پر خصوصی نشستوں میں سیر حاصل گفتگو کریں گے۔

انٹرنیشنل سمر کالج کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی اے ای سی ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہا کہ نتھیا گلی سمر کالج نصف صدی سے سائنسی تعاون کا عالمی مرکز بنا ہوا ہے اور پروفیسر عبدالسلام کا وژن آج بھی دنیا بھر کے سائنسدانوں کی رہنمائی کر رہا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی ماہرین کی بھرپور شرکت کو پاکستان پر عالمی سائنسی اعتماد کا مقتدر اظہار قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی ہی کسی بھی ملک کی قومی ترقی کی بنیادی طاقت ہوتی ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت اور کوانٹم ٹیکنالوجی جیسی جدید ایجادات اب مستقبل کا رخ بدل رہی ہیں۔ ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے زور دیا کہ پاکستان کو عالمی صف میں شامل رہنے کے لیے سائنسی تحقیق کے میدان میں اپنی سرمایہ کاری کو مزید بڑھانا ہوگا، کیونکہ ہمارے نوجوان سائنسدان ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی اصل ضمانت ہیں۔

چیئرمین پی اے ای سی نے ادارے کی مقتدر خدمات اور قومی دھارے میں اس کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس وقت پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چھ نیوکلیئر پاور پلانٹس قومی گرڈ کو بلا تعطل صاف اور سستی توانائی فراہم کر رہے ہیں، جو ملکی ترقی میں اہم سنگِ میل ہے۔ اس کے علاوہ، انسانی صحت کے شعبے میں پی اے ای سی کے زیرِ انتظام چلنے والے 21 جدید کینسر ہسپتال اور مراکز ملک بھر کے 80 فیصد کینسر کے مریضوں کو علاج معالجے کی مقتدر سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کمیشن اپنی جدید زرعی تحقیق کے ذریعے ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے میں مصروفِ عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی اے ای سی بنیادی سائنس اور جدید تحقیق میں مسلسل آگے بڑھ رہا ہے اور بین الاقوامی سائنسی تعاون ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ علم، تحقیق اور جدت ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی واحد ضمانت ہیں۔

لاہور ڈیفنس غیر ملکی خاتون زیادتی کیس؛ تین مرکزی ملزمان کا ڈی این اے متاثرہ خاتون سے میچ کر گیا، تفتیش میں اہم پیشرفت

کاشف عباسی , JULY 06,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے مقتدر علاقے ڈیفنس (ڈی ایچ اے) میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور اجتماعی زیادتی کے ہائی پروفائل کیس میں تفتیش کے دوران ایک بہت بڑی اور مقتدر پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں واقعے میں ملوث تین مرکزی ملزمان کا ڈی این اے متاثرہ خاتون سے مکمل طور پر میچ کر گیا ہے۔ پنجاب فارنزک سائنس لیبارٹری کی جانب سے جاری کردہ مقتدر رپورٹ کے مطابق، پولیس کے ہاتھوں گرفتار تین مرکزی ملزمان کے حاصل کردہ ڈی این اے نمونے متاثرہ غیر ملکی خاتون کے نمونوں سے بالکل مطابقت رکھ چکے ہیں، جس سے ملزمان کے خلاف سائنسی شواہد پختہ ہو گئے ہیں۔

تفتیشی ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، اس دلدوز اور گھناؤنے واقعے میں ’نواز‘ نامی شخص کا مرکزی اور کلیدی کردار سامنے آیا ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نواز نے ہی سب سے پہلے مذکورہ غیر ملکی خاتون کو زبردستی اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور ناصرف خود یہ سنگین جرم کیا، بلکہ اس نے جائے وقوعہ پر موجود اپنے دیگر جرائم پیشہ ساتھی ملزمان کو بھی اس قبیح فعل کے لیے باقاعدہ اکسایا۔ تفتیشی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ملزم نواز کے اکسانے پر ہی وہاں موجود دیگر دو مقتدر ملزمان ساجد اور سکندر نے بھی باری باری غیر ملکی خاتون کو اپنی درندگی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے مقدمے کی شفافیت کے لیے مجموعی طور پر آٹھ گرفتار ملزمان کے ڈی این اے سیمپلز کراس میچنگ کے لیے فارنزک لیبارٹری بھجوائے تھے، جن میں سے تین کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ دیگر ملزمان کے سیمپلز کا مزید تزویراتی تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ اس ہائی پروفائل کیس کے حوالے سے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کے مطابق، اب تک پولیس کی مقتدر ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر آٹھ ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے۔ واقعے کے روز گاڑی کے ایکسیڈنٹ کے بعد غیر ملکی لڑکیاں خوفزدہ ہو کر ایک قریبی اسٹور میں چھپ گئی تھیں، جہاں سے پولیس نے انہیں فوری طور پر اپنی حفاظتی تحویل میں لیا تھا۔ تفتیشی حکام نے پُرعزم الفاظ میں واضح کیا ہے کہ فارنزک لیبارٹری سے ڈی این اے رپورٹ مثبت آنے اور متاثرہ خاتون کا دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے مقتدر بیان پہلے ہی ریکارڈ ہونے کے بعد، اب تمام ملزمان کے خلاف ٹھوس سائنسی و قانونی چالان مکمل کر کے سخت سزا کے لیے فوری طور پر متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

پنجاب پولیس کا سنگین جرائم میں مطلوب عناصر کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن؛ رواں سال لاہور سمیت صوبہ بھر سے 87 ہزار سے زائد اشتہاری مجرمان گرفتار

منصور احمد, JULY 06,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

پنجاب پولیس نے صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال کو مستحکم رکھنے اور سنگین جرائم میں مطلوب مقتدر اشتہاریوں، عادی مجرمان اور عدالتی مفروروں کے خلاف تزویراتی کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ پنجاب پولیس کے ترجمان کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ مقتدر اعداد و شمار کے مطابق، پولیس ٹیموں نے رواں سال لاہور سمیت صوبہ بھر کے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتے ہوئے اب تک پچاسی ہزار سے زائد کی ریکارڈ سطح کو عبور کرتے ہوئے مجموعی طور پر ستاسی ہزار سے زائد مقتدر اشتہاری مجرمان کو قانون کے شکنجے میں جکڑ لیا ہے۔

ترجمان پنجاب پولیس نے گرفتاریوں کی مقتدر تفصیلات فراہم کرتے ہوئے واضح کیا کہ گرفتار ہونے والے خطرناک اشتہاری مجرمان میں انتہائی سنگین جرائم میں مطلوب ’اے کیٹگری‘ کے 23 ہزار 583 اور ’بی کیٹگری‘ کے 63 ہزار 881 اشتہاری شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، صوبہ بھر سے مختلف عدالتوں کو مطلوب 27 ہزار سے زائد عدالتی مفروروں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جن میں ’اے کیٹگری‘ کے 4 ہزار 331 اور ’بی کیٹگری‘ کے 23 ہزار سے زائد مفرور شامل ہیں جنہوں نے قانون سے بچنے کے لیے روپوشی اختیار کر رکھی تھی۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق، معاشرے کے امن کو تہہ و بالا کرنے والے 10 عادی مجرمان کے خلاف بھی گھیرا تنگ کیا گیا اور رواں سال 10 ہزار 632 عادی مجرم گرفتار کیے گئے، جن میں ’اے کیٹگری‘ کے 3 ہزار 832 اور ’بی کیٹگری‘ کے 6 800 مجرم شامل ہیں۔ ترجمان نے صوبائی دارالحکومت کی کارکردگی کا مقتدر حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ صرف لاہور میں پولیس نے بہترین کارروائی کرتے ہوئے 19 ہزار 103 اشتہاری مجرمان، 8 ہزار 938 عدالتی مفرور اور 4 ہزار 214 عادی مجرموں کو گرفتار کر کے جیل منتقل کیا ہے، جس سے شہر میں جرائم کی شرح میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی ایمانداری؛ سوات ایکسپریس وے پر شہری کا گمشدہ بٹوا نقد رقم اور اہم دستاویزات سمیت واپس لوٹا دیا

منصور احمد, JULY 06,2026

سوات/چکدرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے سوات ایکسپریس وے پر فرض شناسی اور دیانتداری کی ایک اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے ایک شہری کا سڑک پر گم ہونے والا قیمتی بٹوا، جس میں ہزاروں روپے نقد اور اہم ترین دستاویزات موجود تھیں، بحفاظت اصل مالک کو تلاش کر کے واپس لوٹا دیا ہے۔ ترجمان موٹروے پولیس کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، سوات ایکسپریس وے پر چکدرہ کے مقام کے قریب معمول کی پیٹرولنگ کے دوران موٹروے پولیس کے الرٹ افسران کو سڑک پر ایک لاوارث بٹوا ملا۔

حکام کے مطابق، جب بٹوے کی باقاعدہ تلاشی لی گئی تو اس میں انیس ہزار روپے سے زائد کی نقد رقم، مختلف بینکوں کے مقتدر اے ٹی ایم کارڈز، قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) اور دیگر اہم سرکاری و ذاتی دستاویزات محفوظ تھیں۔ موٹروے پولیس کے پیٹرولنگ افسران نے بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر تزویراتی کارروائی کا آغاز کیا اور بٹوے کے اندر موجود ڈرائیونگ لائسنس پر درج موبائل نمبر کے ذریعے اصل مالک کا کامیابی سے سراغ لگایا۔ افسران نے شہری سے فوری رابطہ قائم کر کے اسے بٹوا ملنے کی خوشخبری سنائی۔

اطلاع ملتے ہی متعلقہ مقتدر شہری شدید حیرت اور خوشی کے عالم میں فوری طور پر موٹروے پولیس کے قریبی قائم دفتر پہنچا، جہاں موٹروے پولیس کے افسران نے تمام ضروری قانونی، دفتری اور شناختی تصدیق مکمل کرنے کے بعد پوری نقد رقم، کارڈز اور تمام قیمتی اشیاء سمیت بٹوا باقاعدہ طور پر شہری کے حوالے کر دیا۔ اپنا گمشدہ بٹوا تمام اثاثوں سمیت محفوظ پا کر شہری نے گہرے تشکر کا اظہار کیا اور موٹروے پولیس کی اس بے مثال دیانتدارانہ، مخلصانہ اور پیشہ ورانہ کارروائی کو دل سے سراہتے ہوئے موقع پر موجود تمام پولیس افسران کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار؛ خاتون کے تحفظ کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنا بے مثال جرأت ہے

کاشف عباسی , JULY 06,026

لاہور/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاک فضائیہ کے غیور افسر گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت پر گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایک مظلوم خاتون کی جان اور عزت کے مقتدر تحفظ کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے بے مثال جرأت، بہادری اور اعلیٰ فرض شناسی کی ایک لازوال مثال قائم کی ہے۔ پی ایم آفس کے میڈیا ونگ سے پیر کے روز جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنے ایسے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو ہمیشہ انتہائی قدر، فخر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

وزیراعظم نے شہید گروپ کیپٹن عاصم طارق کے تمام اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور مقتدر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ دکھ کی اس گھڑی میں پوری قوم شہید کے مقتدر خاندان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے عاجزانہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے، انہیں اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ اور ارفع مقام عطا کرے اور لواحقین کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی ہمت اور توفیق دے۔ اس کے ساتھ ہی، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے متعلقہ سیکیورٹی اور انتظامی حکام کو سخت تزویراتی ہدایت جاری کی ہے کہ اس دلدوز واقعے کی فوری، مکمل اور شفاف تحقیقات کر کے ذمہ دار ملعون عناصر کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ انصاف کے مقتدر تقاضے پورے ہو سکیں۔

موجودہ گندم پالیسی وفاقی حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے؛ بیس ارب سے زائد کا نقصان اور بدانتظامی کرپشن کے گڑھ ہونے کی گواہی ہے، خالد نواز سدھرآئچ

منصور احمد, JULY 05,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی و صوبائی کسان ونگز نے پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) سے متعلق حالیہ آڈٹ رپورٹ میں کیے گئے سنسنی خیز انکشافات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس رپورٹ کو ملکی غذائی تحفظ، زرعی معیشت اور قومی خزانے کے لیے ایک سنگین تزویراتی خطرہ قرار دیا ہے۔ کسان ونگ کے مرکزی آرگنائزر شیخ وقاص اکرم کی زیرِ صدارت منعقدہ کسان ونگ کے مرکزی و صوبائی عہدیداروں کے ایک مقتدر اجلاس میں اس رپورٹ پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، جس میں مشترکہ طور پر واضح کیا گیا کہ یہ محض ایک ادارے کی ناکامی نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی مجموعی گندم پالیسی کی مکمل ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اجلاس میں ہونے والے فیصلوں اور شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کسان ونگ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات خالد نواز سدھرآئچ نے اتوار کے روز اپنے جاری کردہ مقتدر بیان میں کہا کہ اس آڈٹ رپورٹ نے پاکستان کے تمام عوام اور بالخصوص کسان کمیونٹی میں شدید غم وغصے اور اضطراب کی لہر پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسان کمیونٹی اور پی ٹی آئی کسان ونگز کی یہ مشترکہ رائے ہے کہ عوام کے سامنے جوابدہی سے آزاد فارم پینتالیس کی حکومت قومی مفادات کا تحفظ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق پاسکو کو صرف ایک سال کے قلیل عرصے میں بیس ارب روپے سے زائد کا خطیر مالی نقصان برداشت کرنا پڑا، جبکہ گزشتہ چند برسوں میں مجموعی خسارہ اکیس ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، اور اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ دوسو ستاون ارب روپے سے زائد کی بھاری رقم مختلف سرکاری اداروں سے تاحال وصول نہیں کی جا سکی۔

خالد نواز سدھرآئچ نے گندم کی مبینہ خرد برد، باردانہ کی غیر شفاف اور ناقص تقسیم، غیر قانونی خریداریوں اور سنگین انتظامی بے ضابطگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے ثابت کر دیا ہے کہ حکومتی ادارے بدانتظامی اور کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاسکو کا بنیادی تزویراتی مقصد کسانوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنا، گندم کی مارکیٹ کو مستحکم رکھنا اور ملک کے غذائی ذخائر کو محفوظ بنانا تھا، مگر ناقص حکومتی پالیسوں نے اس اہم قومی ادارے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور اب حکومت اس ادارے کو ہی ختم کرنے کی راہ پر گامزن ہے، جو مستقبل میں ملکی غذائی تحفظ کے لیے مزید سنگین خطرات پیدا کرے گا۔ پی ٹی آئی کسان ونگ نے حکومت سے سخت سوال کیا کہ گندم اور دیگر زرعی اجناس کو ذخیرہ کرنے والے پاسکو کے ملکیتی گودام کسانوں کا استحصال کرنے والے مخصوص نجی افراد یا اداروں کے حوالے کس منطق کے تحت کیے گئے، کیونکہ عوام کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ ان مقتدر قومی اثاثوں کا نجی استعمال کن بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔

ترجمان کسان ونگ نے فلورملز مالکان کی جانب سے گندم کے ذخائر کی مبینہ سرکاری ضبطگی کے الزامات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر نجی شعبے کے قانونی ذخائر کو طاقت کے ذریعے قبضے میں لیا جا رہا ہے تو یہ آزاد منڈی کے دعووں کی کھلی نفی اور کاروباری اعتماد کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے، جس کی فوری اور آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ گندم پالیسی نے کسان اور صارف دونوں کو بیک وقت شدید مالی نقصان پہنچایا ہے، کیونکہ فصل کٹائی کے وقت کسان اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل نہیں کر پاتا جبکہ چند ماہ بعد غریب عوام کو آٹا اور گندم مہنگے داموں خریدنا پڑتی ہے، جس کا پورا فائدہ صرف مڈل مین، ذخیرہ اندوزوں اور مخصوص مفاداتی گروہوں کو پہنچایا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کسان ونگز اور کسان کمیونٹی نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ پاسکو آڈٹ میں سامنے آنے والی تمام بے ضابطگیوں، مالی بدعنوانیوں، گندم کی خرد برد، باردانہ اسکینڈل اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصانات کی فوری طور پر ایک آزاد اور شفاف مقتدر تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار عناصر کو بلاامتیاز قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

وزارتِ اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ کا بڑا فیصلہ؛ رجسٹرڈ محنت کشوں کے مزید ایک لاکھ بچوں کو مفت تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کی منظوری

روزینہ اسماعیل, JULY 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ چوہدری سالک حسین کی خصوصی ہدایت پر ورکرز ویلفیئر فنڈ کے تحت رجسٹرڈ محنت کشوں کے مزید ایک لاکھ بچوں کو بالکل مفت تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کا مقتدر فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومتی اعلامیے کے مطابق، اس اہم ترین اور پُرعزم اقدام کا بنیادی مقصد محنت کش خاندانوں کے بچوں کو معیاری تعلیم تک مساوی و مقتدر رسائی فراہم کرنا اور انہیں مالی مشکلات یا کٹھن حالات کے باعث تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہونے سے ہر صورت بچانا ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق، اس فلاحی منصوبے کے تحت رجسٹرڈ محنت کشوں کے تمام مستحق بچوں کو جماعتِ اول سے لے کر انٹرمیڈیٹ (بارہویں جماعت) تک تمام مقتدر تعلیمی سہولیات اور اخراجات فراہم کیے جائیں گے۔ وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے متعلقہ انتظامی حکام کو سخت تزویراتی ہدایت جاری کی ہے کہ ایک لاکھ بچوں کو مفت تعلیم کی فراہمی کے اس بڑے منصوبے پر فوری، شفاف اور مؤثر انداز میں عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، کیونکہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی حق ہے اور اسے کسی بھی مخصوص طبقے کی مراعات نہیں سمجھا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق محنت کش خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات کر رہی ہے، اور اس انقلابی منصوبے کے ذریعے جہاں ایک لاکھ بچوں کو علم کے زیور سے آراستہ کیا جائے گا، وہی ایک لاکھ خاندانوں کو بہتر اور محفوظ مستقبل کی ایک نئی امید فراہم ہوگی۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ کو ایک جدید، مؤثر اور مکمل طور پر عوام دوست ادارہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ملک کے محنت کش طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف اور مقتدر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ چوہدری سالک حسین کا پُرعزم الفاظ میں کہنا تھا کہ محنت کشوں کے بچوں کی بہترین تعلیم ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی اصل ضمانت ہے؛ جس ہاتھ نے محنت مزدوری کر کے پاکستان کو بنایا ہے، اب اسی کے بچے پڑھ لکھ کر پاکستان کا مقتدر مستقبل لکھیں گے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اس منصوبے کے ذریعے ورکرز ویلفیئر فنڈ کی تعلیمی سہولیات کا دائرہ کار ملک بھر میں مزید وسیع کیا جائے گا، جس سے ہزاروں محنت کش خاندان براہِ راست مستفید ہوں گے۔